دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عمران خان اور طاہرالقادری کی پولیٹیکل کزن شپ: عہد و پیمان، ہجر، بےوفائی اور خاموشی!
No image (پشاور) خالد خان
برصغیر کی عشقیہ داستانوں میں ہیرو اور ہیروئن اکثر ایک دوسرے کے ساتھ مرنے جینے کی قسمیں کھاتے ہیں۔ پھر کہانی کسی ایسے موڑ پر پہنچتی ہے جہاں کبھی خاندان آڑے آ جاتا ہے، کبھی سماج دیوار بن جاتا ہے اور کبھی کوئی ایک کردار وعدوں کی دنیا سے نکل کر اپنی الگ راہ اختیار کر لیتا ہے۔ نہ داستان ختم ہوتی ہے اور نہ ہی کرداروں کے بارے میں سوالات۔
سیاست بھی عجیب داستان ہے۔ یہاں عشق کی جگہ نظریہ، محبوب کی جگہ اقتدار اور قسموں کی جگہ سیاسی عہد و پیمان لے لیتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ عشقیہ داستانوں کے کرداروں کے پاس ہیر رانجھا اور لیلیٰ مجنوں جیسے نام ہیں، جبکہ سیاست میں کبھی کوئی کسی کا بھائی بن جاتا ہے، کبھی اتحادی اور کبھی سیاسی کزن!
اگست 2014ء میں اسلام آباد کے دھرنے کے دوران ڈاکٹر طاہرالقادری نے پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو ’’پولیٹیکل کزنز‘‘ قرار دیتے ہوئے ساتھ جینے مرنے کی بات کی تھی۔
یہاں تک تو قصہ بالکل سیدھا ہے۔ سیاسی رشتے بنتے ہیں، تحریکیں چلتی ہیں، قافلے اکٹھے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے بلند بانگ اعلانات بھی کیے جاتے ہیں۔ اصل کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب حالات بدلتے ہیں اور پرانے اعلانات کی نئی صورتِ حال میں معنویت جانچنے کی باری آتی ہے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری روایتی سیاست دان نہیں ہیں۔ وہ مذہبی اور روحانی رہنما ہیں، ایک عالم اور مصنف ہیں اس لیئے یہ سوال مجھے تنگ کر رہا ہے۔ ڈاکٹر صاحب خود سیاست سے ریٹائر ہوئے، پاکستان عوامی تحریک تو ریٹائر نہیں ہوئی! جماعت موجود ہے، اس کی قیادت موجود ہے اور اس کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور بھی سیاسی و جماعتی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ پھر سیاسی کزن شپ کا حال دریافت کرنے کے لیے صرف بزرگ کزن کے دروازے پر دستک کیوں دی جائے؟ گھر کے دوسرے افراد سے بھی تو پوچھا جا سکتا ہے کہ خاندان کے پرانے تعلقات کا رجسٹر اب کس الماری میں رکھا ہے۔
سیاسی رشتے ہمیشہ ایک ہی رنگ میں نہیں رہتے۔
اب سوال یہ ہے کہ آج جب عمران خان قید میں ہیں اور تحریکِ انصاف اپنی سیاسی مشکلات اور ریاستی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہے، تو پاکستان عوامی تحریک کا اس معاملے میں کیا مؤقف ہے؟ کیا جماعت نے اپنے پرانے سیاسی تعلق کی روشنی میں کوئی واضح بیان دیا، کوئی ملاقات کی، کسی احتجاج میں شرکت کی یا اظہارِ یکجہتی کیا؟ اگر کیا ہے تو اسے سامنے آنا چاہیے، اور اگر نہیں کیا تو اس کی وجہ بھی معلوم ہونی چاہیے۔
یہاں ہم نہ عمران خان کے وکیل ہیں، نہ طاہرالقادری کے مخالف اور نہ کسی سیاسی جماعت کے ترجمان۔ سوال صرف یہ ہے کہ جب سیاست میں رشتوں کے نام رکھے جاتے ہیں تو کیا ان ناموں کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں، یا یہ بھی فلمی محبتوں جیسا معاملہ ہے جن میں سب کچھ ہمیشہ کے لیے کرنے کے وعدے ہوتے ہیں، مگر فلم ختم ہوتے ہی ہر شخص اپنے اپنے گھر چلا جاتا ہے؟
عشقیہ داستانوں میں وعدہ نبھانے والا محبوب وفا شعار اور وعدہ توڑنے والا بے وفا کہلاتا ہے۔ سیاست میں معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ کبھی حالات انسان کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرتے ہیں، کبھی نظریاتی اختلاف راستے جدا کر دیتا ہے اور کبھی کوئی شخص کسی تعلق کو ماضی کا باب سمجھ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے محض خاموشی کی بنیاد پر کسی کو بے وفا قرار دینا آسان ضرور ہے، منصفانہ نہیں۔
لیکن خاموشی کے بارے میں سوال کرنا بھی کوئی جرم نہیں۔ بالخصوص اس وقت جب ماضی کے الفاظ ریکارڈ پر موجود ہوں اور ان کا حوالہ خود سیاسی تاریخ کا حصہ بن چکا ہو۔
ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب سے سوال اپنی جگہ، مگر پاکستان عوامی تحریک کی موجودہ قیادت سے بھی پوچھنا بنتا ہے کہ آپ کے سیاسی کزن کا رشتہ اب کس مرحلے میں ہے؟ کیا یہ تعلق باقاعدہ ختم ہو چکا ہے، وقتی طور پر معطل ہے، یا دونوں خاندانوں نے ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا اصول اپنا لیا ہے؟ اگر کوئی نیا سیاسی معاہدہ ہے تو عوام کو بھی اس کی خبر ہونی چاہیے؛ اگر کوئی اختلاف ہے تو اس کی وضاحت بھی ہو سکتی ہے۔
آخر میں گزارش صرف اتنی ہے کہ سیاسی کزن شپ کو عشقیہ داستان بنانے کی ضرورت نہیں۔ نہ ہر خاموشی بے وفائی ہوتی ہے، نہ ہر پرانا وعدہ تاحیات سیاسی شراکت داری کی ضمانت۔ لیکن جب کسی رہنما کے الفاظ عوامی ریکارڈ کا حصہ بن جائیں تو ان کے بارے میں سوال بھی عوامی حق بن جاتا ہے۔
سو ڈاکٹر صاحب، قصہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ ہم کسی کو رانجھا، کسی کو ہیر اور کسی کو داستان کا ولن قرار دینے نہیں بیٹھے۔ ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ 2014ء میں جو سیاسی کزن ایک دوسرے کے ساتھ جینے مرنے کی بات کر رہے تھے، آج ان کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ اگر رشتہ باقی ہے تو اس کی موجودہ صورت کیا ہے، اور اگر راستے جدا ہو چکے ہیں تو جدائی کا اعلان کب ہوا؟
باقی، برصغیر کی داستانوں میں محبت کے وعدے اکثر شاعری بن جاتے ہیں؛ سیاست میں وہی وعدے اخباری تراشوں میں محفوظ رہتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ شاعری سن کر لوگ آہیں بھرتے ہیں اور اخباری تراشے پڑھ کر سوال پوچھتے ہیں۔
واپس کریں