دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
معدنیات کا چور کون؟ پی ٹی آئی یا فوج؟
(پشاور) رپورٹ خالد خان
خیبرپختونخوا کی معدنیات کا معاملہ محض لائسنسوں، ٹھیکوں اور سرکاری آمدنی کا حساب کتاب نہیں، بلکہ صوبے کے قدرتی وسائل پر اختیار، عوامی ملکیت، حکومتی شفافیت اور قومی مفاد کا سوال ہے۔ اس بحث میں ایک طرف پی ٹی آئی کی تین مسلسل صوبائی حکومتوں کے دوران معدنی وسائل کے انتظام، لائسنسوں کی تعداد، سرکاری آمدنی اور نیلامیوں پر اٹھنے والے سوالات ہیں، تو دوسری طرف فوج سے وابستہ اداروں کے کردار، امریکی کمپنیوں کی دلچسپی اور مستقبل میں معدنی وسائل کے ممکنہ استعمال کے بارے میں خدشات اور الزامات ہیں۔ ان تمام معاملات کو ایک ہی اصول پر پرکھنا ضروری ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر فریق کے خلاف یکساں نوعیت کے شواہد موجود ہیں یا ہر الزام یکساں حیثیت رکھتا ہے۔
سب سے پہلے بنیادی اعدادوشمار کو سمجھنا چاہیے۔ 2 اگست 2025ء کی ایک رپورٹ میں محکمہ معدنیات کے سرکاری ریکارڈ کے حوالے سے بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں معدنی لائسنسوں اور اجازت ناموں کی مجموعی تعداد 2010ء میں 482 تھی، جو 2020ء تک بڑھ کر 1,762، فروری 2024ء تک 3,962 اور مارچ 2025ء تک 4,917 ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق ان میں 4,133 لائسنس صوبے کے ضم شدہ اضلاع سے باہر اور 784 ضم شدہ اضلاع میں تھے۔ یہ مختلف اوقات میں جاری کیے گئے لائسنسوں کی مجموعی تعداد ہے، ہر سال نئے جاری ہونے والے لائسنسوں کی تعداد نہیں۔ تاہم، یہ اعدادوشمار ایک بنیادی سوال ضرور پیدا کرتے ہیں کہ معدنی وسائل کے انتظام میں اتنی بڑی توسیع کے مقابلے میں صوبے کو مالی فائدہ کتنا ہوا؟
معدنی لائسنس جاری کرنا بذاتِ خود نہ بدعنوانی ہے اور نہ کسی جرم کا ثبوت۔ معدنیات کی تلاش، کان کنی، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اجازت ناموں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ لائسنس کس معیار پر دیے گئے، ان کے لیے فیس اور رائلٹی کیسے مقرر ہوئی، پیداوار اور فروخت کا کتنا ریکارڈ رکھا گیا، لائسنس یافتگان نے اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کیں یا نہیں، اور ریاست کو حاصل ہونے والی آمدنی وسائل کی حقیقی قدر کے تناسب سے کتنی تھی۔ اگر لائسنسوں کی تعداد بڑھتی رہے لیکن صوبے کو اس کے وسائل کے مقابلے میں معمولی آمدنی ملے، تو یہ محض کامیابی کا دعویٰ نہیں بلکہ حکومتی کارکردگی اور نگرانی کا جائزہ لینے کا تقاضا ہے۔
دستیاب رپورٹوں میں محکمہ معدنیات کی آمدنی کے اعدادوشمار بھی سامنے آئے۔ مالی سال 2016-17ء میں تقریباً 2.17 ارب روپے، 2020-21ء میں 5.08 ارب روپے، 2022-23ء میں 6.37 ارب روپے، 2023-24ء میں 6.4 ارب روپے اور 2024-25ء میں 7.43 ارب روپے آمدنی رپورٹ کی گئی۔ ان اعدادوشمار سے آمدنی میں اضافے کا پتا چلتا ہے، لیکن صرف آمدنی کا بڑھ جانا یہ ثابت نہیں کرتا کہ صوبے کو اس کی معدنی دولت کا پورا اور منصفانہ حصہ مل رہا ہے۔ اس کے لیے پیداوار، فروخت، رائلٹی، نیلامی کی قیمت، واجبات، غیرقانونی کان کنی اور حکومتی وصولیوں کا تقابلی حساب ضروری ہے۔ اسی طرح کم آمدنی کا عدد بھی تنہا چوری کا ثبوت نہیں؛ البتہ اگر اس کے ساتھ ناقص نگرانی، غیرشفاف نیلامیوں اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کے شواہد سامنے آئیں تو معاملہ زیادہ سنگین ہو جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سونے کی تلاش اور نکاسی کے لیے دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر پلاسر گولڈ بلاکس کی نیلامی کا معاملہ غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اگست 2025ء میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق قومی احتساب بیورو نے ان نیلامیوں اور بعد کی سرگرمیوں پر سنجیدہ اعتراضات اٹھائے۔ ان میں تخمینی قیمت کے تعین میں خامیاں، نامکمل یا کمزور فزیبلٹی مطالعات، ضروری اجازت ناموں اور ماحولیاتی منظوریوں کی عدم موجودگی، پارے کے غیرمحفوظ استعمال، ٹھیکوں کی ذیلی ٹھیکے داری اور پیداوار و فروخت کا مطلوبہ ریکارڈ جمع نہ کرانے جیسے معاملات شامل تھے۔ بیورو سے منسوب تخمینوں میں ممکنہ مالی نقصان کے انتہائی بڑے اعداد بھی سامنے آئے، جن میں کھدائی کی مشینوں کے ہفتہ وار کرائے اور ان کی مبینہ تعداد کی بنیاد پر آمدنی کا اندازہ لگایا گیا۔ یہ اعداد نیب کے اعتراضات اور تخمینوں کے طور پر بیان کیے جانے چاہییں، انہیں کسی حتمی عدالتی فیصلے یا ثابت شدہ نقصان کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔
اس معاملے میں صوبائی حکومت کا مؤقف بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس وقت کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ حکومت نے ہر بلاک کے لیے کم از کم قیمت تقریباً 1.1 ارب روپے مقرر کی اور چار بلاکس کی نیلامی مجموعی طور پر تقریباً 4.6 ارب روپے میں دس سال کے لیے کی گئی۔ ان کے مطابق نیلامی کے لیے متعدد مرتبہ اشتہار دیا گیا اور قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔ حکومت نے اگست 2025ء میں اس معاملے کی جامع تحقیقات کا حکم بھی دیا۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ ان تحقیقات کا نتیجہ کیا نکلا، اعتراضات میں سے کون سے ثابت ہوئے، کون سے مسترد ہوئے اور صوبے کو کسی مالی نقصان کی صورت میں ذمہ دار کون قرار پایا؟ محض تحقیقات کا اعلان کافی نہیں؛ عوام کو نتیجہ اور متعلقہ ریکارڈ بھی ملنا چاہیے۔
یہ معاملہ صرف 2025ء کی نیلامیوں تک محدود نہیں رہا۔ 9 جولائی 2026ء کو خیبرپختونخوا اسمبلی کی معدنیات سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے میں تقریباً چار ہزار معدنی لیزوں میں سے لگ بھگ دو ہزار فعال ہیں، جبکہ 765 لیزیں منسوخ کی جا چکی ہیں۔ کمیٹی نے بعض لیزوں کی منسوخی، ملکیت کے اختلافات اور قانونی تقاضوں کے بارے میں سوالات اٹھائے۔ اجلاس میں یہ سوال بھی سامنے آیا کہ بعض معاملات میں زمین کی ملکیت ایک شخص کے نام ہے، جبکہ معدنی لیز کسی دوسرے شخص کو جاری کی گئی۔ اس کے بعد لیزوں کے اجرا کے طریقۂ کار، منسوخیوں اور ممکنہ نقصانات کا تقابلی جائزہ لینے کے لیے ذیلی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت دی گئی۔ یہ سرکاری اجلاس کی کارروائی ہے، کسی فرد یا پوری حکومت کے خلاف جرم کا حتمی فیصلہ نہیں؛ لیکن یہ ضرور بتاتی ہے کہ معدنیاتی انتظام کے بارے میں سوالات صرف سیاسی تقریروں تک محدود نہیں رہے۔
یہاں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی ذمہ داری کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ 2013ء، 2018ء اور 2024ء کے انتخابی ادوار میں بننے والی تین مسلسل صوبائی حکومتوں نے معدنیات کے انتظام، لائسنسنگ اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کی ذمہ داری نبھائی۔ چنانچہ اس عرصے کے مجموعی انتظامی ریکارڈ کا جائزہ لینا کسی سیاسی جماعت کے خلاف تعصب نہیں، بلکہ صوبائی حکومت کی کارکردگی کو اس کی ذمہ داریوں کے مطابق پرکھنا ہے۔ اگر لائسنسوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا، مگر آمدنی، پیداوار، شفافیت، قانونی نگرانی اور عوامی فائدے کے بارے میں اہم سوالات باقی ہیں، تو حکومت کو ان کا جواب دینا ہوگا۔ اگر نیب نے اعتراضات اٹھائے، اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے لیزوں اور ملکیت کے معاملات پر تشویش ظاہر کی اور حکومت کو تحقیقات کرانا پڑیں، تو ان سب کو الگ الگ واقعات سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا مجموعی پیٹرن صوبائی حکومت کے معدنیاتی انتظام پر سنجیدہ سوالات اور ممکنہ بدعنوانی کے شبہات پیدا کرتا ہے۔ تاہم، ذمہ داری کا تعین دستاویزی ریکارڈ اور تحقیقات کے نتائج سے ہونا چاہیے، نہ کہ ہر لائسنس کو خودبخود غیرقانونی قرار دے کر رائے قائم کی جائے۔
اب اسی معیار کو فوج سے وابستہ اداروں پر لاگو کرنے سے پہلے ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے کہ ماضی میں سامنے آنے والی انتظامی بے ضابطگیوں اور مستقبل میں کسی ادارے کے ممکنہ اقدام کے خدشے کو ایک ہی نوعیت کا ثبوت نہیں کہا جا سکتا۔
2 اگست 2025ء کی ایک رپورٹ میں محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے حوالے سے بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں جاری کیے گئے 4,917 معدنی لائسنسوں میں سے صرف ایک فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو ملا تھا۔ یہ لائسنس 2015ء میں شمالی وزیرستان کے علاقے بویا کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ فوج نے ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں اور ان کے قریبی رشتہ داروں کے تقریباً 40 لائسنس منسوخ کرانے میں کردار ادا کیا اور زیرِ غور پانچ سو سے زیادہ نئی درخواستوں میں فوج یا اس سے وابستہ ادارے کی کوئی درخواست شامل نہیں تھی۔ دستیاب مصدقہ معلومات اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق یہ دعویٰ صریحا غلط ہے کہ فوج نے خیبرپختونخوا کے معدنی لائسنسوں پر قبضہ کر لیا ہے یا صوبے کی معدنیات چوری کی ہیں یا چوری کرنے کا ارادہ اور منصوبہ بندی ہے۔
یہاں انصاف کا تقاضا ہے کہ فوج کو اس جرم کا مرتکب نہ ٹھہرایا جائے جو ابھی ثابت تو درکنار، دستیاب شواہد کے مطابق سرے سے واقع ہی نہیں ہوا۔ کسی ادارے کے مستقبل میں معدنیات پر قبضہ کرنے کا خدشہ، اس کی نیت کے بارے میں شبہ یا سیاسی حلقوں میں گردش کرنے والا الزام موجودہ جرم کا ثبوت نہیں بن سکتا۔ قومی سلامتی کا ادارہ ہونے کے باعث فوج کے کردار اور اختیارات پر سوال اٹھانا ممنوع نہیں، لیکن اس کی ساکھ کو محض ایک غیرثابت شدہ مفروضے کی بنیاد پر مجروح کرنا بھی انصاف نہیں۔ اگر مستقبل میں کوئی غیرقانونی معاہدہ، اختیارات کا ناجائز استعمال، وسائل پر غیرقانونی قبضہ یا مالی بدعنوانی سامنے آتی ہے تو اس کی تحقیق اور جواب دہی ہونی چاہیے۔ اس سے پہلے کسی قومی ادارے کو مجرم قرار دینا پیشگی سزا دینے کے مترادف ہوگا۔
اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ فوج سے وابستہ اداروں کے کاروباری کردار یا معدنیات کے شعبے میں ان کی سرگرمیوں کا جائزہ ہی نہ لیا جائے۔ اصول یہ ہے کہ جائزہ دستاویزات، معاہدوں، لائسنسوں، ملکیت، آمدنی اور متعلقہ قوانین کی بنیاد پر ہو، نہ کہ کسی ادارے کے بارے میں پہلے سے قائم تصور کی بنیاد پر۔ فوج کا قومی سلامتی میں کردار اپنی جگہ، لیکن اگر کسی فوج سے وابستہ ادارے کا کوئی تجارتی منصوبہ ہو تو اس منصوبے کی قانونی حیثیت، شفافیت اور مالی شرائط بھی دوسرے اداروں کی طرح جانچی جا سکتی ہیں۔ قومی سلامتی کا احترام اور شفافیت کا مطالبہ ایک دوسرے کی ضد نہیں۔
اس بحث کا ایک اہم پہلو امریکی کمپنیوں کی معدنیات میں دلچسپی ہے۔ 8 ستمبر 2025ء کو پاکستان اور امریکی کمپنی یونائیٹڈ سٹریٹیجک میٹلز کے درمیان اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ اس عمل میں ایف ڈبلیو او شامل تھی اور پہلے مرحلے میں تقریباً 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا امکان ظاہر کیا گیا۔ سرکاری اعلان کے مطابق تعاون میں اینٹیمنی، تانبا، سونا، ٹنگسٹن اور نایاب ارضی عناصر کی برآمد، پراسیسنگ اور مستقبل میں پاکستان میں ایک کثیر دھاتی ریفائنری قائم کرنے کے امکانات شامل تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام کی موجودگی بھی ریکارڈ پر ہے۔
اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے معدنی نمونوں کا تحفہ پیش کرنے کی تصویر بھی سامنے آئی۔ اس تصویر اور امریکی کمپنی کے ساتھ معاہدے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کی معدنی دولت میں امریکی دلچسپی محض افواہ نہیں۔ لیکن اس حقیقت سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ امریکی کمپنی کو خیبرپختونخوا کی مخصوص معدنیات کا حق دے دیا گیا، فوج نے صوبے کی معدنیات پر قبضہ کر لیا یا گورنر راج اور ایمرجنسی اسی مقصد کے لیے نافذ کیا گیا۔ مفاہمتی یادداشت کسی مخصوص کان کی ملکیت یا خودکار کان کنی کا لائسنس نہیں ہوتی۔ اس کے حقیقی اثرات جاننے کے لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ معدنیات کہاں سے آئیں گی، ان پر قانونی اختیار کس کا ہوگا، معاہدوں کی شرائط کیا ہیں، صوبائی حکومت کا کردار کیا ہوگا اور آمدنی میں صوبے اور مقامی آبادی کا حصہ کتنا ہوگا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ نایاب ارضی عناصر کے بارے میں سائنسی حقیقت کو سیاسی دعووں سے الگ رکھا جائے۔ ان عناصر کی جدید ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت، الیکٹرانکس اور توانائی کے شعبوں میں اہمیت بڑھ رہی ہے۔ لیکن ان کی ہر کان یا ہر ذخیرے کو لازماً تابکار قرار دینا درست نہیں۔ بعض معدنی ذخائر، مثلاً مونازائٹ، میں تھوریم یا یورینیم موجود ہو سکتے ہیں، جبکہ کان کنی اور پراسیسنگ کے دوران بعض حالات میں تابکار مادوں پر مشتمل فضلہ بھی جمع ہو سکتا ہے۔ اس لیے کسی مخصوص مقام پر خطرے کی نوعیت جاننے کے لیے ارضیاتی ساخت، نمونوں کے تجربات، پانی اور مٹی کے تجزیوں، فضلے کے انتظام اور ماحولیاتی اثرات کے جائزے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خیبرپختونخوا کے کسی مخصوص ذخیرے کے بارے میں ایسے شواہد پیش کیے بغیر یہ کہنا کہ وہاں کان کنی لازماً وسیع انسانی تباہی یا تابکاری کا باعث بنے گی، سائنسی طور پر درست نہیں ہوگا۔ اسی طرح سرمایہ کاری کے نام پر ماحولیاتی تحفظ، مقامی آبادی کے حقوق اور محفوظ کان کنی کے تقاضوں کو نظرانداز کرنا بھی قابلِ قبول نہیں۔
اب گورنر راج اور ایمرجنسی کے سوال کو دیکھیے۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ہنگامی انتظامات کے بارے میں سیاسی تنازع اپنی جگہ، مگر معدنیات پر قبضے کو اس کا ثابت شدہ مقصد قرار دینے کے لیے محض امریکی دلچسپی، فوج سے وابستہ ادارے کی مفاہمتی یادداشت اور سیاسی واقعات کی زمانی قربت کافی نہیں۔ اس کے لیے فیصلہ سازی کا ریکارڈ، متعلقہ احکامات، معدنی حقوق کی منتقلی کے شواہد، معاہدوں کی تفصیلات یا اختیارات کے استعمال سے متعلق ٹھوس دستاویزات درکار ہوں گی۔ اگر ایسے شواہد سامنے آئیں تو ان کی تحقیق ہونی چاہیے؛ اگر نہیں تو اس مفروضے کو ثابت شدہ حقیقت بنا کر پیش کرنا درست نہیں۔ دہشت گردی اور امن و امان سے متعلق سرکاری جواز کا جائزہ بھی الگ سے لیا جا سکتا ہے، لیکن اس کی جگہ معدنیات پر قبضے کی غیرثابت شدہ کہانی نہیں رکھی جا سکتی۔
اس پورے معاملے میں ایک اور بنیادی سوال ہے کہ معدنی وسائل کے اصل مالک کون ہیں اور ان سے حاصل ہونے والا فائدہ کس کو پہنچنا چاہیے؟ یہ وسائل خیبرپختونخوا کے عوام اور پاکستان کے اجتماعی مفاد سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے استعمال سے حاصل ہونے والی آمدنی، روزگار، مقامی ترقی، ماحول کا تحفظ اور مستقبل کی نسلوں کے حقوق بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لائسنسوں اور نیلامیوں کا مکمل ریکارڈ شائع کرے، پیداوار اور فروخت کی تفصیلات سامنے لائے، رائلٹی اور سرکاری وصولیوں کا حساب دے، غیرقانونی کان کنی روکے اور نیب و اسمبلی کی متعلقہ کمیٹیوں کے اعتراضات پر واضح جواب دے۔ وفاقی حکومت اور متعلقہ قومی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ معدنیات کے شعبے میں کسی بھی معاہدے یا سرمایہ کاری کو قانونی اختیار، شفافیت اور عوامی مفاد کے تابع رکھیں۔
یہ معاملہ کسی جماعت یا ادارے کو پہلے سے چور یا معصوم قرار دینے کا نہیں، بلکہ دستیاب شواہد کو ان کی اصل حیثیت میں دیکھنے کا ہے۔ پی ٹی آئی کی تین مسلسل صوبائی حکومتوں کے دوران معدنی لائسنسوں کی تعداد، آمدنی، نیلامیوں اور انتظامی نگرانی سے متعلق سامنے آنے والے سوالات، نیب کے اعتراضات اور اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی تشویش ایک ایسا مجموعی ریکارڈ بناتے ہیں جس کی سنجیدہ تحقیقات اور سیاسی و انتظامی جواب دہی ضروری ہے۔ ان معاملات کو صرف اس بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ہر لائسنس کے بارے میں عدالت کا فیصلہ موجود نہیں۔ حکومتی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے مجموعی اعدادوشمار اور سرکاری ریکارڈ اہم ہوتے ہیں، اگرچہ ان سے ہر فرد کا مجرمانہ فعل خودبخود ثابت نہیں ہو جاتا۔
فوج کے بارے میں معاملہ مختلف ہے۔ دستیاب شواہد کی بنیاد پر خیبرپختونخوا کی معدنیات چوری کرنے یا ان پر غیرقانونی قبضہ کرنے کا جرم فوج کے خلاف ثابت نہیں ہوا۔ مستقبل میں ممکنہ اقدام کے خدشے کو موجودہ جرم بنا کر پیش کرنا، کسی قومی ادارے کو نیتوں کے مفروضوں پر بدنام کرنا اور اسے پیشگی مجرم ٹھہرانا انصاف کے اصول کے خلاف ہے۔ اگر کبھی کوئی غیرقانونی عمل یا بدعنوانی کے ٹھوس شواہد سامنے آئیں تو ان کی تحقیق اور احتساب بھی ہونا چاہیے، لیکن ابھی غیرثابت شدہ خدشے کی بنیاد پر سزا سنانا درست نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کی معدنی دولت سے صوبے اور عوام کو کتنا فائدہ پہنچا، اس فائدے کی تقسیم میں کیا خامیاں رہیں، اور ان خامیوں کے لیے کون سے حکومتی فیصلے اور ادارہ جاتی کمزوریاں ذمہ دار ہیں۔ جہاں ماضی کے ریکارڈ میں سوالات اور اعتراضات موجود ہیں، وہاں جواب دہی ہونی چاہیے؛ جہاں ابھی جرم ہوا ہی نہیں، وہاں محض نیت کے شبہے پر کسی کو مجرم نہیں بنایا جا سکتا۔ یہی اصول پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت، فوج سے وابستہ اداروں، وفاقی حکومت اور ہر دوسرے فریق پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔
پاکستان کی مسلح افواج ملک کی دفاعی خودمختاری، قومی سلامتی، جغرافیائی سالمیت اور عوام کے تحفظ کی ضامن قومی قوت ہیں۔ اس ادارے کے افسران اور جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں اور خیبرپختونخوا کے عوام نے بھی اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ان قربانیوں، پیشہ ورانہ نظم و ضبط اور دفاعِ وطن کی ذمہ داریوں کا اعتراف قومی زندگی کا ایک اہم تقاضا ہے۔ ایسے ادارے پر محض سیاسی قیاس آرائی یا مستقبل میں کسی ممکنہ اقدام کے اندیشے کی بنیاد پر معدنیات چوری کرنے یا صوبے کے وسائل پر قبضے کا الزام عائد کرنا انصاف اور ذمہ دارانہ صحافت کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ دستیاب ریکارڈ میں ایسا کوئی ثابت شدہ ثبوت سامنے نہیں آیا جو اس الزام کی تصدیق کرتا ہو۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتِ حال ایک سنجیدہ قومی و صوبائی مسئلہ ہے؛ اسے معدنیات پر قبضے کی کسی غیرثابت شدہ کہانی سے جوڑنے کے لیے ٹھوس دستاویزی شواہد ضروری ہیں۔ گورنر راج یا ہنگامی اقدامات کی آئینی و قانونی حیثیت پر بحث ضرور ہونی چاہیے، مگر ان کا مقصد معدنیات پر قبضہ قرار دینے کے لیے محض شبہ کافی نہیں۔ چنانچہ موجودہ شواہد کی روشنی میں فوج کے خلاف معدنیات کی چوری یا غیرقانونی قبضے کا الزام ثابت نہیں ہوتا، اور اسے محض اندیشوں کی بنیاد پر مجرم ٹھہرانا درست نہیں۔ اس کے برعکس، پی ٹی آئی کی مسلسل صوبائی حکومتوں کے دوران معدنی لائسنسوں، نیلامیوں، آمدنی اور نگرانی کے بارے میں سامنے آنے والے سوالات کا جواب متعلقہ ریکارڈ اور شفاف تحقیقات کے ذریعے دیا جانا چاہیے؛ تاہم وہاں بھی حتمی ذمہ داری کا تعین ثبوت کے مطابق ہی ہوگا۔ قومی اداروں کی خدمات کا اعتراف، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کا احترام، حکومتی فیصلوں کی قانونی جانچ اور عوامی وسائل کے تحفظ کا مطالبہ ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ یہی متوازن طرزِ فکر قومی مفاد، انصاف اور ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے۔
واپس کریں