
باتیں اسلئے کہ کام کے حوالے سے ماہرانہ رائے دینے کی اہلیت نہیں ہے۔دوسرے فلم بینوں کی طرح ہم بھی اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ نا پاٹیکر کا ہر کردار نرالا تھا۔انہیں انڈسٹری میں آتے ہی ورسٹائل کہا گیا اور ہر گزرتے وقت کیساتھ یہ لفظ انہیں جچتا چلا گیا۔ ٹریجڈی اور کامیڈی میں برابر ہاتھ بیٹھتا تھا۔ بطور ولن بھی کوئی کردارنبھایا تو اسکرین پرحاوی رہے۔ لیڈنگ رول کیا تو بھی کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ حالانکہ انکا چہرہ مہرہ اور زبان و بیان رائج ہیرو گیری کے لیے کافی نہیں تھا۔ انکے پاس آرٹ کی صورت میں صرف مین کورس تھا۔مال مسالے اور رائتہ سلاد سے محروم تھے۔فنی کوتاہیاں چھپانے کیلئے انکے پاس کچھ نہیں تھا۔یہ تو ابھی گینگ آف واسع پور نے سینما کا مزاج بدلا ہے ورنہ نانا کے دور میں کوئی پرچی، پس منظر، قد کاٹھ اور شکل کے بغیر مرکزی کردار کیلئے انڈسٹری میں داخل ہونے کا کہاں سوچ سکتا تھا۔ انڈسٹری بھی وہ جس میں اپنے زمانے کے سبھی بڑے ڈائریکٹرز، اداکار، چڑھتے سورج اور ابھرتے ستارے موجود تھے۔یعنی بالی ووڈ کی بھری ہوئی جس ڈبل ڈیکر بس کے پائیدان پر پاؤں ٹکانے کو جگہ نہیں ملتی تھی نانا پاٹیکر اسکی اگلی سیٹوں پر جاکر بیٹھ گئے۔نانا نے جو کیا آرٹ کے زور پر ہی کیا۔ہمیں فن کار کا آرٹ ہی یاد رکھنا چاہیے۔ہمارا ان کے ساتھ تعلق بھی تو آرٹ کا ہوتا ہے۔رشتے میں کونسا وہ ہمارے کچھ لگتے ہیں جو ہم انکے دائروں میں جھانکنے کی کوشش کریں۔ہمیں اسی چیز سے غرض ہونی چاہیے جو ہمیں ان سے مل رہی ہوتی ہے۔نانا پاٹیکر سے ہمیں فلمیں تو مل ہی رہی تھیں مگر کافی عرصے سے باتیں بھی مل رہی تھیں۔پہلے وہ کام کرتے تھے اور غائب ہوجاتے تھے۔جیسا امیتابھ بچن سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، میں انڈسٹری کا آدمی ہی نہیں ہوں۔شام والا میرا مزاج نہیں ہے اور کوئی بلاتا بھی نہیں ہے۔میں کام کرنے دلی آتا ہوں واپس گوا چلا جاتا ہوں۔وہ اپنی فلم کی مارکیٹنگ کیلئے ہونیوالی مہم جوئیوں میں بھی نظر نہیں آتے تھے۔ان کا ماننا تھا کہ فلم زبردستی نہیں دکھائی جاسکتی اور خود ہی تعریف کر کے کسی کو قائل نہیں کیا جاسکتا۔لوگ دیکھتے ہیں لوگ ہی فیصلہ کرتے ہیں۔ان کے ذوق پر اثر انداز بھی نہیں ہونا چاہیے اور انکی رائے پر الجھنا بھی نہیں چاہیے۔نانا پاٹیکر گرد و پیش کے حالات پر بھی رائے دینے سے گریز کرتے تھے۔ وہی بات، جب بات کہنے کے لیے آرٹ کا ذریعہ موجود ہے تو کسی ایسے ذریعے کا سہارا کیوں لیا جائے جو بہت پیچیدہ ہو۔لیکن پچھلے کچھ عرصے سے نانا پاٹیکر بولنے لگے تھے۔میں نے ایسے کئی لوگ دیکھے ہیں جو اب ساٹھ کا ہندسہ عبور کرنے کے بعد بول رہے ہیں۔یہ شاید عمر کی بات بھی ہو مگر انکے اندر ایک خاص طرح کی کڑھن نظر آرہی ہے۔شاید وہ اپنے معاشرے کو بہت آگے جاتا دیکھنا چاہ رہے تھے مگر معاشرے کو کچھ ہوگیا۔دنیا بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے زندگی اپنی جگہ رکی ہوئی ہے۔یہ بات جنہیں تنگ کر رہی ہے وہ اب پہلے سے کہیں اونچا بول رہے ہیں۔نانا بھی بولنے لگے تھے۔انہوں نے عامر خان کو خود فون کرکے کہا کہ یار مجھے اپنے پروگرام میں بلاؤ مجھے باتیں کرنی ہیں۔نانا کی بات سے اختلاف کی بہت گنجائش نکلتی تھی مگر ان کی باتوں میں موجود دردمندی اور کھرے پن پر شک نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ان کی باتوں میں نصاب اور مقامی ذہانت کا امتزاج تھا۔ان میں کڑھن تھی مگر منفیت نہیں تھی۔اسی لیے انکی ذات اور بات میں ایک طرح کی کشش محسوس ہوتی تھی۔ان کی ایک ایک بات چوبیس گھنٹوں میں کروڑوں لوگ سنتے تھے۔میں بھی ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے گھنٹوں گھنٹوں انکی سیدھی سادی باتیں سنی ہیں۔نانا کو تشدد سمجھ نہیں آتا تھا۔کسی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، جب کوئی کسی کو مارتا ہے تو گھن آتی ہے۔عورت سے بدتمیزی ہوتی ہے تو گھن آتی ہے۔ اسی لئے نانا پاٹیکر کو ذات پات اور رنگ نسل فرقے اور مذہب کی باتیں بھی سمجھ نہیں آتی تھیں۔ ایک محفل میں انہوں نے کہا کہ میں کبھی سوچتا ہوں کہ یہ جو ہم انسانیت کی بات کر رہے ہیں یہ کہیں آؤٹ ڈیٹڈ تو نہیں ہوگئی ہے۔ ایک تقریب کے میزبان سے کہا، یار میں پچھتر کا ہوگیا ہوں مجھے ہندو مسلم کا فرق سمجھ نہیں آ رہا۔ تو میری کچھ مدد کر سکتا ہے اس معاملے میں؟ اب اس عمر میں واقعی سمجھنا چاہتا ہوں کہ یہ کس بات کا فرق ہے آخر۔نانا کی باتیں سنکر یوں بھی لگتا تھا جیسے فلموں میں نبھانے والے اپنے کئی کرداروں اور کہے گئے کئی ڈائیلاگز کو انہوں نے جیا ہے۔ جو فلم میں کہا وہ ان کی زندگی میں سنا بھی جا سکتا تھا۔ کرانتی ویر کا سین سب سے مشہور ہے۔ جس میں اپنی اور ایک مسلمان کی انگلی سے خون نکال کر مکس کر کے کہتے ہیں، یہ مسلمان کا خون یہ ہندو کا خون، بتا اس میں مسلمان کا کونسا ہندو کا کونسا، بتا۔ یہ بات اب نانا کی باتوں میں ہر جگہ سنائی دینے لگی تھی۔ جہاں جاتے تھے وہ ایک بات کہتے تھے، میں ہندو ہوں،کیونکہ میں ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوا ہوں، ساتھ والے گھرانے میں پیدا ہوتا تو شاید مسیحی ہوتا یا پھر مسلمان ہوتا، ہم لوگ ایک مسلمان میاں احمد کے گھر میں کرائے پر رہے۔ ہمیں پتہ ہی نہ چل سکا کہ ہندو اور مسلم میں فرق کیا ہوتا ہے،گھرانے کا انتخاب کرنے کا اختیار میرے پاس نہیں تھا، جہاں پیدا ہونا تھا ہوگیا، انسان بننے نہ بننے کا اختیار میرے پاس ہے، انسان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو بات ٹھیک لگے وہ اس کیمرے کے ذریعے لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔ گڈ بائے نانا۔آپ کا خوبصورت کام تو زندہ رہے گا ہی، آپ کی پیاری باتیں بھی ہمارے ساتھ رہیں گی۔
واپس کریں