دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نوشیروان برکی، صحت کارڈ اور سرکاری صحت کے نظام کی تباہی
No image (پشاور) رپورٹ ۔ خالد خان
ریاست کا کام صرف غریب شہری کو مہنگے علاج کے لیے مالی مدد دینا نہیں، بلکہ ایسا سرکاری نظام قائم رکھنا بھی ہے جہاں بیماری کی صورت میں اسے ڈاکٹر، ٹیسٹ، دوا، داخلے اور ضروری علاج کے لیے اپنی جیب نہ ٹٹولنی پڑے۔ خیبرپختونخوا میں نوشیروان برکی کے اصلاحاتی تصور، صحت کارڈ پلس اور سرکاری ہسپتالوں کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو بنیادی سوال یہی سامنے آتا ہے کہ حکومت نے اپنے اس فرض کو مضبوط کیا یا اس کی جگہ ایک ایسا مالیاتی ماڈل متعارف کرایا جس میں عوامی رقم سے علاج کی ادائیگیاں تو ہونے لگیں، مگر سرکاری صحت کی بنیادی سہولتیں کمزور ہوتی گئیں؟
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 25-A پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 38(d) ریاست کو ان شہریوں کے لیے، جو بیماری، معذوری یا بے روزگاری کے باعث روزگار کمانے کے قابل نہ ہوں، بنیادی ضروریاتِ زندگی بشمول تعلیم اور طبی امداد فراہم کرنے کا اصول دیتا ہے۔ صحت اور تعلیم میں نجی شعبے کی موجودگی اپنی جگہ، لیکن نجی سہولتیں ریاست کی بنیادی ذمہ داری کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ آئینی اصول یہ نہیں کہ ریاست غریب کو ایک کارڈ دے کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائے؛ اصل سوال یہ ہے کہ سرکاری نظام شہری کو کیا فراہم کر رہا ہے۔
خیبرپختونخوا میں نوشیروان برکی کے زیرِ اثر متعارف ہونے والی صحت اصلاحات کا بنیادی مسئلہ بھی یہی ہے۔ بڑے سرکاری تدریسی ہسپتالوں کو میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ریفارمز ایکٹ 2015 کے تحت انتظامی اور مالی خودمختاری دی گئی۔ دوسری طرف صحت کارڈ پلس کے ذریعے علاج کی ادائیگی کا نظام پھیلایا گیا، جس کے تحت مریض مخصوص شرائط اور منظور شدہ پیکیج کے مطابق سرکاری یا نجی ہسپتال میں داخل ہو کر علاج کرا سکتا ہے۔ یوں ریاست نے اپنے وسائل سے علاج کی ادائیگی کا ایک نیا طریقہ اختیار کیا، مگر اس کے ساتھ یہ سوال پس منظر میں چلا گیا کہ سرکاری ہسپتالوں کی اپنی مستقل سہولتیں کتنی مضبوط ہوئیں اور عام مریض کے لیے علاج کس حد تک مفت اور قابلِ رسائی رہا۔
پرانے سرکاری نظام سے واقف شہریوں کے تجربے میں سرکاری ہسپتال کی بنیادی ذمہ داری واضح تھی۔ عام پرچی پر ماہر ڈاکٹر سے معائنہ، ضروری ٹیسٹ، داخلہ، آپریشن، خون اور دستیاب ادویات بنیادی طبی سہولتوں کا حصہ تھیں۔ کسی دوا کی عدم دستیابی پر انڈنٹ جاری کرنے کا طریقۂ کار بھی موجود تھا، جبکہ نجی کمرے کے لیے ادائیگی کرنا پڑتی تھی۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پرانے نظام میں کوئی خرابی نہیں تھی؛ مگر بنیادی تصور یہ تھا کہ سرکاری ہسپتال میں علاج فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، مریض کی مالی استطاعت پر منحصر سہولت نہیں۔
نوشیروان برکی کے اصلاحاتی ماڈل میں سرکاری ہسپتالوں کو روایتی انتظامی ڈھانچے سے نکال کر خودمختار بورڈز کے سپرد کیا گیا۔ اس تبدیلی کے حامیوں کا دعویٰ تھا کہ اس سے فیصلے تیز ہوں گے، انتظامی مداخلت کم ہوگی اور علاج کا معیار بہتر ہوگا۔ لیکن اس سوال کا جواب آج بھی درکار ہے کہ خودمختاری نے عام مریض کو کیا دیا؟ اگر اداروں کو اپنی آمدنی پیدا کرنے اور خدمات پر چارجز مقرر کرنے کی گنجائش ملے، اور مریض کے لیے بنیادی سہولتوں تک رسائی مہنگی ہونے لگے، تو اسے اصلاح کہنا کافی نہیں۔ اصلاح کا پیمانہ اختیار حاصل کرنے والے ادارے نہیں، وہ مریض ہے جس کے لیے یہ اختیارات استعمال کیے گئے تھے۔
اس تبدیلی کا ایک واضح پہلو تدریسی ہسپتالوں کی فیسوں میں اضافہ ہے۔ 26 مئی 2025 کے ایک رپورٹ کے مطابق خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں او پی ڈی اور ایمرجنسی پرچی کی فیس 20 روپے سے بڑھا کر 50 روپے، میڈیکل وارڈ میں داخلے کی فیس 100 روپے سے بڑھا کر 500 روپے اور آپریشن تھیٹر کی فیس 300 روپے سے بڑھا کر 500 روپے کر دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق یہ اضافہ ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کی منظوری سے کیا گیا۔ یہ اعدادوشمار کم از کم اس بات کا ثبوت ہیں کہ خودمختار تدریسی ہسپتالوں میں مریضوں سے وصول ہونے والی فیسیں محض نظریاتی خدشہ نہیں رہیں، بلکہ ان میں عملی اضافہ ہوا۔
یہاں سوال صرف چند روپے کا نہیں۔ غریب مریض کے لیے پرچی، ٹیسٹ، دوا اور سفر کا مجموعی خرچ اہم ہوتا ہے۔ اگر پہلے سرکاری نظام میں بنیادی علاج ریاست کی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا اور اب اسی نظام میں مختلف خدمات کے لیے فیسیں بڑھ رہی ہیں تو حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ یہ رقم کیوں وصول کی جا رہی ہے، اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کہاں خرچ ہوتی ہے اور اس کے بدلے مریض کو کون سی اضافی سہولت ملتی ہے۔ خودمختاری کے نام پر مریض پر مالی بوجھ ڈالنا تبھی قابلِ جواز ہو سکتا ہے جب اس کے نتائج، استثناؤں اور مالیاتی استعمال کا شفاف حساب بھی موجود ہو۔
صحت کارڈ پلس کے مالیاتی اعدادوشمار اس پالیسی کی سمت کو مزید واضح کرتے ہیں۔ 12 جنوری 2025 کی رپورٹ کے مطابق 2016 میں پروگرام کے آغاز سے اس وقت تک تقریباً 100 ارب روپے خرچ کیے جا چکے تھے۔ ان میں 54.32 ارب روپے نجی ہسپتالوں اور 44.66 ارب روپے سرکاری ہسپتالوں کو ملے۔ یعنی صحت کارڈ کے تحت علاج کی ادائیگیوں میں نجی شعبے کو بھی بہت بڑی رقم منتقل ہوئی۔ یہ ریاستی وسائل کا ایسا استعمال تھا جس کا تقابل سرکاری ہسپتالوں کی اپنی سہولتوں پر ہونے والی سرمایہ کاری، ادویات کی دستیابی اور مستقل طبی استعداد میں اضافے سے ہونا چاہیے تھا۔
یہاں اصل اعتراض نجی ہسپتالوں میں علاج کرانے پر نہیں، بلکہ اس ترجیح پر ہے جس کے تحت سرکاری وسائل سے نجی ہسپتالوں کے علاج کے اخراجات ادا کیے گئے، جبکہ سرکاری ہسپتالوں کو مضبوط بنانے کے نتائج کا واضح اور جامع حساب عوام کے سامنے نہیں آیا۔ نجی ہسپتالوں میں علاج کی سہولت ایسے شہریوں کے لیے مفید ہو سکتی ہے جنہیں سرکاری ہسپتال میں مطلوبہ علاج دستیاب نہ ہو۔ لیکن اگر ریاست نجی علاج کے بل ادا کرنے پر اربوں روپے خرچ کرے اور اسی وقت سرکاری نظام میں بنیادی ادویات اور خدمات کی دستیابی کا مسئلہ برقرار رہے تو ترجیحات پر سوال اٹھانا عوام کا حق ہے۔
یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ صحت کارڈ کے ابتدائی برسوں میں نجی ہسپتال اس پروگرام سے نمایاں آمدنی حاصل کرتے رہے۔ تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ ہر سال نجی ہسپتال ہی زیادہ رقم لیتے رہے۔ مارچ 2025 میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2024 میں سرکاری ہسپتالوں کو صحت کارڈ کے تحت 15.37 ارب روپے اور نجی ہسپتالوں کو 7.695 ارب روپے ملے۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ سرکاری ہسپتال بھی اس پروگرام سے آمدنی حاصل کرنے لگے تھے۔ مگر اس سے بنیادی سوال ختم نہیں ہوتا کہ صحت کارڈ سے حاصل ہونے والی رقم نے سرکاری ہسپتالوں کی مستقل طبی سہولتوں میں کیا بہتری پیدا کی، اور اس آمدنی کا کتنا حصہ ادویات، عملے، تشخیصی آلات اور عام مریض کی نگہداشت پر خرچ ہوا؟
صحت کارڈ کا بنیادی دائرہ مخصوص شرائط کے تحت داخل مریض کے علاج کی ادائیگی ہے۔ اسے سرکاری صحت کے پورے نظام کے برابر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عام او پی ڈی، روزمرہ بیماریوں کی تشخیص، مستقل ادویات، بنیادی مراکزِ صحت اور ضلعی ہسپتالوں کی مسلسل خدمات الگ ذمہ داریاں ہیں۔ اگر ریاست ان سہولتوں کو مضبوط بنانے کے بجائے اپنی کامیابی کا حساب صحت کارڈ سے علاج پانے والے مریضوں کی تعداد اور ادا کیے گئے بلوں سے دینے لگے تو پالیسی کا اصل مقصد ہی بدل جاتا ہے۔ مہنگے آپریشن کی ادائیگی اہم ہے، مگر عام شہری کو بخار، انفیکشن، بلڈ پریشر، ذیابیطس یا دوسری روزمرہ بیماریوں کے لیے ڈاکٹر اور دوا فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
اس فرق کا ایک عملی اظہار ضلعی ہسپتالوں کی ادویات کی دستیابی سے متعلق رپورٹوں میں نظر آتا ہے۔ جون 2025 میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق صوبے کے 32 ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں 174 ضروری ادویات میں سے صرف 45 فیصد دستیاب تھیں۔ یہ ایک مخصوص مدت کی نگرانی کا نتیجہ تھا، پورے صوبے کے ہر ہسپتال کی ہر وقت کی صورتِ حال نہیں؛ تاہم یہ اس بنیادی مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے جسے صحت کارڈ کے مجموعی اخراجات چھپا نہیں سکتے۔ جب سرکاری ہسپتال میں ضروری دوا دستیاب نہ ہو تو مریض کو بازار سے خریدنی پڑتی ہے، خواہ کسی دوسرے مریض کا مہنگا علاج صحت کارڈ کے ذریعے ادا ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔
صحت کارڈ کے انشورنس ماڈل پر بھی سوال اٹھے۔ نومبر 2025 میں رپورٹ کیا گیا کہ صوبائی حکومت نے فی خاندان مقررہ سالانہ پریمیم ادا کرنے کے بجائے فنڈ مینجمنٹ ماڈل اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ سابقہ طریقے میں حکومت سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کو فی خاندان سالانہ 4,000 روپے پریمیم ادا کرتی تھی۔ نئے ماڈل کے تحت علاج کے اصل اخراجات کے علاوہ 5.6 فیصد انتظامی لاگت، جس کی رپورٹ میں رقم 1.8 ارب روپے بتائی گئی، ادا کی جانی تھی۔ حکام نے نئے ماڈل سے سالانہ سات سے آٹھ ارب روپے بچانے کا تخمینہ پیش کیا۔ یہ حکومتی تخمینہ تھا، ثابت شدہ بچت نہیں؛ اس کی تصدیق کے لیے نئے اور پرانے ماڈل کے حقیقی اخراجات اور نتائج کا تقابل ضروری ہے۔
یہ تبدیلی ایک اور بنیادی سوال اٹھاتی ہے کہ اگر پہلے ماڈل میں مالیاتی لاگت زیادہ تھی اور حکومت نے بعد میں اسے کم کرنے کے لیے نظام تبدیل کیا تو سابقہ اخراجات، انتظامی فیسوں اور حاصل شدہ نتائج کا مکمل حساب کہاں ہے؟ انشورنس کمپنی کو ادائیگی محض اس لیے قابلِ اعتراض نہیں کہ وہ نجی یا نیم سرکاری ادارہ ہے؛ سوال یہ ہے کہ عوامی رقم کے بدلے کیا خدمت حاصل ہوئی، انتظامی اخراجات کتنے مناسب تھے اور نگرانی کا نظام کتنا مؤثر تھا۔ جب خود حکومت مالیاتی ماڈل بدلنے کو ترجیح دے تو اسے سابقہ طریقے کی کارکردگی اور نئے طریقے کی حقیقی بچت دونوں کے اعدادوشمار شائع کرنے چاہییں۔
نوشیروان برکی کے کردار کا جائزہ بھی اسی بنیادی سوال سے جڑا ہے۔ صحت کارڈ اور ایم ٹی آئی اصلاحات قانونی اور انتظامی اعتبار سے الگ اقدامات ہیں، اس لیے صحت کارڈ کے ہر فیصلے یا ہر فیس میں اضافے کو ان کا ذاتی فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ لیکن ایم ٹی آئی اصلاحات کے اہم معمار اور پالیسی بورڈ کے سربراہ کے طور پر ان کے اصلاحاتی تصور، خودمختاری کے ڈھانچے اور اس کے نفاذ پر سوال اٹھانا بالکل جائز ہے۔ اگر اس ماڈل کا وعدہ بہتر خدمات، شفاف مالیاتی انتظام اور مریض کو سہولت دینا تھا تو ان نتائج کا ثبوت بھی پیش کیا جانا چاہیے۔ پالیسی ساز اپنے تصور کی کامیابی کا دعویٰ تو کر سکتے ہیں، مگر اس کے نتائج سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔
25 مارچ 2026 کی رپورٹ کے مطابق میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز کا مالیاتی آڈٹ شروع نہیں ہو سکا تھا، حالاں کہ اس مقصد کے لیے 10.5 ملین روپے مختص کیے گئے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ آڈٹ کے طریقۂ کار میں تبدیلی کے بعد بھی عمل شروع نہیں ہوا تھا، جبکہ نوشیروان برکی نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے آڈٹ کو زیرِ عمل قرار دیا تھا۔ آڈٹ میں تاخیر بذاتِ خود مالی بدعنوانی کا ثبوت نہیں، لیکن خودمختار اداروں میں مالیاتی نگرانی کے نظام کی کمزوری یا تاخیر ایک سنجیدہ انتظامی سوال ضرور ہے۔ جب اداروں کو زیادہ مالی اختیار دیا جائے تو ان کے اخراجات کی آزادانہ جانچ بھی زیادہ ضروری ہو جاتی ہے۔
سرکاری صحت کے نظام کی کمزوری کا بوجھ آخرکار مریض اٹھاتا ہے۔ اسے کبھی فیس ادا کرنا پڑتی ہے، کبھی ٹیسٹ باہر سے کرانا پڑتا ہے اور کبھی دوا بازار سے خریدنی پڑتی ہے۔ دوسری طرف حکومت صحت کارڈ کے اخراجات، ہسپتالوں کی آمدنی اور بجٹ میں اضافے کو کامیابی کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔ لیکن مریض کی جیب سے ہونے والے اخراجات، بنیادی سہولتوں کی دستیابی اور علاج کے نتائج کے اعدادوشمار کے بغیر یہ دعویٰ ادھورا ہے۔ صحت کارڈ سے علاج پانے والے مریضوں کی تعداد اپنی جگہ اہم ہے، مگر وہ اس سوال کا جواب نہیں دیتی کہ سرکاری ہسپتال میں عام مریض کی حالت بہتر ہوئی یا نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ نوشیروان برکی کے اصلاحاتی ماڈل کا حتمی حساب قوانین، بورڈز اور بجٹ کی رقم سے نہیں بلکہ اس کے عملی نتائج سے ہونا چاہیے۔ اصلاحات سے پہلے اور بعد میں سرکاری ہسپتالوں کی فیسوں، ادویات کی دستیابی، ڈاکٹروں اور عملے کی تعداد، تشخیصی سہولتوں، مریضوں کے ذاتی اخراجات اور علاج کے نتائج کا تقابلی ریکارڈ سامنے لایا جائے۔ صحت کارڈ کے تحت سرکاری اور نجی ہسپتالوں کو ادا کی گئی رقوم کا ادارہ وار حساب بھی شائع کیا جائے، تاکہ معلوم ہو کہ عوامی وسائل سے کس کو کیا فائدہ پہنچا اور سرکاری ہسپتالوں کی مستقل استعداد کتنی بڑھی۔
ریاستی ذمہ داری کو انشورنس کی ادائیگی میں تبدیل کر دینا صحت کی پالیسی کا مکمل متبادل نہیں۔ صحت کارڈ غریب خاندان کو کسی مہنگے علاج کے مالی بوجھ سے بچا سکتا ہے، لیکن وہ اس وقت تک ایک مضبوط سرکاری نظام کی جگہ نہیں لے سکتا جب تک عام شہری کو ہسپتال پہنچنے پر ڈاکٹر، ٹیسٹ، دوا اور ضروری علاج میسر نہ ہوں۔ نجی ہسپتالوں کی موجودگی قابلِ قبول ہو سکتی ہے، مگر عوامی وسائل سے ان کے بل ادا کرنے کے ساتھ سرکاری ہسپتالوں کو مضبوط بنانا بھی لازم ہے۔ ورنہ ریاست ایک طرف علاج کے اخراجات ادا کرنے کا دعویٰ کرے گی اور دوسری طرف مریض اپنی بنیادی ضروریات کے لیے اپنی جیب سے خرچ کرتا رہے گا۔
نوشیروان برکی اور ان کے ہم خیال پالیسی سازوں سے اصل سوال یہی ہے کہ جس خودمختاری اور صحت کارڈ کے ذریعے نظام بہتر بنانے کا دعویٰ کیا گیا، اس نے عام مریض کو کیا دیا؟ اگر اربوں روپے خرچ ہونے، ہسپتالوں کو مالی اختیار ملنے اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے باوجود بنیادی علاج تک رسائی مشکل ہے تو اصلاحات کے نتائج کا ازسرنو جائزہ کیوں نہ لیا جائے؟ ریاست کا فرض صرف علاج کے بل ادا کرنا نہیں، بلکہ ایسا سرکاری نظام قائم رکھنا ہے جس میں شہری کو بیماری کے وقت اپنی بنیادی طبی ضرورتوں کے لیے محتاج نہ ہونا پڑے۔
صحت کے شعبے میں کسی پالیسی کی کامیابی کا معیار یہ نہیں کہ اس کے تحت کتنی رقم خرچ ہوئی یا کتنے مریضوں کے بل ادا کیے گئے۔ اصل معیار یہ ہے کہ شہری کو علاج ملا یا نہیں، اس پر اپنی جیب سے کتنا خرچ آیا اور ریاست نے اپنی ذمہ داری کس حد تک پوری کی۔ اگر صحت کارڈ کے اعدادوشمار اچھے ہیں لیکن سرکاری ہسپتال میں عام مریض کو ڈاکٹر، ٹیسٹ اور دوا کے لیے مشکلات کا سامنا ہے تو اسے پورے نظام کی کامیابی نہیں کہا جا سکتا۔ نوشیروان برکی کی اصلاحات کا بھی یہی حساب ہونا چاہیے کہ ریاستی وسائل کے استعمال کا حساب، سرکاری سہولتوں کے زوال یا بہتری کا حساب، اور سب سے بڑھ کر اس مریض کا حساب جس کے نام پر یہ پورا نظام بنایا گیا تھا۔
واپس کریں