شرافت رانا ایڈووکیٹ
سال 2001 کا واقعہ ہے ۔ بطور سول جج میجسٹریٹ فرسٹ کلاس پوسٹنگ ہوئے بھی چند مہینے گزرے تھے ۔ سرگودھا میں اپنی ڈیوٹی کر رہا تھا ۔ تجربہ اور کریمنل لا کے بارے میں معلومات بھی محدود تھیں ۔
عدالتی وقت ختم ہونے کے قریب تھا ۔ اچانک 30/ 40 گاڑیاں مسلح پختون پختون خواہ کی پولیس اور سرگودھا پولیس میری عدالت میں پیش ہوئے ۔
ڈسٹرکٹ بونیر کے علاقہ مجسٹریٹ کا ایک وارنٹ مجھے پیش کیا گیا ۔ جس کے تحت بونیر پولیس نے سرگودھا پولیس کی معاونت سے ایک خاتون کو سرگودھا کی تحصیل میں آ کر زیر دفعہ 100 تلاش کر کے میری عدالت میں پیش کیا ہے اور اسے بونیر لے جانا چاہتی تھی ۔
سب سے پہلے تو میں علاقہ میجسٹریٹ بونیر کی صلاحیت پر حیران ہوا جس نے اپنے علاقہ کے باہر اپنے ضلع سے باہر اپنے صوبہ سے باہر سرچ وارنٹ جاری کر دیا ۔ یاد رہے کہ کسی بھی میجسٹریٹ کو اپنی جیورسڈکشن یعنی اپنے علاقہ میں ۔ جس علاقہ کا اسے میجسٹریٹ بنایا گیا ہے یا اختیار دیا گیا ہے ۔ اس علاقہ میں کسی بھی عمارت کے اندر سرچ کرنے کا وارنٹ جاری کرنے کا اختیار ہوتا ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر سرچ وارنٹ کا اختیار کسی میجسٹریٹ کے پاس نہیں ہوتا ۔
لیکن اس سے زیادہ بڑی زیادتی بدنظمی اور نالائقی کی انتہا یہ تھی کہ وہ سرچ وارنٹ تھرو پراپر چینل یعنی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بونیر کی عدالت سے انڈورس ہوا ۔ وزارت داخلہ پختون خواہ سے انڈورس ہوا ۔ وزارت داخلہ پنجاب سے انڈورس ہوا اور ضلع سرگودھا کے ڈی پی او افس سے پولیس کو اس پر عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ۔ کسی بھی جگہ اس قانونی سقم کی نشاندہی نہیں کی گئی کی گئی اور غیر قانونی پروسیس کو روکنے کی کوشش نہیں کی گئی ۔
بہرحال اس صورتحال میں بطور ایک جونیئر مجسٹریٹ میں اپنے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ انہیں صورتحال سے اگاہ کیا اور بتایا کہ جھگڑا یا حالات خراب ہونے کا اندیشہ ہے ۔ وہ اس میں میری رہنمائی کریں ۔ 20 سالہ نوکری میں یہی پایا ہے کہ سینیئر افیسر کبھی نہ رہنمائی کرتے ہیں اور نہ تحفظ دیتے ہیں ۔
سب معاملات کو جونیئر افیسر کو خود ہی بھگتنا ہوتا ہے ۔
بہرحال میں نے سب سے پہلے ڈی پی او سرگودھا کو پیغام بھجوایا اور اپنی عدالت اور فریقین کی سیکیورٹی کے لیے پولیس طلب کی ۔
حملہ اور پختون خواہ کے کم از کم 10 گاڑیوں پر سوار 50 سے زائد مسلح لوگوں کو عدالت سے دور کروایا ۔
بونیر پولیس اور سرگودھا پولیس کی بات سنی جس خاتون کو سرچ وارنٹ کے تحت پیش کروایا گیا تھا وہ اردو یا پنجابی بولنے یا سمجھنے کی استعداد نہیں رکھتی تھی ۔
فوری طور پر صدر بار کی معاونت سے سرگودھا میں پریکٹس کرنے والے ایک پختون وکیل کو گھر سے بلوایا کہ جس پر میں اعتماد کر سکوں کہ وہ درست ترجمہ کرے گا ۔
17/18 سال کی معصوم بچی تھی اور عمومی طور پر پختون بچیاں اسی قدر معصوم ہوتی ہیں کہ انہیں سماجی شعور بالکل نہیں ہوتا ۔
بچی کے والد نے درخواست دی تھی کہ بچی کو بنیر سے اغوا کر کے ایک پنجابی درزی نے سرگودہا کی ایک تحصیل میں اپنے گھر میں یرغمال بنا رکھا ہے ۔
بچی کا بیان جب لکھا تو اس نے بتایا کہ میرا خاوند معذور ہے ۔ اسے یہاں رشتہ نہیں مل رہا تھا وہ درزی کا کام کرتا ہے اس نے کسی کی وساطت سے میرے والد کو ڈیڑھ لاکھ روپیہ ادا کر کے میرے سے نکاح کیا ۔ میری شادی ہوئی اور بونیر سے یہاں لے کر آیا ۔ ڈیڑھ سال سے میں یہاں بخوشی اور مطمئن زندگی گزار رہی ہوں ۔
بچی سے میں نے سوال کیا کہ اب یہ تمہیں لینے کیوں آئے ہیں ۔ اس نے بتایا کہ اب میرے والد نے کسی دوسرے فرد سے سودا کر لیا ہے اور یہ سب گاڑیاں وغیرہ وہ دوسرا شخص ارینج کر کے لایا ہے ۔ میری اطلاع کے مطابق اب میرے والد کو پانچ لاکھ روپے دیے گئے ہیں ۔
میں نے بچی سے سوال پوچھا کہ کیا وہ درزی کے گھر رہنا چاہتی ہے یا اپنے والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہے تو بچی نے کہا کہ جیسے اپ کی مرضی یا میرے والد کی مرضی ۔ آپ جو فیصلہ کر دیں گے میں دونوں صورتوں میں خوش ہوں ۔
اس ساری صورتحال میں اور جس گھر میں جس درزی کے ہاں بچی مقیم تھی بطور بیوی کے اس کے پاس نکاح کے دستاویزات اور گواہان کی موجودگی میں میں نے بچی کو واپس اس کے خاوند کے ہاں بھجوانے کا فیصلہ کیا ۔ رات اٹھ بجے جب میں یہ آرڈر کرنے کے بعد اپنی عدالت سے اپنے گھر جانا چاہ رہا تھا تو مجھے پنجاب پولیس کی چار گاڑیوں میں اسکارٹ کر کے گھر پہنچایا کیونکہ پختون خواہ سے ائے ہوئے وہ گاڑیاں ابھی سرگودہا کی سڑکوں پر پھر رہی تھیں ۔
یہ واقعہ میری زندگی کا واحد واقعہ نہیں ہے بلکہ اسی طرح کے کم از کم چار دیگر واقعات بھی میری زندگی میں اسی طرح رونما ہوئے ۔
حیرانگی اس بات پر ہوتی ہے کہ جب قانون نے مختلف لیول ایسے معاملات کی روک تھام کے لیے انسپیکشن کے لیے رکھ رکھے ہیں وہ کیوں سٹیریو ٹائپ احکام جاری کر کے ان کی روک تھام کرنے کی بجائے انہیں بڑھوتری دیتے ہیں ۔
ابھی حال ہی میں کچے کے علاقہ میں مبینہ طور پر اغوا شدہ بچی کے معاملات میری سمجھ میں کچھ اسی واقعہ کے پیٹرن پر آتے ہیں ۔
واپس کریں