محمد بلال غوری
پانچ اور چھ ستمبر 2026ء کی درمیانی شب میں اپنے گھر کے نچلے پورشن میں کام کررہا تھا کہ لگ بھگ ساڑھے بارہ بجے لائٹ چلی گئی۔سوچا،وقت ضائع کرنے کے بجائے کیوں نہ واک کرلی جائے ۔دو،تین کلومیٹر چہل قدمی کے بعد جب واپس آرہا تھا تو قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی بھاری نفری گشت کرتی دکھائی دی۔ہر طرف گاڑیاں ،خفیہ اہلکار اور اسلام آباد پولیس کے جوان دوڑتے نظر آئے ۔دفعتاً خیال آیا شاید یوم دفاع کی تقریبات کے سلسلے میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں یا پھر کسی اہم شخصیت کی آمد کے پیش نظر یہ صورتحال ہے ۔مگر جب ہر گلی کی نکڑ پر ڈالے اور اہلکار دکھائی دیئے تو محسوس ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے ۔موبائل فون پر ایک دوست سے بات ہوئی رہی تھی ،میں نے کہا ،پھر بات کریں گے ۔جونہی فون بند ہوا ۔پیچھے سے کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا ،بلال غوری؟میں نے کہا ۔جی۔اور پھر کچھ لوگوں نے اُٹھا کر گاڑی میں بٹھا دیا ۔کچھ دور جا کر ایک اور گاڑی میں منتقل کیا گیا اور پھر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی یعنی NCCIA کے تھانے میں پہنچ گیا۔حوالات میں تفکرات نے گھیرلیا۔شام کو دانتوں کے ڈاکٹر سے داڑھ نکلوائی تھی ،شدید تکلیف کے باوجود ادویات لینے کا موقع نہ دیا گیا اور سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ کسی کو کچھ معلوم نہ تھا کہ میرے ساتھ ہوا کیا ہے ۔نچلے پورشن کو مقفل کرکے چہل قدمی کیلئے نکلا ،چابیاں میرے پاس تھیں ،بچے یقیناً یہی سمجھیں گے کہ میں کام میں مصروف ہوں ۔وہاں حوالات میں دو لڑکوں کاجسمانی ریمانڈ ختم ہورہا تھا ،انہیں عدالت پیش کرنا تھا ۔ایک نوجوان کو گھر کو نمبر یادکروایا اور کہا کہ موقع ملے تو کال کرکے محض اتنا بتادیں کہ میں کہاں ہوں۔مگر اسے نمبر بھول گیا یا کال کروانے کا موقع نہ ملا ۔دوپہر ہوگئی ،مجھے عدالت پیش نہ کیا گیا ،نہ ہی یہ بتایا گیا کہ کوئی مقدمہ درج کیا گیا ہے یا نہیں ۔تھانہ ایک کمرشل عمارت کی پہلی منزل پر تھا۔حوالات کی عقبی دیوار کی کھڑ کی جو سڑک کی طرف تھی ،تھوڑی سی کھلی ہوئی تھی ۔میں نے وہاں سے راہ چلتے افراد کو پکارنا شروع کردیا ۔کوئی اِدھر اُدھر دیکھ کر چل دیتا ،کوئی سنی ان سنی کردیتا یا پھر معذرت کرلیتا مگر ایک بزرگ نے مدد کرنے پر آمادگی ظاہر کی ۔میں نے اپنی اہلیہ کا نمبر بتایا کہ اس پر کال کرکے بتادیںمیں یہاں ہوں۔رابطہ نہ ہوا تو میں نے کہا ،وائس نوٹ چھوڑ دیں ۔انہوں نے کہا ،میں وائس نوٹ کے ساتھ لوکیشن اور آپ کی تصویر بھی بھیج دیتا ہوں ۔سوشل میڈیا پر جو تصویر وائرل ہوئی ،وہ دراصل انہوں نے ہی بنا کر بھیجی ۔بہر حال ،اس اہتمام کے بعد کسی حد تک تسلی ہوئی مگر پھر بھی مکمل اطمینان نہ تھا ۔گاہے خیال آتا ،نمبر ملانے میں کہیں کوئی غلطی نہ ہوگئی ہو۔وہیں کھڑکی کے پاس بے چینی اور اضطراب کے عالم میں ایک گھنٹہ گزر گیا ۔شام ہونے سے کچھ دیر پہلے ایک سیاہ رنگ کی گاڑی آتی دکھائی دی تو سوچا یہ میری گاڑی سے مشابہت رکھتی ہے۔دراصل دور کی نظر کمزور ہے اور گھر سے باہر گلی سے اٹھا کر لانے والوں نے ادویات کے علاوہ عینک اُٹھانے کی مہلت بھی نہیں دی تھی ۔گاڑی قریب آکر رُکی تو معلوم ہوا کہ یہ میری ہی گاڑی ہے ۔بچوں نے پریشانی کے انداز میں مجھے دیکھا ۔میں نے چلا کر کہا ،آپ لوگ گھر واپس جائیں ،یہاں آنے کی کوئی ضرورت نہیں بس میرے دوستوں کو آگاہ کردیں کہ میں یہاں ہوں ۔اس پیشرفت کے بعد میں حوالات میں بچھی چٹائی پر اس اطمینان اور اُمید کے ساتھ بیٹھ گیا کہ اب مزیدغیر قانونی حراست میں نہیں رکھا جاسکتا ۔عدالت میں پیش کیا جائیگا اور قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائیگا۔حوالات میں کوئی پنکھا نہیں تھا ،البتہ باہر آہنی سلاخوں کے ساتھ ایک پیڈسٹل فین رکھا گیا تھا ۔کونے میں بدبودار بیت الخلا کے تعفن کا یہ عالم تھا کہ باہر بیٹھنا بھی محال تھا ۔واش روم کے کسی نلکے میں پانی نہیں آرہا تھا ،ایک نل سے قطرہ قطرہ پانی گررہا تھا ،نیچے بالٹی رکھی ہوئی تھی لیکن وضو کرنے یا منہ ہاتھ دھونے کا خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا تھا کیونکہ ایسی صورت میں استنجا کرنے کیلئے پانی دستیاب نہ ہوتا ۔
جب پاکستان بھر میں یوم دفاع منایا جارہا تھا تو میں حوالات میں بیٹھا یہ سوچتا رہا کہ اس ’’حسن ِ سلوک‘‘کی نوبت کیوں آئی ؟اگر میری صحافتی سرگرمیوں سے متعلق کسی قسم کی کوئی شکایت تھی تو متعلقہ افراد اپنے تحفظات سے آگاہ کردیتے ۔قانونی کارروائی کرنا مقصود تھی اور NCCIAکو کسی قسم کی شکایت موصول ہوئی تو مجھے نوٹس جاری کرکے دفاع کا موقع فراہم کیوں نہیں کیا گیا؟اگر بلانا یا گرفتار کرنا مقصو دتھا تو ایک اہلکار کو بھیج کر تحویل میں لیا جاسکتا تھا ۔بھاری نفری ،بیسیوں گاڑیاں ،کئی تھانوں کی پولیس اور خفیہ اہلکاروں کے ساتھ یوں چھاپہ مار کارروائی کی کیا ضرورت تھی کہ جیسے کسی بہت بڑے دہشتگرد کو دبوچنے جارہے ہوں ؟انہی سوچوں میں گم تھا کہ رات کے کسی پہر سکیورٹی پر تعینات ایف سی اہلکار کا گزر ہوا۔کوہاٹ کے پشتون باریش نوجوان نے نہایت محبت سے پوچھا ،نیند نہیں آرہی؟میں نے سر کے اوپر روشن برقی قمقمے کی طرف اشارہ کیا ۔اس نے ٹھنڈا پانی لاکر دیا اور کہا کہ سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں ،لائٹ آف کرنے کی اجازت تو نہیں لیکن میں اسے بند کردیتا ہوں ،آپ کچھ دیر سو لیں۔یہ وہ جگہ ہے جہاں سلاخوں کے اس پار جھاڑو لگانے والا بھی خود کو فرعون سمجھتا ہے ۔مگر اس سکیورٹی اہلکار نے دل جیت لیا ۔کچھ دیر لیٹ کر سستانے کی کوشش کی کیونکہ صبح ایک نئے مرحلے کا آغاز ہونے جارہا تھا ،مجھے عدالت میں جج کے سامنے پیش کیا جانا تھا ۔وہاں حوالات میں گھڑی نہ ہونے کے باعث وقت معلوم نہیں ہوپاتا ،جب اندھیرا چھٹنا شروع ہوا تو پتہ چلا کی صبح ہوگئی ہے ۔ایک صحافی دوست عبدالودود قریشی جیسے تیسے حوالات پہنچ گئے اور محض اتنا کہا کہ آپ کے سب دوست عدالت میں منتظر ہیں ۔عدالت کیسے لے جایا گیا اور وہاں کیا ہوا؟یہ روداد اگلے کالم میں بیان کروں گا۔
واپس کریں