دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پی ٹی آئی کے ’نو دو گیارہ‘ کے بعد، گیارہ مشیر اور گیارہ سوالات
No image (پشاور)خصوصی رپورٹ ۔ خالد خان
خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی مسلسل تیسری حکومت کے خاتمے، گورنر راج اور ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد گورنر فیصل کریم کنڈی کی معاونت کے لیے گیارہ رکنی خصوصی مشاورتی کونسل کا قیام محض انتظامی ردوبدل نہیں، بلکہ صوبے کے سیاسی و انتظامی بندوبست میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ وفاقی حکومت کے مطابق اس کونسل کا مقصد صوبائی انتظامی امور میں گورنر کی معاونت کرنا ہے۔ پی ٹی آئی کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد صوبائی معاملات میں کردار ادا کرنے کے لیے گیارہ افراد کا انتخاب کیا گیا ہے، جن کا تعلق بیوروکریسی، مالیات، قانون، سیاست، طب، صنعت، مذہبی اداروں اور انتظامیہ سے ہے۔ ان کا جائزہ ان کے سابقہ عہدوں، تعلیمی قابلیت، متعلقہ شعبوں میں تجربے اور موجودہ قلمدانوں کے تقاضوں کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
طارق محمود پاشا کو مالیات، محصولات، ایکسائز اور ٹیکسیشن کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ وہ 4 جولائی 2017 سے 2 جولائی 2018 تک وفاقی بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین رہے۔ اس سے پہلے سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن، سیکرٹری شماریات ڈویژن اور وزیراعظم کے دفتر میں اہم انتظامی ذمہ داریاں ادا کرچکے ہیں۔ انہوں نے جامعہ پشاور سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ مالی سال 2017-18 میں ایف بی آر نے 3,751 ارب روپے جمع کیے، جبکہ مقررہ ہدف 3,935 ارب روپے تھا۔ یوں وصولی ہدف سے 184 ارب روپے کم رہی۔ صوبائی سطح پر ان کے سامنے محصولات میں اضافہ، ٹیکس کے دائرے کی توسیع، ایکسائز و ٹیکسیشن کا انتظام اور سرکاری آمدن و اخراجات میں توازن قائم رکھنے کے مسائل ہوں گے۔
ڈاکٹر سید عامر عبداللہ کو تعلیم کا قلمدان دیا گیا ہے۔ ان کے پاس بین الاقوامی تعلقات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہے، تاہم دستیاب تعارف میں ڈگری دینے والی جامعہ کا نام واضح نہیں۔ وہ قومی انسدادِ دہشت گردی اتھارٹی، نیکٹا، کی ماہرین کی کمیٹی سے وابستہ رہ چکے ہیں اور نگران صوبائی حکومت میں ضم شدہ قبائلی اضلاع، صنعت، تجارت اور فنی تعلیم کے شعبوں میں ذمہ داریاں ادا کرچکے ہیں۔ ان کے سامنے سکولوں میں اساتذہ کی دستیابی، تعلیمی معیار، عمارتوں اور بنیادی سہولتوں کی حالت، طلبہ کے نتائج اور ضم شدہ اضلاع میں تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کے مسائل ہیں۔
ڈاکٹر محمد ارشاد کو صنعت و تجارت کا قلمدان دیا گیا ہے۔ وہ جنوری سے جون 2017 تک ایف بی آر کے چیئرمین رہے اور محصولات کے انتظام میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے خیبر میڈیکل کالج سے طب کی تعلیم حاصل کی، فوج کے شعبۂ طب میں خدمات انجام دیں اور بعدازاں سول سروس میں شامل ہوئے۔ ان کی مزید تعلیمی قابلیت میں مالیات میں ڈاکٹریٹ، مالیات میں ایم بی اے، قانون کی ڈگری اور پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز شامل ہیں، تاہم ان تمام اسناد کے تعلیمی اداروں کی مکمل تفصیل دستیاب تعارف میں درج نہیں۔ ان کے سامنے سرمایہ کاری کا فروغ، صنعتی اداروں کو توانائی اور مالیات کی فراہمی، کاروباری رکاوٹوں میں کمی، صنعتی پیداوار، برآمدات اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے مسائل ہیں۔
عامر جاوید کو قانون اور پارلیمانی امور کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ وہ سپریم کورٹ کے وکیل اور خیبرپختونخوا کے سابق ایڈووکیٹ جنرل ہیں۔ وہ ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی قانون کی ڈگری دینے والے ادارے کا نام دستیاب تعارف میں واضح نہیں۔ نومبر 2023 میں ان کے اپنے بیان کے مطابق، ان کے دفتر کی نمائندگی والے 10,815 مقدمات نو ماہ کے دوران نمٹائے گئے؛ ان میں 4,922 فیصلے حکومت کے خلاف اور 3,011 حکومت کے حق میں ہوئے، جبکہ باقی مقدمات دیگر طریقوں سے نمٹے۔ ان کے موجودہ قلمدان میں صوبائی قوانین، اسمبلی سے متعلق قانونی معاملات، سرکاری محکموں کی قانونی رہنمائی اور حکومتی فیصلوں کی آئینی حیثیت اہم امور ہیں۔
ثمر ہارون بلور کو اطلاعات و نشریات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ وہ عوامی نیشنل پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات اور ترجمان رہ چکی ہیں، 2018 سے 2023 تک خیبرپختونخوا اسمبلی کی رکن رہیں اور بعدازاں پاکستان مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ ان کا تجربہ سیاسی ابلاغ، عوامی رابطوں اور پارلیمانی سیاست سے متعلق ہے۔ ان کی تعلیمی اسناد اور متعلقہ اداروں کی مکمل تفصیل دستیاب تعارف میں موجود نہیں۔ موجودہ ذمہ داری میں سرکاری اطلاعات کی درست اور بروقت فراہمی، صحافیوں سے رابطہ، بحران کے دوران ابلاغ، سرکاری اشتہارات میں شفافیت اور شہریوں کی معلومات تک رسائی اہم امور ہوں گے۔
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگار جوہر خان کو صحت کا قلمدان دیا گیا ہے۔ وہ پاکستان آرمی میڈیکل کور کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل اور سابق سرجن جنرل پاکستان آرمی ہیں۔ انہوں نے آرمی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا، کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان سے فیملی میڈیسن میں ایم سی پی ایس کیا، جبکہ آرمڈ فورسز پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ سے طبی انتظام میں ایم ایس سی اور صحت عامہ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ فوجی ہسپتالوں کی انتظامیہ اور ہنگامی طبی تیاری کے شعبوں میں بھی ذمہ داریاں ادا کرچکی ہیں۔ ان کے سامنے سرکاری ہسپتالوں کی استعداد، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی دستیابی، ادویات کی فراہمی، بنیادی مراکز صحت، طبی اخراجات اور دور دراز اضلاع میں علاج کی سہولتوں تک رسائی کے مسائل ہیں۔
کفایت اللہ خان کو داخلہ و قبائلی امور کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وہ جیل خانہ جات کے انسپکٹر جنرل، سابق فاٹا ٹریبونل کے چیئرمین، محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے سیکرٹری اور مردان و ڈیرہ اسماعیل خان کے کمشنر رہ چکے ہیں۔ ان کی تعلیمی اسناد اور اداروں کی مکمل تفصیل دستیاب تعارف میں واضح نہیں۔ ان کا انتظامی تجربہ جیلوں، قبائلی امور اور ضلعی انتظامیہ سے متعلق ہے۔ موجودہ حالات میں ان کے سامنے امن و امان، پولیس کی کارکردگی، دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کا انتظام، ضم شدہ اضلاع میں ریاستی خدمات، بے گھر افراد کی بحالی اور شہریوں کے تحفظ کے مسائل ہیں۔
عثمان سیف اللہ خان کو توانائی کا قلمدان دیا گیا ہے۔ وہ مارچ 2012 سے مارچ 2018 تک پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رہے اور سینیٹ کی مالیات، اطلاعاتی ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات، پٹرولیم و قدرتی وسائل اور دیگر قائمہ کمیٹیوں میں کام کیا۔ وہ سیف گروپ کے صنعتی و سرمایہ کاری کاروبار سے وابستہ رہے، پاکستان سٹیٹ آئل کے بورڈ آف مینجمنٹ کے رکن اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے خیبرپختونخوا چیپٹر کے سربراہ بھی رہے۔ انہوں نے 1995 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے کرائسٹ چرچ کالج سے انجینئرنگ، معاشیات اور انتظام میں ماسٹرز، جبکہ 2009 میں سٹینفورڈ یونیورسٹی کے گریجویٹ سکول آف بزنس سے ایم بی اے کیا۔ ان کے سامنے صوبے کی پن بجلی کی صلاحیت سے آمدن، توانائی کے منصوبوں کی تکمیل، بجلی کی پیداوار، سرمایہ کاری اور متعلقہ وفاقی اداروں کے ساتھ معاملات اہم چیلنج ہیں۔
مولانا محمد طیب قریشی کو اوقاف و مذہبی امور کا قلمدان دیا گیا ہے۔ وہ خیبرپختونخوا کے چیف خطیب، جامعہ اشرفیہ پشاور کے منتظم اور پشاور کی مسجد مہابت خان کے امام ہیں۔ ان کی ذاتی تعلیمی اسناد اور اسناد دینے والے اداروں کی مکمل تفصیل دستیاب تعارف میں درج نہیں۔ موجودہ ذمہ داری میں اوقاف کی املاک کا تحفظ، مساجد و مزارات کا انتظام، آمدن و اخراجات کا حساب، مذہبی اداروں سے رابطہ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی بنیادی امور ہیں۔
ڈاکٹر سرفراز علی شاہ کو کان کنی و معدنیات کا قلمدان دیا گیا ہے۔ ان کے پاس فرانس سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہے، تاہم دستیاب تعارف میں جامعہ کا نام درج نہیں۔ وہ نگران صوبائی حکومت میں توانائی، منصوبہ بندی و ترقی اور معدنیات کے شعبوں میں مشیر رہ چکے ہیں۔ ستمبر 2023 میں حیات آباد کی معدنیات کی جانچ گاہ کے دورے کے دوران انہوں نے عمارت کی خراب حالت، بعض مشینوں کی عدم فعالیت اور عملے کی کمی کی نشان دہی کی تھی اور متعلقہ رپورٹ طلب کی تھی۔ ان کے سامنے معدنی ذخائر کی شفاف لیزنگ، غیر قانونی کان کنی کی روک تھام، معدنیات سے صوبائی آمدن، جانچ گاہوں کی استعداد اور کان کنی کے ماحولیاتی اثرات سے متعلق مسائل ہیں۔
آصف رفیق آفریدی کو مواصلات و تعمیرات، بلدیات، ہاؤسنگ اور ٹرانسپورٹ کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ وہ نگران صوبائی حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں۔ اگست 2023 میں ان سے منسوب وزارتوں میں موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات، لائیو سٹاک، ماہی پروری، زراعت اور خوراک شامل تھیں۔ ان کی تعلیمی اسناد اور متعلقہ اداروں کی مکمل تفصیل دستیاب تعارف میں واضح نہیں۔ موجودہ قلمدانوں میں سڑکوں اور سرکاری عمارتوں کی تعمیر، منصوبوں کی لاگت اور مدت، تعمیراتی معیار، بلدیاتی خدمات، ہاؤسنگ منصوبوں کی شفافیت اور شہریوں کے لیے محفوظ و قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ اہم امور ہیں۔
ان گیارہ ارکان کے سابقہ تجربات میں مالیات، قانون، تعلیم، صحت، داخلہ، توانائی، مذہبی امور، معدنیات، تعمیرات اور اطلاعات کے شعبے شامل ہیں۔ خیبرپختونخوا اس وقت امن و امان، مالی وسائل کی کمی، صحت و تعلیم کی سہولتوں، بے روزگاری اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں گیارہ سوالات اہم ہیں۔
کیا صوبائی آمدن میں اضافہ ہوگا؟ کیا سکولوں اور ہسپتالوں کی سہولتیں بہتر ہوں گی؟ کیا ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت اور بجٹ میں مکمل ہوں گے؟ کیا پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی بہتر ہوگی؟ کیا صنعت و تجارت کو فروغ اور روزگار کے نئے مواقع ملیں گے؟ کیا توانائی اور معدنی وسائل سے صوبائی آمدن بڑھے گی؟ کیا اوقاف اور سرکاری املاک کا انتظام شفاف ہوگا؟ کیا سرکاری معلومات تک شہریوں کی رسائی بہتر ہوگی؟ کیا تعمیراتی منصوبوں میں لاگت، معیار اور مدت کے تقاضے پورے ہوں گے؟ کیا ضم شدہ قبائلی اضلاع میں بنیادی سہولتوں اور انتظامی خدمات کی فراہمی بہتر ہوگی؟ اور کیا صوبائی وسائل اور اخراجات میں عوامی ضروریات کو ترجیح دی جائے گی؟
پی ٹی آئی کے ’نو دو گیارہ‘ کے بعد قائم ہونے والی یہ کونسل اب صوبائی انتظامی معاملات میں کردار ادا کرے گی۔ ان گیارہ سوالات کا تعلق کسی جماعت کی حمایت یا مخالفت سے نہیں، بلکہ ان شعبوں سے ہے جن کی ذمہ داری ان مشیروں کو سونپی گئی ہے۔
واپس کریں