دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ٹرمپ کتنے قابل اعتبار؟
حامدمیر
حامدمیر
آج کی دنیا تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ ہم کسی موڑ پر ان تضادات سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ کہیں ان تضادات سے بچ کر آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن کہیں کہیں ان تضادات سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایسے ہی کچھ تضادات چیلنج بن کر کھڑے ہیں۔
2018ء میں اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو جھوٹا اور دھوکے باز قرار دیا تھا۔ 2026ء میں اپنے دوسرے دورِ صدارت میں ٹرمپ پاکستان اور اسکی قیادت کی پچاس سے زائد مرتبہ تعریف کر چکے ہیں۔ کیا اس” تعریف “ کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بہت اچھے ہیں؟ بظاہر تو یہ تعلقات بڑے اچھے نظر آتے ہیں۔ پاکستان نے دو سال میں دو دفعہ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کیا۔ 2025ء میں پاکستان کی طرف سے نامزدگی کے بعد ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کر دیا ۔دوسری مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کیا تو کچھ عرصے کے بعد امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر پھر حملہ کر دیا۔ تنازعات سے بھری اس دنیا میں لوگ حیران تھے کہ پاکستان کے علاوہ جس ملک نے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کیا وہ اسرائیل تھا۔ جب فروری 2026ء میں امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر دوسرا حملہ کیا تو پاکستان نے سیز فائر کیلئے کوشش شروع کر دی۔ وہ ایران جس نے 2024ء میں پاکستان پر ایک میزائل حملہ کیا تھا۔ وہ ایران 2026ء میں پاکستان کو ثالث کے طور پر قبول کرنے کیلئے تیار تھا اور 8 اپریل کو پاکستان نے ایران اور امریکہ میں سیز فائر کا اعلان کر دیا۔ پھر پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کا اہتمام کیا۔ مذاکرات سے قبل ہی کچھ نکات پر دونوں فریقین نے اتفاق کر لیا تھا۔ ان مذاکرات کا مقصد سیز فائر میں توسیع اور ایک عبوری معاہدے کا اعلان تھا جس کے بعد چند ہفتوں میں جامع معاہدے تک پہنچنا تھا۔ اس عبوری معاہدے کی دستاویز تیار تھی اور دستخط بھی ہونے والے تھے کہ اچانک امریکی وفد ان مذاکرات کو ادھورا چھوڑ کر چلا گیا۔ یہ صرف ایرانی وفد کی نہیں بلکہ ثالث کی بھی توہین تھی لیکن ٹرمپ نے پاکستانی قیادت کی بار بار تعریف کر کے اسے سبکی سے بچا لیا۔مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں شرکت کیلئے ٹرمپ خود اسلام آباد آنا چاہتے تھے لیکن اب ایرانی حکومت ان پر اعتبار کیلئے تیار نہ تھی۔ ایران کو مذاکرات میں واپس لانے کیلئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خود تہران گئے اور ایرانی قیادت سے کہا کہ اگر امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ نہ ہوا تو سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کا ہو گا۔ظاہر ہے اس دلیل کا ایران کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ ایران نے ایک دفعہ پھر مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دی اور طے یہ ہوا کہ دونوں اطراف آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کریں گے اور مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ اسلام آباد میں ہوگا۔ ایک دفعہ پھر ٹرمپ نے ایسے بیانات دیے جن کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا اور مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ ملتوی ہو گیا۔ ٹرمپ اپنے دورہ چین سے قبل ایران کےساتھ معاہدہ کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ ایران کے بعد شمالی کوریا کے ساتھ بھی کسی بریک تھرو کی امید رکھتے تھے۔ اس مرتبہ ایرانی قیادت نے ٹرمپ کو نیچا دکھانے کا فیصلہ کر لیا اور 13 مئی کو ٹرمپ جب چین پہنچے تو ان کے ہاتھ ایران کے ساتھ معاہدے کی دستاویز سے خالی تھے۔ ٹرمپ کا دورہ چین ناکام رہا اور انہیں یہ بھی پتہ چل گیا کہ اس ناکامی میں اصل کردار ایران کا ہے۔ دوسری طرف ان کے پاس ایران کے ساتھ معاہدے کے سوا کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش نے بہت بڑا عالمی معاشی بحران پیدا کردیا تھا۔ پہلے ایران کے خلاف جنگ میں اترنے سے ناکامی ہوئی پھر سفارتی محاذ پر بھی ناکامیاں تھیں۔ٹرمپ ان ناکامیوں کو کامیابی میں بدلنا چاہتے تھے۔انہوں نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی کے ساتھ مشروط کرنے کی کوشش کی۔ ٹرمپ نے پاکستان اور سعودی عرب سمیت دیگر مسلم ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کریں۔ٹرمپ کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے منہ پر زوردار طمانچہ تھا۔ فلسطینیوں پر ہونے والا ظلم و ستم کوئی مذہبی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے اور اسرائیل صرف مسلم دنیا میں نہیں بلکہ یورپ میں بھی جبر واستبداد اور تشدد کی علامت بن چکا ہے۔ ٹرمپ کا خیال تھا کہ پاکستان کے پاس انکار کا آپشن نہیں ہے۔ پاکستان ہاں کرے گااور اس کے بعد سعودی عرب بھی ہاں کردےگا۔ پھر ایران اور امریکہ میں امن معاہدہ ہو جائیگا اور یہ معاہدہ ٹرمپ کی ایک عظیم سیاسی و سفارتی فتح میں تبدیل ہو جائیگا۔ ٹرمپ کے تمام اندازے غلط نکلے۔ پاکستان اور سعودی عرب نے واضح طور پر یہ موقف اختیار کیا کہ جب تک اسرائیل ایک آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرتاجس کا دارالحکومت القدس ہو اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس موقف کا اعادہ امریکہ میں بیٹھ کر بھی کر دیا۔ دوسرے الفاظ میں پاکستان نے ٹرمپ پر واضح کر دیا کہ آپ ایران کے ساتھ امن معاہدہ کریں یا نہ کریں یہ آپ کی مرضی ہے لیکن ہماری کوئی مجبوری نہیںہے۔ ہم نے آپ کی دھونس میں آکر معاہدہ ابراہیمی کا حصہ نہیں بننا۔ ٹرمپ نے ایک غلط وقت پر انتہائی غلط انداز میں ایران کے ساتھ امن معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی کے ساتھ مشروط کرکے ایک ایسی غلطی کی جس کا آنے والے وقت میں امریکہ کو بہت نقصان ہوگا۔
اب اگر امریکہ اور ایران میں امن معاہدہ ہو بھی جاتا ہے تو پاکستان سمیت اکثر مسلم ممالک میں امریکہ پر کوئی اعتبار نہیں کرےگا۔ یہ بھی درست ہے کہ ٹرمپ پوری امریکی رائے عامہ کی ترجمانی نہیں کرتے لیکن وہ اس طاقتور لابی کے نمائندے ضرور ہیں جو امریکہ میں فیصلہ سازی کرتی ہے۔ یہ لابی ہر صورت میں ایران کا ایٹمی پروگرام بند کرنا چاہتی ہے۔ کیا یہ لابی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نظرانداز کرتی رہے گی؟ آج نہیں تو کل امریکہ نے ایران کے ساتھ اپنے معاملات طے کر لینے ہیں اور پوری دنیا میں پاکستان کی واہ واہ بھی ہو گی لیکن پاکستان کو اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں محتاط اور ہوشیار رہنا ہے۔ تضادات سے بھری اس دنیا میں پاکستان کو امریکہ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رکھنے چاہئیں لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ ٹرمپ کا قریب ترین دوست نیتن یاہو صرف ایران نہیں بلکہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو بھی ختم کرنا چاہتا ہے اور نیتن یاہو کا قریب ترین دوست نریندر مودی پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے خلاف ہر وقت سازشوں میں مصروف رہتا ہے۔ ایران کے ساتھ معاہدے کے بعد پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف سازشوں کا نیا دور شروع ہونے والا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ ان سازشوں کا حصہ بن جائیں گے یا پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونگے؟جواب ہم سب کو معلوم ہے۔
بشکریہ جنگ
واپس کریں