دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
گورنر راج یا نراج،کوئ حد ہے اُنکے غرور کی
No image امتیاز عالم ۔ بات بس اتنی سی تھی کہ عمران خان سے ملادو، اسکا علاج کرادو اور ملٹری آپریشن پر صوبائ اسمبلی کی متفقہ قرارداد بھی پیش نظر رکھ لو۔ مولانا فضل الرحمان نے ثالثی کی تو مبینہ طور پر دونوں فریق مان گئے کہ عمران سے ملاقات ہوگی اور لانگ مارچ بھی ختم ہوگا۔پر بات تھی کہ نہ بنی؟ اب مولانا نے ثالثی کی ناکامی کی زمہ داری حکومت کے ناتواں کندھوں پر ڈال دی ہے۔
اگر بڑا مقصد خیبر پختون خوا میں بڑھتی دھشت گردی تھا اور تحریک انصاف اور سہیل آفریدی کی حکومت کچھ شر انگیز عناصر کے دباوُ میں آکر نہ دھشت گردی کے خلاف کھڑی ہورہی تھی نہ بات چیت کو آگے بڑھنے دے رہی تھی۔ تو اور بھی ضروری تھا کہ کچھ رعایات دے کر اس عوامی حمایت کی بڑی سیاسی قوت کو دھشت گردی کے خلاف بڑے سیاسی و عسکری محاز کا حصہ بنایا جاتا۔ گورنر راج لگاکر پی ٹی آئ کو طالبان کی جانب دھکیل دیا گیا ہے۔ پختون خوا میں اب ایمرجنسی بیک وقت پی ٹی آئ کے خلاف لا اینڈ آرڈر کو قائم کرنے اور دھشت گردی کے خلاف استعمال ہوگی۔ پہلے ایک محاز تھا اب دو محاز ہیں۔ چلے تو تھے دھشت گردی ختم کرنے اور سینگ اڑا بیٹھے بپھری ہوئ پی ٹی آئ کے ساتھ جہاں ہزاروں سہیل آفریدی ہر گلی کوچے میں پتھراوُ کے لیئے تیار بیٹھے ہیں۔ بھلا کوئ پوچھے کہ عوام کی حمایت کے بغیر یا عوام کے ایک بڑے حصے کو نالاں کرکے آپ نے طالبان کو تو مضبوط کیا ہے انکے خلاف جہاد کو نہیں۔
گورنر راج کتنا ہی آئینی ہو آمریت ہی کا تسلسل ہے اور جمہورئیت و حقوق پر ایک اور حملہ۔ اب دو صوبے ہنگامی حالت میں ہیں اور سارے بارڑرز مخدوش ہیں۔ اوپر سے اب سعودی بادشاہت کو بچانے کے لیئے یمن میں ہوتیوں سے لڑنا ہے جبکہ معیشت کا پہیا جامد ہی ہے۔اب کوئ بلڈی سویلیئن کیا کرے، جب زوق خدائ والے آپے سے باہر ہوجائیں جنکا یہ زعم اور شوق بہت پرانا ہے۔ اب یہ انکی براہ راست زمہ داری ہے جس کا دو چار ماہ میں پتا پڑ جائے گا کہ ریاست کتنے پانی میں ہے؟ اب دعائے خیر کے سوا کیا کیا جاسکتا؟
واپس کریں