دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نون لیگ خسارے میں ہے!!! محمود شام
No image حالات غیر معمولی ہیں۔ عالمی بھی علاقائی بھی اور ملکی بھی۔پاکستان میں بحران کب نہیں تھا ایک بحران کے نتیجے میں دوسرے بحران جنم لیتے رہے ہیں ۔ اپ سیٹ کی کوکھ سے پیدا ہونے والے سیٹ اپ کبھی نارمل نہیں رہے ۔آفریں ہے پاکستانیوں پر جو ان بحرانوں میں ہی زندگی گزارنا سیکھ چکے ہیں۔ بحران کا سبب بننے والے ہر بار کچھ نئے انداز سے وارد ہوئے ہیں۔ بحران 1954سے ہی شروع ہو گئے تھے جب حاضر سروس آرمی چیف کو کابینہ میں وزیر دفاع کے طور پر شامل کیا گیا ۔غیر منتخب افراد کو منتخب مناصب پر فائز کرنے کا سلسلہ شروع سے ہی جاری ہے ۔ہر بحران کے بعد اپنے اپنے خسارے دور کرنے کیلئے ہر شعبے کو بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ زوال اور پستی ہر شعبے میں در آئی ہے۔ جو شعبے منظم ہوتے ہیں۔ بحران کا جائزہ مجموعی انداز میں لیتے ہیں وہ جلد اپنی گرفت بحال کر لیتے ہیں۔ جہاں تنظیم ترتیب اور تحقیق نہیں ہے۔ وہاں بحران دیمک کی طرح اندر کو بھی کھوکھلا کر دیتا ہے۔
اب کے بحران گمبھیر بھی ہے اور بہت پیچیدہ بھی بلکہ ہشت پہلو ہے ۔اسلئے اس کے اثرات دیر پا ہونگے جو عمودی بھی افقی بھی، اخلاقی بھی سیاسی اور سماجی بھی ہونگے۔ مزید برآں کہ یہ بھی دیکھا نہیں جا رہا ہے کہ اس سے کہاں کہاں نقصانات پہنچ رہے ہیں ۔ اس کے اثرات کیسے زائل کیے جائینگے۔ زیاں وقتی نہیں ہے اور اسکا احساس بھی نہیں ہے بقول اقبال
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
القصہ مختصر سب سےحقیقی آزمائش ہماری سیاسی پارٹیوں کی ہوگی جو منظم بھی نہیں ہیں اور احساس زیاں بھی نہیں ہے ۔پارٹیاں موروثی ملکیت میں ہیں اس لیے وہ سمجھتی ہیں کہ انہیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ شہزادے شہزادیاں سنبھال لیں گے۔ انہیں کارکنوں کی طرف سے کبھی کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ لیکن اب زمانہ مختلف ہے یہ بیسویں صدی نہیں ہے 21ویں صدی کی تیسری دہائی ہے اطلاع کی، آگہی کی فراوانی ہے، پابندیاں، قدغنیں حقیقت تک رسائی بیسویں صدی کی دہائیوں کی طرح روک نہیں سکتیں۔ اسمارٹ فون جادو کی ڈبیا ، الہ دین کا چراغ بھی ہے اور جام جہاں نما بھی۔ ہر عمر کے لوگ یہ ڈبیا رکھتے ہیں اور اس پر جلوہ گر حقائق بھی دیکھتے ہیں۔ دنیا بھر میں انٹرنیٹ وائی فائی کا غلبہ ہے۔ ہمارے سیاستدان سمجھتے ہیں کہ اطلاع مہینوں تک روکی جا سکتی ہے جبکہ انٹرنیٹ سیکنڈ بھی نہیں لگاتا۔ خیبر پختون خوا کی سڑکوں پر اس وقت جو قافلے ہیں۔ اخبارات ٹی وی چینلوں پر تو راہ نہیں پا رہے ہیں۔پھر اخبار پڑھنے والے، ٹی وی چینل دیکھنے والے اب صرف ہزاروں میں رہ گئے ہیں جبکہ یوٹیوب پر نظریں کروڑوں میں ہیں ۔ہزار اگربے خبر ہیں۔ کروڑ تو باخبر ہیں۔
آج اتوار ہے۔ بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہوؤں دامادوں سے دوپہر کے کھانے پر تبادلہ خیال کا دن۔ ہماری اس التجا کو بہت سے گھرانوں نے اپنا بھی لیا ہے۔ بلکہ اتوار کا ظہرانہ پورے پورے خاندان کے اکٹھ کا لمحہ بنتا جا رہا ہے ۔ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ انتشار اورکشیدگی کے دنوں میں گھر مستحکم رہیں ۔اہل خانہ ایک دوسرے کے قریب رہیں ۔حالات کا جبر مل جل کر برداشت کریں گے تو اس کی ضرب کاری نہیں رہتی۔ عالمی بینک کی رپورٹ مشرق وسطیٰ شمالی افریقہ افغانستان پاکستان کا احاطہ کر رہی ہے۔ اس پورے خطے کیلئے Menaapکی عرفیت اختیار کی گئی ہے میناپ میں غربت کا دائرہ دوسری دنیا کی نسبت بڑھ رہا ہے ۔کہا گیا ہے کہ میناپ میں موجود انتہائی غریبوں کی آدھی تعدادپاکستان میں رہتی ہے۔ یعنی ان کی آمدنی تین ڈالر روزانہ سے بھی کم ہے ۔اس صورتحال میں اور بھی ضروری ہے کہ غریب ایک دوسرے کا درد بانٹیںایسےغم کی شدت کم ہو جاتی ہے۔ہماری درخواست یہ بھی ہوتی ہے کہ غریب اکثریت محلے داری بھی کرے پڑوسیوں کے حال سے آگاہ رہے۔ بھوک انسانی زندگی کی سب سے بڑی دشمن ہے اور ہم اکٹھے ہو کر ہی اس کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
یہ ذمہ داری بنیادی طور پر سیاسی پارٹیوں کی ہوتی ہے خاص طور پر حکمران پارٹیوں کی۔ وہ غربت میں کمی لانے کیلئے منصوبہ بندی کو اپنی اولین ترجیح سمجھیں عالمی ادارے بھی تعاون کرتے ہیں مگر ہمارے حکمران اتنےہی بڑے رئیس ہیں جتنے ہم غریب ہیں۔ کنگال اکثریت پر خوشحال اکثریت کی حکمرانی ہے۔ ماضی میں یہ فرق اتنا واضح نہیں ہوتا تھا اور درد اس شدت سے محسوس نہیں ہوتا تھا ۔سوشل میڈیا نے اسے کھول کر رکھ دیا ہے۔ معاشی بدحالی کا شکار اب اس خراب معیشت کے ذمہ داروں کو جانتے ہیں اسلیے روز مکافات بھی قریب قریب لگتا ہے۔
اس وقت مرکز میں مسلم لیگ نون کی حکومت ہے۔ اس جماعت نے 1987 میں جنم لیا تھا۔ یہ پاکستان بنانے والی مسلم لیگ نہیں ہے۔ میاں نواز شریف کی سربراہی میں یہ جماعت 1985 سے حکمرانی کر رہی ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بھی نون لیگ ہی ہے۔ اس کی مرکزی قیادت سینئر وزراء اکثر بوڑھے ہو چکے ہیں۔ ان کے ساتھ جو نوجوان ہیں وہ بھی اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر ہی چل رہے ہیں۔ اپنے جدید زمانے کے حکمران فلسفوں یا نظم و نسق سے نابلد ۔ مجھے اس جماعت سے ہمدردی یوں ہے کہ اہل پنجاب کو پہلا مرکزی لیڈر میاں نواز شریف کی صورت میں ملا ورنہ پنجاب پہلے دوسرے صوبوں کے لیڈروں کا ہی دم بڑھاتا رہا۔ اب تو میاں نواز شریف سپریم لیڈر ہیں مگر اس غیر معمولی عالمی علاقائی اور ملکی صورتحال میں خاموش ہیں۔ تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ ایک لیڈر کیلئےچپ رہنا مشکل ہوتا ہے۔ کارکنوں کے کنونشن ضلعی صوبائی مرکزی کی روایت اس پارٹی میں بہت کم ہے۔ مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس بھی بہت کم ہوتے ہیں ۔بڑے جاگیردار، سرمایہ دار، سردار اس پارٹی کے ساتھ ہیں ۔سوشل میڈیا پر پارٹی کے خلاف جو ٹک ٹاک ویڈیوز آرہی ہیں ان کا کوئی موثر جواب نہیں دیا جاتا ہے۔
یہ تاثر بھی پختہ ہو رہا ہے کہ وزیراعظم زیادہ وقت ملک سے باہر گزارتے ہیں۔سنگین بحرانوں میں بھی قوم کو اعتماد میں لینے کیلئے ٹی وی ریڈیو سے خطاب نہیں کرتے ۔بڑے جلسے نہیں منعقد کیے جاتے۔ بین الاقوامی نشریاتی اداروں ٹرانسپیرنسی ،ورلڈ بینک کی رپورٹوں کا جواب مرکزی حکومت کی طرف سے تسلی بخش نہیں دیا جاتا۔ تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے مجھے یہ فکر ہےکہ جب یہ غیر معمولی حالات نہیں رہیں گے اس وقت اس پارٹی کو اپنی ساکھ بحال کرنےکیلئے جو محنت کرنا ہوگی کیا یہ کر سکے گی ۔
کالم کی تنگ دامنی کے باعث دوسری حکمران پارٹی اور 1971ءسے حکومت کرتی پاکستان پیپلز پارٹی کے بارے میں خدشات تاثرات اور امکانات کا جائزہ آئندہ کبھی لیں گے ۔فی الحال ایک مصرع سن لیجئے۔
کیا فلک بوس قیادت تھی زمیں بوس ہوئی
واپس کریں