ایمرجنسی: کیا ریاست اپنا تھوکا ہوا چاٹ رہی ہے؟ خالد خان

ریاستی فیصلوں کا سب سے بڑا امتحان یہ نہیں کہ انہیں کس دلیل سے درست ثابت کیا جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ان کے نتائج کیا نکلتے ہیں، ان سے فائدہ کس کو پہنچتا ہے اور ان کی قیمت کون ادا کرتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت، گورنر راج اور بارہ اضلاع کے لیے الگ وفاقی انتظامی ڈھانچے کے قیام نے ایک بار پھر ایسے ہی بنیادی سوالات اٹھا دیے ہیں، جنہیں محض حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی کشمکش سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
سابق قبائلی علاقے کئی دہائیوں تک براہِ راست وفاقی انتظام کے تحت رہے۔ وہاں کا انتظامی نظام، سیاسی حیثیت اور شہری حقوق ملک کے دوسرے علاقوں سے مختلف تھے۔ پھر ایک طویل جدوجہد، سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی ترمیم کے نتیجے میں ان علاقوں کو خیبرپختونخوا میں ضم کیا گیا۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد قبائلی عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنا، انہیں دوسرے شہریوں کے برابر آئینی حقوق دینا اور ایک الگ انتظامی و قانونی حیثیت سے نکال کر صوبائی نظام کا حصہ بنانا تھا۔
اب صورتِ حال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت اور گورنر راج کے نفاذ کے ساتھ بارہ اضلاع کے انتظامی امور چلانے کے لیے الگ وفاقی سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔ ان بارہ اضلاع میں سابق قبائلی علاقوں کے آٹھ اضلاع کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت بھی شامل ہیں۔ یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے کہ ہنگامی حالت کا اعلان پورے خیبرپختونخوا کے لیے کیا گیا ہے، جب کہ بارہ اضلاع کے لیے الگ انتظامی بندوبست قائم کیا گیا ہے۔ دونوں فیصلے اپنی قانونی بنیاد، دائرۂ اختیار اور عملی اثرات کے اعتبار سے الگ سوالات پیدا کرتے ہیں۔
وفاقی حکومت نے اس اقدام کے حق میں امن و امان کی بگڑتی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں صوبائی حکومت کے کردار پر اعتراضات کو بنیاد بنایا ہے۔ ان الزامات کی صحت اور ان کے حق میں موجود شواہد کی جانچ ضروری ہے۔ اگر کوئی صوبائی حکومت دہشت گردی سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے تو اس کی آئینی اور سیاسی جواب دہی ہونی چاہیے، لیکن اس جواب دہی کا طریقۂ کار بھی آئین، قانون، شہری حقوق اور منتخب اداروں کے احترام سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔ ایک حکومت کی ناکامی دوسرے غیر معمولی اقدام کو خودبخود درست ثابت نہیں کرتی۔
یہیں انضمام کے اصل مقصد کا سوال سامنے آتا ہے۔ اگر قبائلی علاقوں کو وفاقی انتظام سے نکال کر صوبے میں ضم کرنا درست فیصلہ تھا تو اب انہی علاقوں کے لیے الگ وفاقی انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا یہ محض امن و امان کی ایک عارضی ضرورت ہے، یا ریاست اپنے سابقہ انتظامی فیصلے پر نظرثانی کی طرف بڑھ رہی ہے؟ اگر یہ عارضی بندوبست ہے تو اس کی قانونی بنیاد، مدت، اختیارات کی حدود اور منتخب نمائندوں کو اختیارات واپس دینے کا طریقۂ کار واضح ہونا چاہیے۔ بصورتِ دیگر ایک عارضی انتظام مستقل متبادل کی شکل اختیار کرسکتا ہے، اور پھر انضمام کے وعدوں اور عملی صورتِ حال کے درمیان فاصلہ مزید بڑھ جائے گا۔
سابق قبائلی علاقوں کی جغرافیائی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں۔ افغانستان کے ساتھ طویل سرحد، سرحد پار نقل و حرکت، سلامتی کے تقاضے اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال ان علاقوں کو غیر معمولی تزویراتی اہمیت دیتے ہیں۔ دوسری طرف یہاں موجود معدنی وسائل مستقبل کی معیشت اور سرمایہ کاری مقامی ترقی کے لیے اہم ہوسکتے ہیں۔ یہ دونوں پہلو ایسے سوالات ضرور پیدا کرتے ہیں کہ ان علاقوں کے انتظام، وسائل اور فیصلہ سازی پر اختیار کس کے پاس ہوگا اور اس کا فائدہ مقامی آبادی کو کس حد تک پہنچے گا۔
تاہم سرحدی اہمیت اور معدنی وسائل کی موجودگی کو وفاقی کنٹرول کے اصل مقصد کا ثبوت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس کے لیے دستاویزی شواہد، پالیسی فیصلوں، معدنی لیزوں، آمدن کی تقسیم، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی اختیارات کی عملی منتقلی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ محض شبہے کو حقیقت بنا کر پیش کرنا تحقیق نہیں، لیکن کسی فیصلے کے ممکنہ معاشی اور تزویراتی مفادات کی جانچ سے گریز کرنا بھی صحافت اور تحقیق کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ریاست نے اپنا تھوکا ہوا چاٹ لیا ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست اپنے ہی فیصلوں کے ساتھ کہاں کھڑی ہے۔ اگر انضمام قبائلی عوام کو آئینی مساوات، سیاسی اختیار اور ترقی کے یکساں مواقع دینے کے لیے کیا گیا تھا تو آج کے انتظامی بندوبست کو بھی انہی پیمانوں پر پرکھنا ہوگا۔ کیا مقامی آبادی کی سیاسی نمائندگی مضبوط ہورہی ہے؟ کیا امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے کے ساتھ شہری آزادیوں اور قانونی تحفظ کی ضمانت دی جارہی ہے؟ کیا معدنی وسائل سے حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد مقامی آبادی تک پہنچیں گے؟ اور کیا اس انتظام کی کوئی واضح مدت اور قابلِ احتساب طریقۂ کار موجود ہے؟
ان سوالات کا جواب صرف وفاقی حکومت سے نہیں، صوبائی حکومت، سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں اور متعلقہ اداروں سے بھی طلب کیا جانا چاہیے۔ اگر صوبائی حکومت نے سلامتی کے تقاضوں کو نظرانداز کیا تو اسے جواب دینا ہوگا؛ اگر وفاقی حکومت نے غیر معمولی اختیارات استعمال کیے ہیں تو اسے بھی قانونی جواز، ضرورت اور نتائج واضح کرنا ہوں گے۔ کسی ایک فریق کی غلطی دوسرے فریق کو غیر مشروط استثنا نہیں دے سکتی۔
اس معاملے کا علاج بھی محض کسی حکومت کی بحالی یا کسی دوسرے انتظام کے قیام تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ضروری ہے کہ وفاقی بندوبست کی قانونی بنیاد اور مدت واضح کی جائے، قبائلی اضلاع کے منتخب نمائندوں اور مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں مؤثر حصہ دیا جائے، معدنی وسائل اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں شفافیت یقینی بنائی جائے، اور امن و امان کی ذمہ داریوں کے ساتھ شہری حقوق کے تحفظ کا قابلِ پیمائش نظام بنایا جائے۔ انضمام کے بعد کیے گئے وعدوں اور اب تک ہونے والی پیش رفت کا آزادانہ جائزہ بھی ہونا چاہیے، تاکہ معلوم ہو سکے کہ ناکامی کہاں ہوئی اور اس کی اصلاح کیسے ممکن ہے۔
ریاستی فیصلوں کو نہ عقیدت کی بنیاد پر درست مانا جا سکتا ہے، نہ سیاسی مخالفت کی بنیاد پر غلط۔ انہیں آئین، قانون، شواہد اور عوامی مفاد کی کسوٹی پر پرکھنا ہوگا۔ سابق قبائلی علاقوں کے عوام پہلے بھی غیر معمولی انتظامی بندوبست کی قیمت ادا کرتے رہے ہیں؛ اب انہیں ایک اور تجربے کا موضوع بنانے کے بجائے اس فیصلے کے مقصد، مدت، اختیارات اور نتائج کے بارے میں واضح جواب ملنا چاہیے۔
ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا کہ ریاست نے کیا کیا؛ ہمیں یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ ایسا کیوں کیا، اس سے کس کو فائدہ پہنچے گا، نقصان کس کا ہوگا اور اس مسئلے کا پائیدار حل کیا ہے۔ یہی فرق محض سیاسی تبصرے اور عوامی مفاد کی تحقیق میں ہے۔
واپس کریں