
کل ملا کر،ناچیز اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اس ملک کے کرتا دھرتاوں اور مالکان کو عوام کے مسائل اور مشکلات سے کوئی لینا دینا نہیں،
پاکستان جیسے ملک میں روزمرہ زندگی کے مسائل عام شہری کے لیے کوئی خفیہ حقیقت نہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، مہنگی بجلی و گیس اور اوپر سے اس کا بحران، صحت و تعلیم کے ناقص نظام اور عام شہری کی انصاف تک عدم رسائی ۔ یہ سب حقیقتیں عوام کی زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔
دوسری جانب حکمران طبقہ، چاہے وہ سیاسی،حکومتی اشرافیہ ہو یا فیصلہ ساز،ایسی زندگی گزار رہے ہیں جو عوام کو درپیش مسائل سے کوسوں دور ہے۔ عالی شان بنگلوں، غیر ملکی دوروں، اور عیش و آرام والی زندگی میں وہ عوامی مشکلات کو کیسے محسوس کر سکتے ہیں۔
یہ فاصلہ محض مادی نہیں بلکہ سوچ کا بھی ہے یعنی جب حکمران طبقہ اپنے فیصلے کرتا ہے تو قلیل المدتی سیاسی مفادات،اپنی اپنی پارٹی کی بقا یا پھر ذاتی و گروہی فوائد کو ترجیح دی جاتی ہے اورعوامی فلاح و بہبود کو نعروں اور وعدوں تک محدود کر دیا جاتا ہے جبکہ عملی اقدامات یا تو ناپائیدار ہوتے ہیں یا تاخیر کا شکار۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام میں مایوسی بڑھتی ہے اور حکمرانوں پر اعتماد کم ہوتا جاتا ہے۔
حکمرانوں کا مذکورہ رجحان کوئی نیا نہیں۔ نوآبادیاتی دور سے لے کر آج تک طاقت کے مراکز ایک محدود طبقے کے ہاتھ میں ہی رہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں،جاگیردار، صنعتی گروہ اور بیوروکریسی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس ساخت میں عوام کا کردار محض ووٹ دینے تک محدود رہ جاتا ہے، جبکہ حقیقی فیصلے اسی ایک مخصوص دائرے میں ہوتے ہیں۔
چونکہ خود احتسابی اور ذمہ داری کا نظام کمزور ہے اس باعث جب کوئی حکمران ناکام ہوتا ہے تو اسے احتساب کا سامنا کم ہی کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس، ناکامیوں کو اکثر بیرونی عوامل، گزشتہ حکومتوں یا عالمی حالات کی طرف موڑ دیا جاتا ہے یوں اس طرح عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے الزام تراشی کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
جب تک بنیادی عوامی مسائل، کرپشن،طاقت کا ارتکازحل نہیں ہوتا، عارضی یا وقتی اقدامات عوام کی زندگی میں پائیدار تبدیلی نہیں لا سکتے۔دوسری طرف، عوام الناس خود بھی ذمہ دار ہیں۔ ووٹ دیتے وقت جذبات، ذاتی تعلقات یا قلیل المدتی فوائد کو ترجیح دینا اور مسلسل احتساب کا مطالبہ نہ کرنا، عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
مذکورہ بالا صورت حال حل صرف نئے حکمرانوں کے آنے میں نہیں بلکہ نظام کی اصلاح میں ہے۔ شفافیت، آزاد عدلیہ، مضبوط مقامی حکومتیں اور میڈیا و سول سوسائٹی کا آزادانہ کردار اہم ہیں۔مسائل کی چکی میں پستے ہوئے عوام ہی وہ دباؤ پیدا کر سکتے ہیں جو حکمرانوں کو عوامی مسائل کی طرف متوجہ کرے۔ گو کہ اس ملک یا ریاست کے کرتا دھرتا عوام کے روزمرہ کے دکھ درد سے دور ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مثبت تبدیلی صرف شکایت یا آہ و بکار کرنے سے نہیں بلکہ منظم، پرامن اور مسلسل کوشش سے آتی ہے۔ عوام اگر عملی طور پر اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھ کر آگے بڑھیں تو حکمران طبقے کو بھی اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا کہ ان کا اقتدار عوام کی رضامندی پر منحصر ہے۔
واپس کریں