دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عزت کے میراثی، مقروضوں کے چوہدری
No image (پشاور) خالد خان
الحمدللہ! پاکستان نے بالآخر دنیا میں اپنا وہ مقام حاصل کر ہی لیا جس کے لیے مختلف حکومتیں گزشتہ کئی دہائیوں سے شب و روز محنت کر رہی تھیں۔ دنیا کے ترقی پذیر مقروض ممالک کے پلیٹ فارم کی مجلسِ حکمرانی کی سربراہی پاکستان کے حصے میں آ گئی ہے۔ اب دنیا کو معلوم ہو گیا کہ قرض لینے اور اس کے بوجھ تلے زندگی گزارنے کا تجربہ حاصل کرنا ہو تو پاکستان سے سیکھو!
کوئی ملک قرض لے کر سڑکیں بناتا ہے، کوئی کارخانے لگاتا ہے، کوئی برآمدات بڑھاتا ہے اور کوئی اپنی معیشت مضبوط کرتا ہے۔ ہم نے بھی کچھ کم نہیں کیا۔ ہم نے قرض لیا، پھر مزید قرض لیا، پہلے قرض کی ادائیگی کے لیے نیا قرض لیا اور اب اسی تجربے کی بنیاد پر قرض دار ممالک کی قیادت بھی سنبھال لی۔
یہ ہوتی ہے ترقی! دوسروں کو صرف قرض چاہیے، ہمیں قرض کے ساتھ قیادت بھی چاہیے۔
پاکستان کا مجموعی عوامی قرض جون 2026ء کے اختتام پر تقریباً 86 ہزار 700 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ اس میں تقریباً 59 ہزار 400 ارب روپے اندرونی اور 27 ہزار 300 ارب روپے بیرونی قرض تھا۔ گویا گھر کے اندر بھی ادھار اور گھر سے باہر بھی ادھار، لیکن بین الاقوامی سطح پر عہدہ اپنا!
مگر اس خوش خبری کے ساتھ ایک چھوٹا سا سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جو قرض ہم نے لیا وہ خرچ کہاں کیا؟ اس قرض سے ایسی کون سی معاشی بنیادیں استوار ہوئیں جنہوں نے عام آدمی کی زندگی آسان بنائی، روزگار کے مواقع پیدا کیے، پیداواری صلاحیت بڑھائی اور قومی آمدن میں ایسا اضافہ کیا کہ قرض کی واپسی عوام کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ نہ بنے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ قرض بذاتِ خود نہ اچھا ہوتا ہے نہ برا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی قرض لیتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ قرض سے کیا حاصل کیا گیا، اس کی لاگت کتنی تھی، اس سے مستقبل میں کتنی آمدن پیدا ہوئی اور اسے واپس کرنے کی صلاحیت کس حد تک بڑھی۔ اگر قرض سے پیداواری صلاحیت اور قومی آمدن میں اضافہ ہو تو وہ سرمایہ کاری بن سکتا ہے، لیکن اگر قرض کا بڑا حصہ پرانے قرضوں کی ادائیگی، سود اور بجٹ کے خسارے پورے کرنے میں صرف ہو تو معیشت قرض کے ایک ایسے چکر میں پھنس سکتی ہے جس سے نکلنا آسان نہیں رہتا۔
پاکستان کے معاملے میں بھی یہی بنیادی سوال ہے۔ وفاقی بجٹ کا خسارہ پورا کرنے اور پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لینا پڑتا ہے۔ سود کی ادائیگی کے لیے قومی آمدن کا بڑا حصہ مختص ہوتا ہے، جس سے تعلیم، صحت، بنیادی سہولتوں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے دستیاب مالی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔ لیکن اس صورتِ حال کو محض ایک جملے میں کرپشن کا نتیجہ قرار دینا بھی درست نہیں۔ قرض کے استعمال، حکومتی اخراجات، ٹیکسوں کی کمزور بنیاد، معاشی نمو اور مالیاتی پالیسی کا الگ الگ حساب ضروری ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ قرض کہاں خرچ ہوا، اس سے کیا حاصل کیا گیا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری کس نے قبول کی۔
ہمارے ہاں حکمران بدلتے ہیں، حکومتیں بدلتی ہیں، سیاسی نعرے بدلتے ہیں، مگر قرض کی فائلیں وہیں رہتی ہیں۔ ایک حکومت قرض لیتی ہے، دوسری اس کی ادائیگی کے لیے قرض لیتی ہے، تیسری سابق حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے اور چوتھی اسی روایت کو قومی ضرورت قرار دے دیتی ہے۔ اس سارے کھیل میں ایک چیز مستقل رہتی ہے اور وہ ہے سود کی ادائیگی اور معاشی دباؤ کا سامنا کرنے والا عام شہری۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرض لینے کے فیصلے کون کرتا ہے اور اس کی قیمت کون ادا کرتا ہے؟ حکمرانوں کے فیصلوں سے پیدا ہونے والی مالی ذمہ داریوں کا بوجھ بالآخر ٹیکسوں، مہنگائی، کمزور عوامی خدمات، مہنگی بجلی اور محدود معاشی مواقع کی صورت میں شہریوں تک پہنچتا ہے۔ قرض کی رقم خرچ کرنے والے اور اس کی قیمت ادا کرنے والے اکثر ایک ہی لوگ نہیں ہوتے۔
قرض لینے والوں سے حساب مانگنا اس لیے ضروری ہے کہ قومی خزانہ کسی حکومت کی ذاتی ملکیت نہیں اور نہ ہی قرض حکمرانوں کی جیب سے واپس ہوتا ہے۔ یہ عوام کے نام پر لیا جاتا ہے اور اس کی ادائیگی بھی قومی وسائل سے ہوتی ہے۔ لہٰذا ہر بڑے قرض کے ساتھ یہ سوال بھی لازم ہونا چاہیے کہ اس کی رقم کہاں خرچ ہوئی، کس منصوبے پر کتنی لاگت آئی، منصوبے نے کتنی معاشی یا سماجی قدر پیدا کی اور اس کے نتائج کا آزادانہ جائزہ کس نے لیا؟
ہماری معاشی تاریخ میں اس سوال کی ایک دلچسپ مثال نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں شروع ہونے والی ’’قرض اتارو، ملک سنوارو‘‘ مہم بھی ہے۔ فروری 1997ء میں شروع ہونے والی اس مہم کے ذریعے شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ قومی قرض اتارنے کے لیے چندہ دیں اور ملک کی معاشی بہتری میں حصہ لیں۔ لوگوں نے اپنی استطاعت کے مطابق رقم دی۔ کسی نے بچت پیش کی، کسی نے زیور دیا اور کسی نے اپنی محدود آمدن میں سے حصہ نکالا۔ یہ محض مالی مہم نہیں تھی بلکہ عوام سے حب الوطنی کے نام پر ایک جذباتی اپیل بھی تھی۔
لیکن اس مہم کے مالی حسابات اور جمع شدہ رقوم کے استعمال کے بارے میں سوالات بعد کے برسوں میں بھی اٹھتے رہے۔ 17 اگست 2016ء کے ایک رپورٹ میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو اس پروگرام پر بریفنگ دینے کا معاملہ مؤخر کر دیا گیا تھا۔
پھر 28 دسمبر 2016ء کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں اس پروگرام پر بحث کے دوران وزارتِ خزانہ کے سیکریٹری نے بتایا کہ مہم کے تحت تقریباً 2 ارب 3 کروڑ 20 لاکھ روپے عطیات کی صورت میں جمع ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ تقریباً 47 کروڑ 6 لاکھ 59 ہزار روپے قرضِ حسنہ اور 30 کروڑ 20 لاکھ روپے مدتِ معینہ کی جمع رقوم کی صورت میں رکھے گئے تھے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ عطیات میں سے 1 ارب 70 کروڑ روپے 30 جون 1997ء کو وفاقی حکومت کے مہنگے اندرونی قرض کی ادائیگی کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔ اسی اجلاس میں قرضِ حسنہ اور مدتِ معینہ کی رقوم کے معاملات نمٹانے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔
یعنی اس مہم کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں کہ کوئی مالی ریکارڈ سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ ریکارڈ میں جمع شدہ رقوم اور ان کے ایک حصے کے استعمال کی تفصیلات موجود ہیں۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ باقی رقوم کا کیا بنا، ان کی واپسی اور تصفیے کی صورتِ حال کیا رہی اور مہم کے مجموعی نتائج قومی قرض کے تناظر میں کیا تھے؟ ان سوالات کے جواب کے لیے مکمل سرکاری حسابات درکار ہیں، محض سیاسی دعوے کافی نہیں۔
اس وقت میں نے اپنی صحافتی سٹوری کی سرخی رکھی تھی: ’’شلوار اتارو، ملک سنوارو‘‘۔
یہ محض ایک فقرہ نہیں تھا بلکہ اس معاشی تضاد پر طنز تھا جس میں ریاست اپنے شہریوں سے قومی قرض اتارنے کے لیے چندہ مانگ رہی تھی۔ سوال یہ تھا کہ عام آدمی کے پاس آخر بچا ہی کیا ہے جسے وہ ملک سنوارنے کے لیے پیش کرے؟ جو شخص اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہو، اس سے یہ توقع کرنا کہ وہ حکومتی مالیاتی ناکامیوں کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھائے، ایک بنیادی سوال ضرور پیدا کرتا ہے۔
یہاں وضاحت ضروری ہے کہ عوام سے قومی مہم میں حصہ لینے کی اپیل اپنی جگہ غلط نہیں، اور نہ ہی اس مہم میں چندہ دینے والے شہریوں کے جذبے پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔ سوال حکومتی ترجیحات، مالیاتی نظم و ضبط اور جواب دہی کا ہے۔ اگر ریاست قرض لینے کے بعد اسے مؤثر طریقے سے استعمال نہ کر سکے، اپنے اخراجات کو آمدن کے مطابق نہ ڈھال سکے اور پھر شہریوں سے چندہ مانگے تو اسے سب سے پہلے اپنے فیصلوں کا حساب دینا چاہیے۔
قرض اتارو، ملک سنوارو کے بعد بھی پاکستان کا قرض ختم نہیں ہوا۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مہم کی رقم غائب ہو گئی تھی یا اس کا کوئی حساب ہی نہیں تھا۔ البتہ یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ اس مہم سے قومی قرض کی مجموعی صورتِ حال میں کتنا فرق پڑا، اس کے نتائج کیا تھے اور عوام کو اس کی مکمل مالیاتی تفصیل کس حد تک فراہم کی گئی؟ چند ارب روپے کے عطیات اور کئی کھرب روپے کے قومی قرض کے درمیان فرق خود بتاتا ہے کہ قومی قرض کا مستقل حل چندہ نہیں، بلکہ مضبوط معیشت، منصفانہ ٹیکس نظام، مؤثر سرکاری اخراجات، پیداواری سرمایہ کاری اور جواب دہ حکمرانی ہے۔
اب جب ہم مقروض ممالک کے پلیٹ فارم کی قیادت سنبھالنے پر فخر کر رہے ہیں تو ہمیں اس موقع کو محض اعزاز کی خبر نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد قرض لینے والے ممالک کے درمیان تعاون، تجربات کا تبادلہ اور عالمی مالیاتی مباحث میں ان کی آواز مضبوط کرنا ہے۔ پاکستان نے 12 اکتوبر 2026ء کو بنکاک میں اس پلیٹ فارم کی مجلسِ حکمرانی کی سربراہی قبول کی۔ یہ ایک حقیقی بین الاقوامی پیش رفت ہے، لیکن اسے دنیا کے تمام مقروض ممالک کی سربراہی یا پاکستان کی معاشی کامیابی کا حتمی سرٹیفکیٹ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
اگر پاکستان اس فورم کو قرض کی منصفانہ شرائط، پائیدار مالیاتی پالیسی اور ترقی پذیر ممالک کے معاشی مفادات کے لیے استعمال کر سکے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔ لیکن عالمی سطح پر سربراہی کا منصب سنبھالنے کے ساتھ اپنے گھر کا حساب بھی ضروری ہے۔ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ حکومت قرض کم کرنے، سود کی ادائیگی کا بوجھ گھٹانے، غیر ضروری اخراجات محدود کرنے، ٹیکس چوری روکنے، برآمدات بڑھانے اور عام شہری کے لیے روزگار اور آمدن کے بہتر مواقع پیدا کرنے کے لیے کیا عملی اقدامات کر رہی ہے۔
ہمیں قرض داروں کی قیادت پر اعتراض نہیں، بشرطیکہ یہ قیادت قرض کے بہتر انتظام اور اس سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے میں مدد دے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم کہیں قرض لینے کو کامیابی اور قرض کی ادائیگی کو محض اگلی حکومت کا مسئلہ سمجھنے نہ لگیں۔
قوم کو ایک بار پھر مبارک ہو! دنیا میں بہت سے ممالک معاشی طاقت بن کر عزت کماتے ہیں، ہم نے قرض دار ممالک کے ایک پلیٹ فارم کی سربراہی حاصل کر لی ہے۔ اب خواہش صرف اتنی ہے کہ کسی دن ایسی خبر بھی آئے کہ پاکستان نے قرض داروں کی قیادت چھوڑ کر قرض کا بوجھ کم کرنے، عوام کی آمدن بڑھانے اور اپنی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں کوئی مثال قائم کر دی ہے۔
اس دن واقعی مٹھائی بانٹیں گے، ادھار پر نہیں!
آخر چوہدری تو چوہدری ہوتا ہے، چاہے اپنی حویلی رہن رکھ کر ہی کیوں نہ بنا ہو۔ لیکن اصل عزت اس دن ہوگی جب حویلی قرض سے آزاد بھی ہو جائے گی۔
واپس کریں