بدلتی دنیا ۔ ابھرتی ہوئ عالمی طاقت چین اور زوال پذیر عالمی طاقت امریکہ
بادشاہ عادل
امریکہ کی اکنامی war economy پر base کرتی ہے دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ اور امریکہ کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ ہماری جنگوں کا میدان اب یورپ نہیں بلکہ تیسری دنیا ہوا کرے گی ۔ امریکہ کی economy کے لیے تیسری دنیا میں جنگیں کروانا ، دشت گردی اور شدت پسندی پیدا کرنا اک ناگزیر عمل ہے جس کے لیے ذھنی ابیاری سے لے کر معاشی اور سیاسی لوکل کالونیل ڈھانچے بناۓ گیے ۔ سب سے پہلے ہمیں عالمی سامراج نے مذھب کے نام پر تقسیم کر کے ہندو مسلم نفرت پیدا کی اور کشمیر کو جان بوجھ کر اک ایشو کے طور پر عالمی پالیٹیکس کے لیے رکھا اور اس پر دو نوزاٰدہ ممالک انڈیا پاکستان کو آپس میں لڑایا اور ابھی تک لڑایا جا رہا ہے پھر اسلحہ بیچا گیا اور بیچا جا رہا ہے ۔ریجن میں پاکستان کے کسی ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہونے دئے گے اگر انڈیا کے ساتھ حالات تھوڑے بہتر ہوتے ہیں تو انڈیا میں palwama attack ہو جاتا ہے یا پھر بلوچستان میں سرگرمیاں شروع کروا دی جاتی ہیں یا پھر عالمی اسلحہ کے ساہوکاروں کے جہازوں کے کرتب دیکھا کر اسلحہ بیچنے کی نمائش کا اہتمام کیا جاتا ہے اور حالات پھر بگڑ جاتے ہیں ۔ ہندو مسلم نفرت کے بعد بنگالیوں کا قتل عام کروا کر مسلمان کی مسلمان کے ساتھ نفرت کو ابھارا جاتا ہے ، ایران کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے لگتے ہیں تو کلبوشن اہرانی پاسپورٹ پر پکڑا جا تا ہے اور شیعہ سنی فسا دات شروع ہو جاتے ہیں ، افغانستان میں امن کی فضا پیدا ہوتی ہے اور طالبان کے ساتھ تعلقات اچھے بنتے ہیں تو وہاں داعش پلانٹ کی جاتی ہے اور افغانستان کو اسلام سے فارغ کر کے attack کروا دیا جاتا ہے ۔
کیا آپکو یہ اک عالمی سامراج کی strategic and grand planning نہیں لگتی ؟ یا یہ خود بخود ہو رہا یا پھر حالات بناۓ جاتے ہیں ؟ اگر یہی ممالک دس سے پندرہ سال تک اپس میں جنگ نہ کریں , فرقہ پرستی کی ریاستی چھتر ی بند کریں اور تجارتی معاہدات کو فروغ ملے جس طرح ہورپ نے کیا ہوا ہے تو یہ ریجن خوشحال ترین نہیں ہو جاۓ گا ؟ لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان کس کو ہو گا ؟ یقینا war economy کو ؟ امریکہ کی economy نیچے چلی جاۓ گی ۔
اب چین نئی ابھرتی ہوئ طاقت ہے وہ شدت پسندی ، دشت گردی اور جنگ پر believe نہیں رکھتی ۔ چین تجارت اور عدم تشدد پر believe رکھتا ہے چین نے عدم تشدد کی بنیاد پر وہ ترقی جو یورپ نے ڈھائی تین سو سال میں حاصل کی وہی ترقی پچاس سال میں حاصل کر پایا آج بھی چین کی پالسی 2049 تک کوئ جنگ کرنے کی نہیں ہے امریکہ زور لگا رہا ہے کہ چین کو جنگ میں دھکیلا جاۓ لیکن چین بڑے تحمل سے امریکہ کو ڈیل کر رہا ہے۔
چین کی کامیابی ایشیا اور مشرق وسطی کے ممالک کا اتحاد ہے اور امریکہ کی کامیابی ایشیا اور مشرق وسطی کے ممالک کو عدم استحکام ، جنگوں اور دشت گردی میں مصروف رکھنا ہے ۔ اس لیے چین نے پہلے ایران اور سعودی عربیہ کے درمیان صلح کروائ آج افغانستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کرواۓ جا رہے ہیں اسی طرح جب برکس مضبوط ہوتی ہے تو انڈیا اور پاکستان کا بھی مسلہ حل ہو جاۓ گا ۔ طاقتور اور مضبوط ایشیا چین کا یورپ اور امریکہ کے خلاف اک بہت بڑا ہتھیار ہے جو چین کی دنیا پر حکمرانی کو ensure کرے گا ۔
واپس کریں