ہمیں پارلیمان سے باہر رکھ کر آپ کو کیا ملا؟ ایمل ولی خان

میں آج بھی اپنے اس موقف پر قائم ہوں کہ گورنر راج یا ایمرجنسی مسائل کا حل نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ 2013ء میں 1200 شہداء کا بوجھ اٹھانے کے باوجود ہمیں انتخابات میں ہرایا گیا۔ ہمارے خلاف پراپیگنڈا کیا گیا کہ ہم کرپٹ ہیں۔ پھر ان کا احتساب کمیشن کہاں گیا؟ اس نے ہمیں پکڑا کیوں نہیں؟ اُس وقت تو عمران خان اور فوج ایک ہی پیج پر تھے۔ پھر 2018ء میں آر ٹی ایس بٹھا کر ہمیں ہرایا گیا۔ میں آج بھی وہ حلقے دکھا سکتا ہوں جہاں ہمیں ہرا کر پی ٹی آئی کو کامیاب کرایا گیا۔ اس کے بعد 2024ء میں ایسا ماحول بنایا گیا کہ جیسے صرف پختونخوا ہی پی ٹی آئی کا ہوم گراؤنڈ ہے، جبکہ باقی پاکستان میں اسے شکست ہوئی۔ ہمارا مینڈیٹ ایک بار پھر چوری کیا گیا اور پختونخوا میں پی ٹی آئی کی مقبولیت کا ایک جعلی بھوت کھڑا کیا گیا۔
آج بھی اگر ہم گورنر راج یا ایمرجنسی کی مخالفت کر رہے ہیں تو اس کی بنیاد اصولی ہے، کیونکہ یہ اقدامات غیر جمہوری اور جمہوری روایات کے منافی ہیں۔ ہماری مخالفت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم پی ٹی آئی کی طرزِ حکمرانی کی حمایت کر رہے ہیں۔پی ٹی آئی نے پختونخوا کو مالی، انتظامی اور سیاسی لحاظ سے تباہ کر دیا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے والوں سے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہمارے شہداء کا مذاق اڑا کر اور ہمیں پارلیمان سے باہر رکھ کر آپ کو کیا ملا؟ پختونخوا کو کیا ملا؟
کیا 2013ء میں ٹی ٹی پی کے ذریعے ہمیں پارلیمان سے باہر کرنے والوں، 2018ء میں آر ٹی ایس کے ذریعے ہمیں پارلیمان سے دور رکھنے والوں اور 2024ء میں پی ٹی آئی کی جعلی مقبولیت کا تاثر پیدا کرنے والوں کا بھی احتساب ہوگا؟ یا آج بھی کسی کو سیاسی شہادت کے مرتبے پر فائز کر دیا گیا ہے؟
واپس کریں