طاہر راجپوت
دیکھیں، مکمل آزادی نام کی کوئی شے دنیا میں کہیں موجود نہیں۔ انسان اپنے گھر میں بھی مشروط آزاد ہوتا ہے، گلی محلے میں اس کی مرضی محدود ہوتی ہے، اور ریاست کے اندر وہ قانون، روایت اور ثقافتی دائرے سے باہر سانس نہیں لے سکتا۔ آزادی ایک تصور ہے، ایک بیانیہ ہے، حقیقت نہی۔
عالمی سطح پر ممالک کا حال بھی مختلف نہیں۔ کوئی ریاست مکمل خودمختار نہیں ہوتی۔ دنیا بلاکوں میں بٹی ہوئی ہے؛ ڈپلومیسی کے نام پر سودے ہوتے ہیں، کمیشن چلتے ہیں، رعایتیں دی جاتی ہیں۔ کہیں دباؤ ڈالا جاتا ہے، کہیں بلیک میل کیا جاتا ہے، اور کہیں ریاستیں خود بلیک میل ہوتی ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات اخلاقیات سے نہیں، طاقت کے توازن سے چلتے ہیں۔
جن اقوام نے اپنے سماج میں سرمایہ کاری کی تعلیم، اداروں، نظم و ضبط اور اجتماعی شعور پر وہی کسی حد تک اپنی بات منوا پاتی ہیں، اور وہ بھی مکمل آزادی کے ساتھ نہیں بلکہ محدود دائرے میں۔ باقی دنیا کے لیے خودمختاری اکثر ایک سرکاری تقریر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔
آج دنیا ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔
ریاستیں آہستہ آہستہ شہنشاہی طرزِ حکمرانی کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ یہ سبق جمہوریتوں نے بھی شخصی اور مرکزیت پسند نظاموں سے سیکھا ہے چاہے وہ روس ہو، چین ہو یا عرب سلطنتیں۔ بحران کے زمانے میں ادارے پیچھے ہٹ جاتے ہیں، اور فیصلے افراد کرتے ہیں۔
اسی تناظر میں مغربی دنیا میں بھی اب یہ سوال سنجیدگی سے اٹھ رہا ہے کہ آیا کمزور، بکھرے ہوئے ادارے قومی مفاد کا تحفظ کر سکتے ہیں یا نہیں یا پھر ایک طاقتور، فیصلہ کن حکمران ہی ریاست کو بچا سکتا ہے۔
اس بدلتی دنیا میں؛
علاقے چھینے جائیں گے
وسائل پر براہِ راست قبضہ ہوگا
بین الاقوامی قانون ثانوی حیثیت اختیار کرے گا
اقوامِ متحدہ جیسے ادارے عملاً کمزور پڑ چکے ہیں، اور ہیومنزم پس منظر میں چلا گیا ہے۔
اسی طاقت کی منطق کو ہم وینزویلا کے معاملے میں بھی دیکھتے ہیں۔ صدر نیکولس مادورو کی گرفتاری یا اس کی کوشش کو قانون، جمہوریت یا انسانی حقوق کے نعروں میں لپیٹا جا سکتا ہے، مگر اصل سوال یہ نہیں کہ الزام کیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کس کے پاس طاقت ہے۔ جب طاقت فیصلہ کر لے، تو الزام خود راستہ بنا لیتا ہے۔ یہاں بندوق خطرہ نہیں ہوتی، خطرہ وہ حکمران ہوتا ہے جو عالمی نظم سے ہم آہنگ نہ ہو۔
چین اپنی عسکری صلاحیت کے باوجود بنیادی طور پر ایک تجارتی ریاست ہے۔ اس کی ترجیح جنگ نہیں بلکہ منڈی، سپلائی چین اور معاشی اثرورسوخ ہے۔ وہ بندوق سے پہلے تجارتی کنٹینر بھیجتا ہے۔
روس، اپنے توسیعی عزائم کے باوجود، اپنے جغرافیائی مرکز میں سمٹا ہوا ہے۔ کم آبادی، کمزور معیشت اور تاریخی زخم خصوصاً دوسری عالمی جنگ میں بے مثال جانی نقصان آج بھی اس کی اسٹریٹجک یادداشت پر حاوی ہیں۔ وہ طویل عالمی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اس کے برعکس امریکہ ایک خالص عسکری طاقت ہے۔ یورپ اس کے ساتھ کھڑا ہے، اور اس کا محفوظ جغرافیہ اسے ایسی برتری دیتا ہے جو بہت کم ریاستوں کے حصے میں آئی ہے۔ اس نے مرحلہ وار؛
روس کو شام اور مشرقِ وسطیٰ میں محدود کیا
چین کو لاطینی امریکہ میں پیچھے دھکیلا
اور روس کو یوکرین میں الجھائے رکھا
وینزویلا کا واقعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور طاقت کا پیغام، دائرۂ اثر کی یاد دہانی بھی ہے۔
فی الوقت عالمی منظرنامے میں امریکہ کے سامنے کھڑا ہونے کی سکت کسی ایک ملک میں نظر نہیں آتی۔ طاقت کا توازن بظاہر اسی کے حق میں جھکا ہوا ہے۔
یہ دور اصولوں کا نہیں،
یہ طاقتور افراد اور طاقتور ریاستوں کا دور ہے
اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسے ادوار میں آزادی سب سے پہلے بیانیہ بنتی ہے، اور سب سے آخر میں حقیقت۔
واپس کریں