
خیبرپختونخوا میں گورنر راج، ایمرجنسی اور اصلاحات کے نام پر قائم گیارہ رکنی مشاورتی کونسل کو محض ایک انتظامی تبدیلی سمجھنا شاید اس پورے معاملے کی اصل روح سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔ یہ معاملہ صرف پاکستان تحریک انصاف کی حکومت، اس کی ناقص حکمرانی، کرپشن، انتظامی نااہلی یا وفاق کے ساتھ اس کے اختلافات کا نہیں، بلکہ ریاستی پالیسیوں، سیاسی بندوبست، جواب دہی اور اس عام آدمی کا بھی ہے جو ہر تجربے کی قیمت ادا کرتا آیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا میں طویل حکمرانی پر سوال اٹھانے کے لیے کسی دوسری جماعت کا حامی ہونا ضروری نہیں۔ تیرہ برس کے اقتدار اور اس دوران ہونے والی حکمرانی کا جائزہ لینا عوام کا حق ہے۔ کرپشن کے الزامات ہوں، انتظامی ناکامیاں، ترقیاتی ترجیحات یا وفاق کے ساتھ قومی سلامتی کے معاملات پر اختلافات، ان سب کا غیر جانب دارانہ احتساب ہونا چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف پالیسی اور صوبائی حکومت کے طرزِ عمل پر بھی سوال اٹھنے چاہییں، کیونکہ اس صوبے نے دہشت گردی کی جو قیمت ادا کی ہے، اس کا احساس کسی سیاسی جماعت کی انتخابی ضرورت تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
لیکن کسی حکومت کی نااہلی اور دہشت گردوں کی سرپرستی دو مختلف الزامات ہیں۔ اول الذکر کے شواہد ہوں تو اس کا احتساب کیا جائے، مؤخرالذکر کا الزام ہو تو اسے بھی شواہد سے ثابت کیا جائے۔ سیاسی مؤقف، مذاکرات کی حمایت، کسی پالیسی کی مخالفت اور دہشت گردی کی عملی حمایت کو ایک ہی خانے میں رکھ دینا انصاف نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا اور ریاست کی ہر پالیسی کو بلا سوال درست تسلیم کرنا بھی دو الگ باتیں ہیں۔ ریاستی پالیسیوں پر اختلاف کو غداری یا دہشت گردوں کی حمایت کا مترادف قرار دینا مسائل حل نہیں کرتا، بلکہ ان سوالات کو دبانے کا ذریعہ بن سکتا ہے جن کے جواب تلاش کرنا ضروری ہیں۔
تاہم اس بحث کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جسے نظرانداز کرنا آسان، مگر اس کا جواب دینا مشکل ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی تاریخ کا ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ سیاسی قوت کیسے بنی اور اقتدار کے ایوانوں تک کیسے پہنچی؟ جس جماعت کی ابتدائی انتخابی حیثیت محدود تھی، اسے ملک کی ایک بڑی سیاسی قوت بنانے میں عوامی حمایت کے ساتھ ساتھ ریاستی سرپرستی اور طاقت ور حلقوں کے کردار پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اگر ریاستی اداروں نے کسی سیاسی جماعت کو مقبول بنانے، اسے اقتدار تک پہنچانے یا اس کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں کردار ادا کیا تو آج اس تجربے کے نتائج سے لاتعلقی اختیار نہیں کی جا سکتی۔
پی ٹی آئی کی حکمرانی ناکام ہوئی، اس نے غلط فیصلے کیے یا دہشت گردی کے معاملے میں ناقص حکمت عملی اپنائی، تو اسے جواب دینا ہوگا۔ لیکن اسے اقتدار کے قابل بنانے والوں سے بھی پوچھا جانا چاہیے کہ انہوں نے کس بنیاد پر یہ سیاسی تجربہ کیا، اس کے نتائج کیا نکلے اور ان نتائج کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟ ریاستی غلطیوں کا بوجھ صرف سیاسی جماعت پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دینا احتساب نہیں، ذمہ داری کی منتقلی ہے۔ جس ریاست نے سیاسی بندوبست تشکیل دینے میں کردار ادا کیا ہو، اسے اس بندوبست کی ناکامی پر اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، نہ کہ ایک مرتبہ پھر سارا بوجھ دوسروں کے کندھوں پر ڈال کر نئے تجربے کی تیاری شروع کر دینی چاہیے۔
یہ سوال کسی جماعت کو معاف کرنے کے لیے نہیں، بلکہ احتساب کا دائرہ مکمل کرنے کے لیے ہے۔ اگر کسی سیاسی جماعت نے غلط فیصلے کیے تو اس کا حساب کیا جائے، لیکن اگر ریاستی اداروں نے بھی غلط اندازے لگائے، غلط لوگوں پر اعتماد کیا یا ایسے سیاسی تجربات کیے جن کے نتائج ملک اور عوام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے تو ان فیصلوں کا حساب کون دے گا؟ کیا ریاستی غلطیوں کا اعتراف صرف اس وقت ضروری ہوتا ہے جب ان کا نقصان کسی دوسرے کو پہنچے، یا ریاست خود بھی اپنی پالیسیوں کا جائزہ لینے اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے کی پابند ہے؟
گزشتہ تیرہ برس کی سیاست اور اس دوران ریاستی پالیسیوں پر اٹھنے والے سوالات کو دیکھتے ہوئے یہ بحث مزید اہم ہوجاتی ہے۔ جن لوگوں نے مختلف ادوار میں ریاستی حکمت عملی پر اختلاف کیا، ان میں سے بعض کو سیاسی، قانونی یا انتظامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اختلاف کرنے والوں میں ہر شخص درست نہیں تھا اور نہ ہر تنقید لازماً حقائق پر مبنی تھی، لیکن سوال اٹھانے والے ہر شخص کو غلط قرار دینا بھی کسی صحت مند ریاست کا شیوہ نہیں ہوسکتا۔ ریاست کی مضبوطی اس میں نہیں کہ اس کی ہر پالیسی پر خاموشی اختیار کی جائے، بلکہ اس میں ہے کہ غلطی سامنے آنے پر اسے تسلیم کرنے اور درست کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔
بدقسمتی سے ان پالیسیوں کے نتائج کا سب سے بھاری بوجھ عام آدمی اٹھاتا ہے۔ دہشت گردی میں گھر اجڑتے ہیں، کاروبار تباہ ہوتے ہیں، بچے تعلیم سے محروم ہوتے ہیں، خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوتے ہیں اور پولیس و دیگر سکیورٹی اہلکار اپنی جانیں قربان کرتے ہیں۔ سیاسی محاذ آرائی میں سڑکیں بند ہوتی ہیں، روزگار متاثر ہوتا ہے اور ریاستی وسائل سیاسی کشمکش کی نذر ہوتے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں فیصلے کرنے والوں کے پاس اپنے تحفظ کے ذرائع ہوتے ہیں، لیکن عام شہری کے پاس نہ متبادل روزگار ہوتا ہے، نہ محفوظ مستقبل کی ضمانت اور نہ ہی اپنے نقصان کا ازالہ کرانے کی کوئی آسان صورت۔
اب اسی پس منظر میں اصلاحات کے نام پر قائم ہونے والی گیارہ رکنی مشاورتی کونسل کو دیکھیے۔ اس کے ارکان میں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہنے والے افراد، مالیاتی و انتظامی ماہرین، صنعت و تجارت سے وابستہ شخصیات، سیاسی نمائندے اور دیگر شعبوں کے تجربہ کار لوگ شامل ہیں۔ ان میں بعض کی پیشہ ورانہ خدمات نمایاں ہوسکتی ہیں اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانے میں کوئی قباحت نہیں۔ مسئلہ ان کے تجربے یا قابلیت سے انکار کا نہیں، بلکہ اس بنیادی سوال کا ہے کہ اس انتظام میں عام آدمی کہاں کھڑا ہے؟
یہ کونسل اشرافیہ کے نمائندہ چہروں پر مشتمل ہے۔ اس میں اقتدار، اعلیٰ سرکاری عہدوں، سیاسی اور کاروباری حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد تو دکھائی دیتے ہیں، لیکن عام آدمی کی براہِ راست نمائندگی کا کوئی واضح تصور سامنے نہیں آتا۔ کیا اس کونسل میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جس نے زندگی کا بڑا حصہ کم اجرت پر کام کرتے ہوئے گزارا ہو؟ کیا کسی ایسے شہری کی آواز شامل ہے جو دہشت گردی کے باعث اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوا؟ کیا کسی بے روزگار نوجوان، چھوٹے تاجر، کسان یا مزدور کے مسائل براہِ راست اس انتظام کی ترجیحات میں جگہ پائیں گے؟ کیا ان فیصلوں میں ان خاندانوں کی مشکلات کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی جن کے لیے بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ، بجلی کا بل اور بیمار کی دوا مہینے کے آخر میں ناقابلِ حل مسئلہ بن جاتے ہیں؟
کسی شخص کا عام آدمی کی نمائندگی کا دعویٰ کرنا اور اس کی زندگی کے تجربے سے واقف ہونا الگ باتیں ہیں۔ اشرافیہ کا ایک فرد بھی عوام کے لیے بہترین کام کرسکتا ہے، لیکن اس کے لیے محض بلند منصب یا اچھی تعلیمی اسناد کافی نہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ اس کے فیصلوں میں کس کے مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے، وسائل کس طرف جاتے ہیں اور ان فیصلوں کے نتائج کا فائدہ کس طبقے کو پہنچتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں فرانس کی ملکہ میری انطوانیت سے منسوب مشہور قول، ’’اگر ان کے پاس روٹی نہیں تو وہ کیک کیوں نہیں کھاتے؟‘‘ کا استعارہ ہمارے سامنے آتا ہے۔ اس قول کی تاریخی نسبت متنازع ہے، لیکن اس کا علامتی مفہوم آج بھی زندہ ہے: حکمران طبقہ جب محروم لوگوں کی مشکلات کو ان کی اپنی زندگی کے تجربے سے نہیں دیکھتا تو اسے عوام کی بھوک، بے بسی اور محرومی کی شدت کا اندازہ نہیں ہوپاتا۔ قحط ہو یا مہنگائی، بے روزگاری ہو یا بدامنی، مسائل سے محفوظ طبقہ اکثر ان لوگوں کو صبر اور قربانی کا مشورہ دیتا ہے جن کے پاس قربانی دینے کے لیے پہلے ہی بہت کم بچا ہوتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ گیارہ رکنی کونسل میں شامل افراد کتنے بڑے عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان عہدوں پر رہتے ہوئے انہوں نے کون سے مسائل حل کیے، ان کے فیصلوں سے کتنے لوگوں کی زندگی بدلی اور اب وہ خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے کیا مختلف کرنے جا رہے ہیں؟ ان کی سابقہ کارکردگی کا جائزہ لیا جانا چاہیے، لیکن محض عہدوں کی بنیاد پر کسی کو ناکام قرار دینا بھی اتنا ہی غلط ہوگا جتنا کسی کو تجربے کی بنیاد پر انقلابی سمجھ لینا۔ ان کے منصوبے، اختیارات، اہداف اور عملی نتائج ہی ان کی اصل پہچان بننے چاہییں۔
تاہم مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کونسل کے ارکان کتنے اہل ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا اس بندوبست میں عوام کی حالت بدلنے کی کوئی حقیقی گنجائش موجود ہے؟ اگر اختیارات، ترجیحات اور فیصلہ سازی کا ڈھانچہ وہی رہے، اگر جواب دہی کا کوئی مؤثر نظام نہ ہو اور اگر عوام کو محض فیصلوں کے نتائج بھگتنے کے لیے چھوڑ دیا جائے تو چہروں کی تبدیلی سے نظام تبدیل نہیں ہوگا۔ ایسی صورت میں اصلاحات کے دعوے عوام کے لیے ایک اور خوش فہمی ثابت ہوں گے۔ انہیں ایک مرتبہ پھر امید دلائی جائے گی کہ اس بار سب کچھ بدل جائے گا، لیکن جب ان کی زندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئے گی تو ان کے حصے میں صرف مایوسی رہ جائے گی۔
اگر یہ کونسل واقعی اصلاحات کے لیے قائم کی گئی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی ترجیحات واضح کرنا ہوں گی۔ دہشت گردی کے خلاف قابلِ پیمائش حکمت عملی، پولیس اور عدالتی نظام کی بہتری، عوامی وسائل کا شفاف استعمال، تعلیم و صحت کی سہولتیں، روزگار کے مواقع اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی اس کے کام کا حصہ ہونے چاہییں۔ اسے یہ بھی بتانا ہوگا کہ فیصلوں کی جواب دہی کس کے سامنے ہوگی اور عام شہری اپنی شکایت کہاں لے کر جائے گا۔ محض انتظامی تبدیلی، بڑے ناموں کی فہرست اور اصلاحات کے وعدے کسی صوبے کے مسائل کا حل نہیں ہوتے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ اگر غیر معمولی حالات کا حوالہ دے کر غیر معمولی اقدامات کیے جاتے ہیں تو ان کی آئینی بنیاد، ضرورت اور نتائج واضح ہونے چاہییں۔ دہشت گردی کا خاتمہ ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن اس مقصد کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی کامیابی کا فیصلہ بھی نعروں سے نہیں بلکہ امن، تحفظ اور معمولاتِ زندگی کی بحالی سے ہوگا۔ کسی منتخب حکومت کی ناکامی کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی جگہ آنے والا انتظام خودبخود کامیاب ثابت ہوجائے گا۔
ہمیں نہ پی ٹی آئی کی غلطیوں پر پردہ ڈالنا ہے اور نہ ریاستی اداروں کی غلطیوں کو نظرانداز کرنا ہے۔ کسی سیاسی جماعت کی حمایت میں حقائق سے چشم پوشی کرنا بھی درست نہیں اور ریاست کے نام پر ہر فیصلے کو سوال سے بالاتر سمجھنا بھی درست نہیں۔ اصول ایک ہی ہونا چاہیے: جس نے جو غلطی کی، اس کی ذمہ داری اسی پر عائد ہو؛ جس نے جو نقصان پہنچایا، اس کا حساب اسی سے مانگا جائے؛ اور جس نے عوام کے لیے بہتر کام کیا، اس کی خدمات کا اعتراف کیا جائے۔ ریاست کو اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنے میں پہل کرنی چاہیے، کیونکہ جواب دہی سے فرار اختیار کرنے والا کوئی بھی ادارہ مستقبل میں وہی غلطیاں دہرانے کا راستہ کھلا رکھتا ہے۔
کیونکہ آخر میں سوال یہی رہ جاتا ہے کہ فیصلے کوئی اور کرے، سیاسی تجربات کوئی اور کرے، غلطیاں کوئی اور کرے، لیکن ان کی قیمت عام آدمی ہی کیوں ادا کرے؟ ریاست ہو یا حکومت، سیاسی جماعت ہو یا مشاورتی کونسل، کسی کو بھی عوام کے دکھوں سے بالاتر ہوکر اپنے فیصلوں کی کامیابی کا اعلان کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔
ملک اور صوبے کے اصل مالک عوام ہیں۔ اقتدار کے تمام بندوبست، اصلاحات کے تمام منصوبے اور ریاستی پالیسیوں کے تمام تجربات اسی وقت بامعنی ہیں جب ان سے عام آدمی کی زندگی بہتر ہو۔ ورنہ چہرے بدلنے سے نظام نہیں بدلتا، عہدے بدلنے سے ترجیحات نہیں بدلتیں اور اصلاحات کے دعووں سے محرومی ختم نہیں ہوتی۔
حساب صرف ان سے نہیں مانگا جانا چاہیے جو ناکام ہوئے؛ ان سے بھی مانگا جانا چاہیے جنہوں نے انہیں اس مقام تک پہنچایا، ان کے ساتھ چلتے رہے اور پھر ان کی ناکامی کا بوجھ عوام کے کندھوں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیا۔
کرے کوئی، بھرے کوئی—یہی وہ ناانصافی ہے جس کا خاتمہ کسی بھی حقیقی اصلاحات کا پہلا مقصد ہونا چاہیے۔
واپس کریں