مولانا فضل الرحمٰن، ایمل ولی خان اور محمود خان اچکزئی کی گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت، کیا پی ٹی آئی کی حمایت ہے؟

(پشاور) تجزیہ خالد خان
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کے نفاذ نے پاکستانی سیاست کا ایک ایسا تضاد نمایاں کر دیا ہے جسے محض حکومت اور اپوزیشن کی روایتی کشمکش سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک طرف وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور صوبائی حکومت کی مبینہ عدم دلچسپی نے غیر معمولی اقدامات کو ناگزیر بنایا، دوسری طرف مولانا فضل الرحمٰن، ایمل ولی خان اور محمود خان اچکزئی جیسے رہنما اس اقدام کو جمہوریت، آئینی اختیار اور عوامی مینڈیٹ کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ وہ تین سیاسی آوازیں ہیں جن کے پی ٹی آئی سے اختلافات کسی سے پوشیدہ نہیں، لیکن گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر ان کا مؤقف وفاقی حکومت کے لیے ایک بنیادی سوال ضرور پیدا کرتا ہے کہ اگر کسی حکومت کی کارکردگی ناقص ہے تو کیا اسے ہٹانے کا راستہ آئین کے اندر تلاش کیا جائے گا یا سیاسی اختلاف کو غیر معمولی انتظامی اقدام کے ذریعے ختم کیا جائے گا؟
گیارہ اکتوبر کو وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کا حوالہ دیا گیا۔ وفاقی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں صوبائی حکومت کے کردار پر اعتراضات اٹھائے، جبکہ پی ٹی آئی نے اس فیصلے کو اپنے منتخب اقتدار کے خاتمے اور سیاسی انتقام سے تعبیر کیا۔ مگر اس تنازعے میں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ پی ٹی آئی حکومت درست تھی یا غلط؛ سوال یہ بھی ہے کہ کیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کی ناکامی یا عدم تعاون کے الزامات کا فیصلہ سیاسی اختلاف کی بنیاد پر ہوگا یا قابلِ تصدیق شواہد، آئینی تقاضوں اور قانونی طریقۂ کار کے مطابق؟
اس سوال کا ایک اہم جواب مولانا فضل الرحمٰن کے مؤقف میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے نہ صرف گورنر راج اور ہنگامی حالت کے فیصلے کو مسترد کیا بلکہ اسے عدالتوں، پارلیمان اور عوامی سطح پر چیلنج کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ان کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی گنجائش موجود تھی، پی ٹی آئی احتجاجی مارچ واپس لینے پر آمادہ ہو سکتی تھی اور سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے راستہ نکالا جا سکتا تھا۔ مولانا نے دعویٰ کیا کہ انہیں مذاکراتی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے لیے کہا گیا، وزیراعظم سے ملاقاتیں ہوئیں اور ایک ممکنہ حل پر بات آگے بڑھی، لیکن بالآخر وفاقی حکومت نے ہنگامی حالت نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
یہاں مولانا کے مؤقف کا ایک غیر معمولی پہلو سامنے آتا ہے۔ وہ پی ٹی آئی کے سیاسی اتحادی نہیں اور نہ ہی ان کی جماعت کی پوری سیاست کو پی ٹی آئی کی حمایت میں سمویا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود وہ ایک ایسے اقدام کی مخالفت کر رہے ہیں جس سے ان کی مخالف جماعت کی صوبائی حکومت ختم ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مولانا نے پی ٹی آئی کی کارکردگی پر اپنے تمام اعتراضات واپس لے لیے ہیں؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک سیاسی اختلاف اور آئینی اختیار دو الگ معاملات ہیں۔ کسی حکومت کی پالیسی سے اختلاف اپنی جگہ، مگر اسے اقتدار سے ہٹانے کے لیے اختیار کیا جانے والا طریقۂ کار الگ قانونی اور جمہوری معیار پر پرکھا جانا چاہیے۔
مولانا نے ایک اور سوال بھی اٹھایا ہے جسے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔ اگر دہشت گردی کسی صوبے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی بنیاد بن سکتی ہے تو بلوچستان کی صورتِ حال میں مختلف طرزِ عمل کیوں اختیار کیا گیا؟ یہ سوال بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ دونوں صوبوں کے حالات یکساں ہیں یا دونوں کے لیے لازماً ایک ہی فیصلہ ہونا چاہیے۔ لیکن وفاقی حکومت پر یہ ذمہ داری ضرور عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے کی بنیاد، متعلقہ شواہد اور آئینی معیار واضح کرے۔ غیر معمولی اختیار کا استعمال جتنا بڑا ہو، اس کی وضاحت اور جواب دہی بھی اتنی ہی مضبوط ہونی چاہیے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان کا مؤقف اس بحث کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھنے کا موقع دیتا ہے۔ یکم اکتوبر کو، یعنی ہنگامی حالت اور گورنر راج کے نفاذ سے پہلے، انہوں نے واضح کیا تھا کہ اے این پی ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق بنیادی انسانی، آئینی اور جمہوری حقوق کو ہنگامی حالت کے نام پر محدود نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ ایسا قدم صوبے کے مسائل حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ ایمل ولی خان نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا کو موجودہ صورتِ حال تک پہنچانے والوں اور ان پالیسیوں کی پہلے جواب دہی ہونی چاہیے جن کے نتیجے میں آج صوبہ بدامنی کا سامنا کر رہا ہے۔
ایمل ولی خان کے بیان کی اہمیت یہ ہے کہ وہ گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو بری الذمہ قرار نہیں دیتے۔ ان کا اعتراض ریاستی سرپرستی، سیاسی تجربات اور طویل صوبائی حکمرانی کے نتائج پر بھی ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی تقریباً تیرہ برس صوبے میں اقتدار میں رہی اور ریاستی سرپرستی نے اس کے سیاسی عروج میں کردار ادا کیا۔ یہ ایمل ولی خان کا سیاسی مؤقف ہے، جس کے ہر پہلو کو الگ شواہد سے جانچنا چاہیے، مگر اس میں اٹھایا گیا بنیادی سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر کسی سیاسی جماعت کو اقتدار تک پہنچانے میں ریاستی کردار موجود تھا تو آج پیدا ہونے والے مسائل کی تمام ذمہ داری صرف اسی جماعت پر ڈال کر ریاستی پالیسیوں کو جواب دہی سے مستثنیٰ کیسے کیا جا سکتا ہے؟
اس دلیل کا دوسرا رخ بھی ہے۔ طویل اقتدار کسی حکومت کو جواب دہی سے آزاد نہیں کرتا۔ اگر پی ٹی آئی نے تیرہ برس صوبے میں حکومت کی ہے تو امن و امان، پولیس، انتظامی صلاحیت اور عوامی تحفظ کے معاملات میں اس کی کارکردگی پر سوال اٹھانا جائز ہے۔ لیکن یہی اصول وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ذمہ داری کا تعین ثبوت کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی پسند یا ناپسند کے مطابق۔ اگر صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف قومی حکمتِ عملی میں تعاون نہیں کیا تو اس کے شواہد سامنے آنے چاہییں؛ اگر وفاقی یا ریاستی پالیسیوں نے حالات کو خراب کیا تو ان کا جائزہ بھی اسی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
محمود خان اچکزئی کا مؤقف اس بحث کو مزید وسیع کرتا ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی حیثیت سے وہ گورنر راج اور ایمرجنسی کو صرف پی ٹی آئی کے خلاف اقدام نہیں بلکہ آئینی نظام اور صوبائی اختیار کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ بارہ اکتوبر کو پارلیمان کے باہر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بلوچستان کی صورتِ حال کا حوالہ دیا اور سوال اٹھایا کہ اگر دہشت گردی اور ریاستی عمل داری کی کمزوری گورنر راج کی بنیاد ہے تو بلوچستان میں مختلف طرزِ عمل کیوں اختیار کیا گیا؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان کے وسیع علاقوں میں ریاستی عمل داری کا مسئلہ موجود ہے، لیکن وہاں یہی اقدام نہیں کیا گیا کیونکہ ان کے بقول وہاں کی صوبائی حکومت وفاق کی پسندیدہ حکومت ہے۔ یہ ان کا سیاسی الزام ہے، کوئی غیر جانب دار سرکاری نتیجہ نہیں؛ تاہم یہ سوال ضرور پیدا کرتا ہے کہ غیر معمولی آئینی اختیارات کے استعمال میں معیار یکساں اور قابلِ وضاحت ہونا چاہیے۔
اچکزئی نے اس فیصلے کے خلاف آئینی اور جمہوری جدوجہد کا اعلان کیا، لیکن ساتھ ہی احتجاج کو پُرامن رکھنے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت اور پاکستان کے مستقبل سے دلچسپی رکھنے والوں کو اس اقدام کے خلاف متحد ہونا چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے مذاکرات کے دروازے بھی مکمل طور پر بند نہیں کیے، اگرچہ اپنے سیاسی مؤقف اور ملاقاتوں کے طریقۂ کار کے حوالے سے سخت شرائط بیان کیں۔ ان کے کردار کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی حمایت کو آئین کے دفاع کے ساتھ جوڑتے ہیں، مگر ان دونوں کو لازماً ایک ہی سیاسی معاملہ قرار نہیں دیتے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے بھی گورنر راج کو عدالتوں، اسمبلیوں اور عوامی فورموں پر چیلنج کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا دفاع کرنا اور اس کے خاتمے کے لیے اختیار کیے گئے طریقۂ کار پر اعتراض کرنا ایک بات نہیں۔ کسی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرنا اور اس کے عوامی مینڈیٹ کو غیر معمولی آئینی اختیار کے ذریعے ختم کرنے کی مخالفت کرنا بھی دو مختلف معاملات ہیں۔ ایمل ولی خان کی پی ٹی آئی پر تنقید اور گورنر راج کی مخالفت اس فرق کی نمایاں مثال ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کی مذاکراتی کوششیں اور اچکزئی کی آئینی مزاحمت بھی اسی سوال کی مختلف صورتیں ہیں۔
لیکن اس بحث کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جسے ان تینوں رہنماؤں سمیت پوری سیاسی قیادت کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے۔ خیبرپختونخوا کے عوام صرف آئینی بحثوں کے تماشائی نہیں؛ وہ دہشت گردی، پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں، بے گھر ہونے، معاشی مشکلات اور عدم تحفظ کے حقیقی نتائج بھگت رہے ہیں۔ اگر صوبائی حکومت نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں تو اس کی جواب دہی ضروری ہے۔ اگر وفاقی حکومت کے پاس صوبائی حکومت کے عدم تعاون کے شواہد ہیں تو انہیں شفاف انداز میں سامنے لانا چاہیے۔ اور اگر ہنگامی حالت اور گورنر راج آئینی تقاضوں کے مطابق نافذ نہیں کیے گئے تو اس کا فیصلہ سیاسی تقاریر نہیں بلکہ متعلقہ آئینی و قانونی فورموں کو کرنا چاہیے۔
آئین کا آرٹیکل 232 ہنگامی حالت کے لیے مخصوص حالات اور شرائط سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں طریقۂ کار فراہم کرتا ہے۔ دونوں دفعات کے مقاصد اور قانونی تقاضے الگ ہیں۔ لہٰذا ان کا بیک وقت استعمال محض حکومت کے اعلان سے درست ثابت نہیں ہو جاتا؛ اس کی آئینی بنیاد، متعلقہ حقائق اور قانونی شرائط کا جائزہ ضروری ہے۔ اسی طرح کسی اقدام کو سیاسی طور پر غیر جمہوری کہہ دینا بھی اس کے قانونی انجام کا حتمی فیصلہ نہیں۔ اصل کسوٹی آئین، شواہد اور قانون کی ہوگی۔
اب سوال یہ ہے کہ ان تینوں رہنماؤں کے مؤقف سے کون سا نتیجہ اخذ کیا جائے؟ کیا یہ پی ٹی آئی کے حق میں سیاسی اتحاد ہے؟ دستیاب بیانات اس نتیجے کی تائید نہیں کرتے۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ مختلف سیاسی اختلافات رکھنے والے رہنما ایک مخصوص آئینی اقدام کی مخالفت پر متفق ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن مذاکرات اور آئینی فورموں کی بات کرتے ہیں، ایمل ولی خان عوامی مینڈیٹ کے ساتھ ریاستی اور سیاسی جواب دہی کا سوال اٹھاتے ہیں، جبکہ محمود خان اچکزئی آئینی مزاحمت اور پُرامن سیاسی جدوجہد پر زور دیتے ہیں۔ ان کے راستے اور ترجیحات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے میں ان کا مشترکہ اعتراض وفاقی حکومت کے فیصلے کو ایک وسیع تر جمہوری بحث کا موضوع بنا دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی کارکردگی پر سوال اٹھانا جمہوریت کے خلاف نہیں، اور نہ ہی پی ٹی آئی کے سیاسی مخالفین پر یہ لازم ہے کہ وہ اس کی صوبائی حکومت کے خاتمے کے ہر طریقے کی حمایت کریں۔ اسی طرح گورنر راج کی مخالفت کا مطلب دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی مخالفت نہیں ہو سکتا۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی، وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون، پولیس کی استعداد، عوامی تحفظ اور سیاسی اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات—یہ سب ریاست کی ذمہ داریاں ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
یہ معاملہ صرف پی ٹی آئی کی حکومت کا نہیں، پاکستان کے وفاقی نظام کا امتحان بھی ہے۔ اگر کسی صوبائی حکومت کی ناکامی ثابت ہو تو اسے آئینی طریقے سے جواب دہ بنایا جائے؛ اگر وفاقی حکومت غیر معمولی اختیارات استعمال کرے تو اس سے بھی آئینی بنیاد اور شواہد طلب کیے جائیں۔ ریاستی سرپرستی کے ذریعے سیاسی جماعتیں بنانا یا انہیں اقتدار تک پہنچانا درست نہیں، اور پھر پیدا ہونے والے مسائل کی ذمہ داری صرف سیاسی جماعتوں پر ڈال دینا بھی مکمل جواب دہی نہیں۔ عوام کا ووٹ کسی حکومت کو غیر محدود اختیار نہیں دیتا، مگر وفاقی حکومت کو بھی یہ حق نہیں دیتا کہ وہ سیاسی اختلاف یا ناقص کارکردگی کے ہر الزام کو منتخب اقتدار ختم کرنے کا جواز بنا لے۔
مولانا فضل الرحمٰن، ایمل ولی خان اور محمود خان اچکزئی کے مؤقف کا اصل وزن اسی نکتے میں ہے کہ کسی جماعت سے اختلاف اپنی جگہ، مگر آئین کا معیار جماعتوں کے نام دیکھ کر تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ اگر یہ اصول صرف اپنے سیاسی مخالف کے اقتدار میں ہونے تک یاد رکھا جائے تو وہ جمہوری اصول نہیں، سیاسی سہولت بن کر رہ جاتا ہے۔ اور اگر اسے مخالف جماعت کے لیے بھی اسی طرح تسلیم کیا جائے جس طرح اپنی جماعت کے لیے کیا جاتا ہے تو شاید پاکستان کی سیاست پہلی بار شخصیات اور جماعتوں سے آگے بڑھ کر اصولوں کی بنیاد پر گفتگو کرنا شروع کر دے۔
واپس کریں