دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خان صاحب: زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے ۔ خالد خان
No image ضرب الامثال بے معنی نہیں ہوتے۔جن کو معنی و مفہوم کی سمجھ نہیں آتی، پھر ان کو ویسے ہی مار پڑتی ہے، جیسے عمران خان کو پڑ چکی ہے۔ جیسے کرو گے ویسا بھرو گے، خان صاحب پر بالکل صادق آتا ہے۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ خان صاحب انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ، مہذب، شائستہ، جمہوری اور بلند اخلاق کے مالک ہیں۔ یہ فرض کر لینے کے بعد ہم انہی اوصاف پر خان صاحب کو جانچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ریاست مدینہ کے داعی کا لب و لہجہ اور طرزِ تخاطب بالکل ویسا ہی ہونا چاہیے جو اہل مدینے کا ہو۔ مولانا فضل الرحمن، ایک معمر عالم، مذہبی شخصیت اور ایک بہت بڑی جماعت کے قائد، کو ڈیزل کہنا، محمود خان اچکزئی، جو عبدالصمد خان اچکزئی خان بابا شہید کے فرزند ارجمند ہیں اور لاکھوں پشتونوں کے رہنما ہیں، کی چادر کا مذاق اڑانا، جو پشتون کلچر کے مذاق اڑانے کے مترادف ہے، کون سی سیاسی اخلاقیات تھیں؟ چارسدہ میں کھڑے ہو کر ایمل ولی خان کا تمسخر اڑاتے ہوئے انہیں ’’میلو‘‘ کہنا، صدر آصف علی زرداری کو ایک زرداری سو بیماری کہنا اور میاں محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کو تو چھوڑیے، کیا کچھ نہیں کہا۔ خان صاحب کا یہی طرزِ عمل تھا جسے سنجیدہ حلقوں نے شدت کے ساتھ محسوس کیا۔ پھر بھی ان تمام رہنماؤں کا ظرف دیکھیے کہ انہوں نے حتی المقدور کوشش کی کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم رہے اور گفت و شنید کے ذریعے کوئی درمیانی راستہ نکل آئے۔ خان صاحب جس سیاسی تنہائی کے حق دار تھے، انہیں اس تنہائی میں ان سارے رہنماؤں نے نہیں دھکیلا۔ اگر خان صاحب موروثی سیاست کے مخالف تھے تو ان کی اپنی جماعت پی ٹی آئی پر نظر دوڑائیے اور خود تضاد ملاحظہ کیجیے۔ اگر خان صاحب جمہوریت کے علمبردار تھے تو پاکستان تحریک انصاف میں خوردبین لے کر جمہوریت تلاش کیجیے۔ اگر خان صاحب سٹیٹس کو کے خلاف تھے تو ان کے منتخب نمائندوں پر نظر ڈالیے، گھاٹ گھاٹ کا سیاسی پانی پیے ہوئے ہیں۔ وہی الیکٹیبلز، جن کے خلاف انہوں نے خود ساختہ جہاد کا اعلان کیا تھا، انہی کے کاندھوں پر سوار ہو کر وزارتِ عظمیٰ تک پہنچے۔ چلیے، جیسے تیسے پہنچ تو گئے، تو پھر وہاں تو ان کا انقلابی کردار نظر آنا چاہیے تھا۔ کون سا انقلاب برپا کیا؟ کون سا نیا پاکستان تعمیر کیا؟ یہی فوج، جس کے اب خان صاحب اور ان کے متوالے خلاف ہیں، ریکارڈ پر اسی فوج کے سربراہ کو قوم کا باپ قرار دیا تھا۔ فوجی عدالتوں کا قیام اور بہت سارے ایسے اختیارات جو حکومت کو اپنے پاس رکھنے چاہییں تھے، بخوشی فوج کے سپرد کیے۔ خان صاحب کا کہا ہوا ریکارڈ پر موجود ہے کہ جب میں وزیرِاعظم بنوں گا اور پھر یہ جواز پیش کروں گا کہ مجھے فوج کام کرنے نہیں دے رہی ہے تو یہ جھوٹ اور میری نالائقی ہوگی۔ خان صاحب نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں جتنی فوج کی تعریف کی ہے اور بار بار کی ہے، آج تک کسی سیاسی جماعت اور اس کے قائد نے نہیں کی ہے۔ لیکن بری اور ناقص حکمرانی، کرپشن اور بچگانہ خارجہ پالیسی پر جب ریاست کے سنجیدہ حلقوں نے اعتراض کیا تو وہی دودھ کے دھلے ادارے، فوج اور آرمی چیف، پھر برے اور جانور ہو گئے۔ خان صاحب، جو لوگ آپ کو لائے، انہوں نے پاکستان کے ساتھ برا کیا اور جتنی زیادتی خان صاحب، پھر آپ نے کی، وہ ناقابلِ معافی ہے۔ پاکستان کی سیاست اور معاشرت سے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔ اسلامی اور مشرقی روایات کو دفن کیا۔ تہذیبی اقدارکو دریا برد کر دیا اور چھوٹے بڑے کی تمیز ختم کر دی۔ احترام، تکریم، شائستگی، صبر، تحمل، برداشت، مکالمے، قومی یکجہتی، اتفاق، اتحاد اور قومی وقار کا ستیاناس کیا۔ خان صاحب، آپ کسی سازش کے اسیر نہیں ہیں، آپ مکافاتِ عمل کے شکار ہیں۔ خان صاحب، آپ ریاستی جبر کے مظلوم نہیں ہیں، آپ وقت اور تاریخ کے انتقام کا سامنا کر رہے ہیں۔ خان صاحب، قیدِ تنہائی خود احتسابی کا ایک نادر موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ تھوڑا سا اپنے گریبان میں جھانکیے۔ اپنے قول اور فعل کے ترازو میں خود کو تولیے اور مجھے یقین ہے کہ آپ کو اس شعر کی سمجھ آ جائے گی۔
عدل و انصاف صرف حشر پر موقوف نہیں
زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے
واپس کریں