دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ہندوتوا، بھارتی سفارت کاری کی ناکامی اور خطے کو درپیش خطرات
No image بھارت اس وقت ایک ایسے نظریاتی اور سفارتی بحران سے دوچار ہے جس کی جڑیں براہِ راست ہندوتوا کے انتہاپسندانہ تصور میں پیوست ہیں۔ بظاہر خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے والا ملک آج عملاً ایک کٹر ہندو ریاست کی صورت اختیار کر چکا ہے جہاں مذہبی اقلیتوں کے لیے زمین تنگ اور اختلافِ رائے کو ریاست دشمنی قرار دیا جا رہا ہے۔ ہندوتوا کا یہ نظریہ صرف بھارت کے اندرونی سماجی توازن کو ہی تباہ نہیں کر رہا بلکہ خطے میں بھارت کو سفارتی تنہائی اور عالمی سطح پر سنگین چیلنجز سے بھی دوچار کر رہا ہے۔ یہ باتیں پہلے تو شاید اس قدر کھلے انداز میں سامنے نہیں آ رہی تھیں لیکن اب تو اہم صحافتی ادارے واضح طور پر اس بارے میں نہ صرف لکھ رہے ہیں بلکہ حقائق پر مبنی رپورٹوں کے ذریعے بتا بھی رہے ہیں کہ کس طرح بھارت نہ صرف اپنے لیے بلکہ خطے میں واقع دیگر ممالک کے لیے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
امریکی جریدے ’فارن افیئرز‘ نے اپنے تازہ تجزیے میں کہا ہے کہ بھارت کا خود کو امریکا کا ایک مضبوط تزویراتی ستون قرار دینے کا دعویٰ حالیہ واقعات کے بعد کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ مئی 2025ء کی پاکستان بھارت جنگ کے بعد واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات تاریخ کے شدید ترین تناؤ سے گزر رہے ہیں۔ جنگ بندی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو پاکستان نے کھلے دل سے سراہا جبکہ بھارت نے امریکی ثالثی کو مسترد کیا۔ امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کی سفارتی اور عسکری کامیابیوں کا بار بار ذکر اور پاکستانی قیادت کے ساتھ مثبت روابط بھارت کے لیے سفارتی سطح پر سبکی کا باعث بنے۔ جریدے کے مطابق، امریکی صدر نے بھارت کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے پر دستخط سے انکار کیا اور بھارتی برآمدات پر اضافی محصولات عائد کیے جس سے دوطرفہ تعلقات مزید متاثر ہوئے۔ ان اقدامات کے باعث امریکا میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ بھارت ایک قابلِ اعتماد تزویراتی شراکت دار کے طور پر ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام دوہرے معیار کے بجائے برابری اور حقیقت پسندانہ سفارتی تعلقات سے ہی ممکن ہے۔ خطے میں بھارت کا علاقائی اثر و رسوخ کمزور ہونے لگا ہے اور اس کے ہمسایہ ممالک بتدریج نئی سفارتی سمت اختیار کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش اور میانمار اب بھارت کے روایتی اثر سے نکل کر پاکستان اور چین کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہے ہیں۔ ایران کی چابہار بندرگاہ سے علیحدہ ہونے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے ہی ملک میں تنقید کا سامنا جاری ہے۔ اس حوالے سے اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے پھر نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ویڈیو ریلیز کی جس میں لکھا کہ ’نریندر نے پھر کیا ٹرمپ کے آگے سرینڈر۔‘ معاہدہ کرنے پر اسے بڑی کامیابی کہنے والے مودی چابہار کا کنٹرول چھوڑنے پر خاموش ہیں۔ واضح رہے سال 2024ء میں بھارت نے 10 سال کے لیے ایران کی چابہار بندرگاہ کا انتظام سنبھالا تھا لیکن امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد بھارت نے ایران کی اس بندرگاہ سے عملی طور پر علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
بھارت کی موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو صاف نظر آ رہا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ہندوتوا کو ریاستی پالیسی کا درجہ دے دیا ہے۔ مودی کی حکومت میں بالعموم تمام اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ، قانون سازی اور ریاستی جبر معمول بن چکا ہے۔ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، این آر سی، ہجوم کے ذریعے لوگوں تشدد، عبادت گاہوں پر حملے اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر سیاسی تقسیم نے بھارت کی سیکولر شناخت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل بھارت میں مذہبی آزادی کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ سمیت کوئی بھی عالمی یا بین الاقوامی ادارہ اس سب کو روکنے کے لیے بھارت کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کر رہا۔
بھارت کے اندر مذہبی اقلیتوں کے لیے حالات روز بروز مشکل سے مشکل تر ہوتے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں کی مساجد مسمار کی جا رہی ہیں، عیسائی مشنریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سکھ برادری کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن، صحافیوں کی گرفتاری اور سول سوسائٹی پر دباؤ نے بھارت کو ایک آمرانہ طرزِ حکومت کے قریب لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے حالات میں بھارت کا جمہوریت اور انسانی حقوق کے چیمپئن ہونے کا دعویٰ عالمی سطح پر بے وزن دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ مسلسل کشیدگی بھی اسی انتہاپسندانہ ذہنیت کا شاخسانہ ہے۔ خطے میں امن و استحکام کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کے بجائے بھارت نے جارحانہ بیانیے، سرحدی اشتعال انگیزی اور یکطرفہ اقدامات کو ترجیح دی ہے۔ یہ روش نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے، خصوصاً اس لیے کہ دونوں ممالک جوہری صلاحیت رکھتے ہیں۔
کشمیر کا مسئلہ بھارتی ہٹ دھرمی کی سب سے واضح مثال ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور طویل فوجی لاک ڈاؤن اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت اقوامِ عالم کے طے شدہ اصولوں کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں۔ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم نہ کرنا اور اسے زبردستی بھارتی یونین کا حصہ قرار دینا کسی بھی پُر امن اور ذمہ دار ریاست کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ یہ رویہ بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اقدار دونوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان تمام حقائق کی روشنی میں بین الاقوامی برادری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت کے دوہرے معیار اور انتہاپسندانہ پالیسیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔ اگر دنیا واقعی انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور عالمی امن کی داعی ہے تو اسے بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات پر نظرِ ثانی کرنا ہو گی۔ سفارتی دباؤ، اخلاقی مذمت اور بین الاقوامی سطح پر مقاطعہ جیسے اقدامات ہی وہ ذرائع ہو سکتے ہیں جن کے ذریعے بھارت کو سیدھا کیا جا سکتا ہے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں