فرحان ابنِ امان
جمہوریت کا راج ہو یا آئین کی بالادستی، یہ مقدمہ ہر دور میں زندہ رہا ہے۔ سوال آج بھی وہی ہے کہ کون جمہوریت کے ساتھ کھڑا ہے، کون آئین کے ساتھ اور کون مفادات و مصلحتوں کا شکار ہے۔ اب قوم کو چہروں کو پہچاننا ہوگا کہ کون مفادات کی جنگ لڑ رہا ہے اور کون آئین و جمہوریت کے ساتھ کھڑا ہے۔
وفاقی حکومت بشمول پاکستان پیپلز پارٹی نے خیبر پختونخواہ میں وہ شرمناک قدم بالآخر اٹھا ہی لیا جس کا ڈر تھا۔ صوبے میں گورنر راج / ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ قدم آئین اور جمہوریت پر کھلی قدغن ہے اور اس ایک قدم سے صوبوں کی محدود خودمختاری کا بھی جنازہ نکل گیا ہے۔ یہ ایک خطرناک عمل ہے، یہ غیر جمہوری ہتھیار آج خیبر پختونخواہ میں استعمال ہوا ہے، کل یہی ہتھیار دیگر صوبوں میں بھی استعمال ہو سکتا ہے۔
اب پسمنظر میں دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کا مجموعی سیاسی طرزِ عمل غیر سنجیدہ اور تنگ نظر ضرور رہا ہے مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہو سکتا کہ ان سے جمہوری اور سیاسی حقوق چھین کر غیر جمہوری غیر آئینی اقدامات کو قبول کیا جائے۔
جناب سہیل آفریدی کو بھی اپنے رویوں پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے تھی۔ وہ اس وقت صرف تحریکِ انصاف کے ایک رہنما نہیں، بلکہ صوبے کے سب سے بڑے عوامی عہدے، وزارتِ اعلیٰ پر براجمان تھے۔ ان کے کندھوں پر خیبر پختونخواہ کے عوام کی جان و مال کے تحفظ اور فلاح و بہبود کی ذمہ داری عائد تھی۔ ایک وزیرِ اعلیٰ اپنے صوبے کی عوام کی خدمت کرتا ہوا اچھا لگتا ہے، نہ کہ احتجاج کی قیادت کرتا ہوا۔
پُر امن احتجاج تمام سیاسی جماعتوں اور کارکنوں کا آئینی اور جمہوری حق ہے، اس سے کسی کو انکار نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ حق کس کو استعمال کرنا چاہیے؟ اس وقت خیبر پختونخواہ حکومت وہ کام کر رہی تھی جو دراصل اپوزیشن کو کرنا چاہیے تھا۔ تقریریں کرنا، احتجاج کرنا، سڑکوں پر نکلنا اپوزیشن کو جچتا ہے، حکمرانوں کو نہیں۔ اب ان کو کون سمجھائے کہ جناب آپ وزیرِ اعلیٰ ہیں، آپ کا کام صوبے کو چلانا ہے۔
تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی پارلیمانی جماعت ہے، احتجاج، لانگ مارچ یا حکومت گراو تحریک چلانا ان کا بنیادی آئینی حق ہے۔ مگر یہ کام صوبائی حکومت کا نہیں، احتجاجی سیاست پاکستان تحریکِ انصاف کی مرکزی قیادت کا کام ہے۔ صوبائی حکومت کے اس طرزِ عمل سے وفاق اور صوبے کے درمیان محاذ آرائی بڑھتی گئی اور انہی رویوں سے تنگ آ کر وفاقی حکومت نے گورنر راج کا غیر جمہوری راستہ نکالا۔
مگر سوال یہ جنم لیتا ہے کہ کیا وہ مخلوط کمزور وفاقی حکومت جسے کوئی عوامی حمایت حاصل نہیں، اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ ایک صوبے کی منتخب شدہ، عوامی جمہوری حکومت کو ختم کر دے؟ یہ جمہوری روایات کو زیب دیتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
درحقیقت یہ آئین، جمہوری روایات اور مثبت سیاسی سوچ کا بحران ہے۔ یہ صرف خیبر پختونخواہ کا مسئلہ نہیں، بلکہ پاکستان کے مجموعی انتظامی اور سیاسی مسئلہ ہے۔ آئینِ پاکستان میں ہر ادارے کی ڈومین واضح طور پر متعین ہے، لیکن بدقسمتی سے آئین اور جمہوری روایات کو بائی پاس کیا جا رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ادارے اور سیاسی قوتیں اپنی آئینی حدود میں رہ کر اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ وزیرِ اعلیٰ کا کام گورننس ہے، اپوزیشن کا کام تنقید اور احتجاج ہے، اور وفاق کا کام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔
اس سارے منظرنامے میں پیپلز پارٹی کے کردار کا کڑا امتحان تھا، مگر حسبِ معمول پیپلز پارٹی محض جمہوریت کے کھوکھلے نعروں تک محدود رہی ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اس مجرمانہ عمل میں ایسے ہی شریک ہیں جیسے وہ 27ویں ترامیم میں شریک تھیں۔
اہم سوال یہ تھا کہ پیپلز پارٹی کیا کردار ادا کرے گی؟ جواب سامنے آ گیا ہے۔ وہ نام نہاد "قوم کے وسیع تر مفاد" کے نام پر ایک منتخب جمہوری حکومت کے خاتمے جیسے غیر آئینی اقدام میں پیش پیش رہی، بلکہ سب سے کلیدی کردار صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ادا کیا ہے۔ صدر کے دستخط نے ان کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر بے نظیر بھٹو تک، پارٹی کا بیانیہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ مگر آج پیپلز پارٹی اس نظریے سے عملی طور پر منحرف ہو چکی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 234 کا یہ غلط استعمال ہے۔
قوم کے وسیع تر مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ آئینی اور جمہوری روایات کو مضبوط کیا جائے، نہ کہ ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے آئین کو بائی پاس کیا جائے۔
واپس کریں