دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نازی گیس چیمبرز سے اسرائیلی پھانسی کے قانون تک
عفت حسن رضوی
عفت حسن رضوی
معروف فلسطینی فزیشن مصطفیٰ برغوتی کہتے ہیں کہ اگر دنیا اسرائیلی بربریت پر خاموش نہ رہتی تو آج ظلم اپنی اس انتہا پر نہ پہنچتا، ظالم کا ہاتھ اگر پہلے ہی روک لیا گیا ہوتا تو اسرائیلی فاشزم اپنے عروج سے پہلے قابلِ علاج ہوتا۔
آج حال یہ ہے کہ بظاہر خود کو مشرق وسطیٰ کی واحد جمہوریت قرار دینے والا اسرائیل جس کی پارلیمان ایسا قانون پاس کر بیٹھی ہے جس کا شکار صرف فلسطینی قیدی ہوں گے۔ یہ سزائے موت کا قانون ہے۔
دو روز قبل اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ نے پھانسی کے پھندے کے ذریعے سزائے موت دینے کا ایک بل پاس کیا جس کا اطلاق فلسطینیوں پر ہوگا۔ اسرائیل کے لیے اس قانون کی اتنی اہمیت تھی کہ ووٹنگ کے دن تمام اسرائیلی سیاست دان اپنے کالر پر پھانسی کے پھندے جیسا پن سجا کر آئے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے خود بھی ووٹ ڈالا، جبکہ قانون پاس ہوتے ہی اسرائیلی نیشنل سکیورٹی کے وزیر اتمار بین گویر نے جشن منناتے ہوئے ایوان کے اندر شیمپین کی بوتلیں کھول لیں۔
سوشل میڈیا پر اس وقت اس ظالمانہ قانون، اسرائیلی پارلیمنٹ میں مسلمانوں، عربوں کی نسل کشی کے بیانات اور پھانسی دینے والے چیمبر کے باہر جشن مناتے اسرائیلیوں کی ویڈیوز وائرل ہیں۔
نئے قانون کے مطابق اسرائیل اور اس کے قبضہ شدہ علاقوں سے پکڑے جانے والے فلسطینیوں کو اسرائیلی عدالتیں دہشت گردی کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دیں گی۔ لیکن یہ قانون اسرائیل کے یہودی شہریوں پر لاگو نہیں ہوگا، یعنی یہودیوں پر قتل کا جرم بھی معاف!فلسطینیوں کو سزا دینے والی ان اسرائیلی فوجی عدالتوں میں عام یہودی اسرائیلی شہریوں کا ٹرائل نہیں ہوگا، مزید یہ کہ عدالتوں کو سزائے موت کے خلاف اپیل رد کرنے کا بھی اختیار ہوگا۔
اسے آسان لفظوں میں ہٹلر کی بنائی جرمن نازی فوج کے گیس چیمبرز سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جہاں تاریخ دانوں کا دعویٰ ہے کہ قیدی کا صرف یہودی ہونا ہی جرم ثابت ہونے اور سزائے موت ملنے کے لیے کافی ہوا کرتا تھا۔
آج ان ہی یہودیوں کے نام پر بننے والی قابض ریاست اسرائیل نے بالکل وہی قانون فلسطینیوں کے لیے بنا لیا ہے۔
اسرائیل تو ویسے بھی فلسطینیوں کے بعد اب لبنانیوں کی نسل کشی پر چل پڑا ہے، روزانہ کے حساب سے اسرائیل کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد سیننکڑوں میں ہوتی ہے، پھر کیوں اس سزائے موت کے قانون پر اتنی پریشانی ہے؟
اس وقت اسرائیلی جیلوں میں لگ بھگ گیارہ سے پندرہ ہزار کے قریب فلسطینی قید ہیں جن میں چند خواتین ہیں، باقی تمام مرد ہیں۔ ان قیدیوں میں کم عمر لڑکے بھی ہیں اور بزرگ بھی۔
یہاں تک کہ ان قیدیوں میں غزہ کے ہسپتالوں کے ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی تنظیم بی تسیلم کے مطابق اسرائیلی فوجی عدالتوں سے فلسطینیوں کو سزا ملنے کی شرح لگ بھگ 96 فیصد ہے۔
اس کا سیدھا سا مطلب ہے کہ وہ تمام پندرہ ہزار قیدی جو اسرائیل کی قید میں ہیں، ان کے سر پر پھانسی کا پھندہ ااب لٹکنے لگا ہے۔
دنیا بھر میں موت کی سزا کو سرکاری طور پر ختم کرنے کے حوالے سے گذشتہ دو دہائیوں سے یورپی یونین اور بین الاقوامی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ ان تنظیموں نے اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے ساتھ مل کر اتحاد بنا رکھا ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ سزائے موت دینے والے ملکوں کو دباؤ میں کیسے لینا ہے۔
یورپی یونین سزائے موت کو انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزی کہتی ہے۔ یہ سزائے موت دینے والے ملکوں سے تجارت نہیں کرتی، سفارتی تعلقات اور دیگر شعبوں میں تعاون بھی محدود کر دیتی ہے۔دیگر ممالک پر یورپی یونین والے اپنا اخلاقی لیکچر جھاڑ لیتے ہیں، لیکن بیلاروس نے شدید دباؤ کے باوجود سزائے موت پر پابندی نہیں لگائی جس کے باعث انہیں بھی زیرِ عتاب رہنا پڑا۔
چین، عراق، ایران سمیت کئی ممالک کو سزائے موت کے اطلاق کی وجہ سے مغربی ریاستوں کا دباؤ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے مذمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
افغانستان میں سرعام پھانسی اور کوڑے دینے کی سزاؤں پر ہر ملک تھو تھو کرتا ہے۔
اب منافقت دیکھیے، اسرائیل کے قانون برائے سزائے موت پر امریکہ نے کہا کہ اسرائیل کو خودمختار قانون بنانے کا حق ہے جس کا واشنگٹن احترام کرتا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین نے اسرائیل سے اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی پابندی کرنے کی اپیل کی ہے۔
یہ صرف ایک کالے قانون پر عالمی خاموشی کا معاملہ نہیں، یہ فلسطینیوں کی نسل کشی کا وہ گھناونا کھیل ہے جو گذشتہ تین برسوں سے جاری ہے۔
اس میں شریکِ جرم وہ سب ریاستیں ہیں جو اسرائیل کا بازو بنیں، جنہوں نے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کیا، جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ معمول کے مطابق تجارت رکھی اور جنہوں نے بائیکاٹ کے بجائے اسرائیل کے ساتھ سفارت کاری کو فروغ دیا۔
واپس کریں