
پاکستان کا زرعی ملک کا دعویدار ہونا اور عوام کا سستی روٹی سے محروم ہونا بظاہر ایک بڑا تضاد ہے لیکن اس تضاد کی بنیادی وجہ ملک میں گندم پیدا ہونا اور عوام تک مناسب قیمت پر آٹا پہنچنا یعنی دو الگ معاملات ہیں۔
مسئلہ صرف گندم کی پیداوار کا نہیں، بلکہ زرعی پالیسی، پیداواری لاگت، حکومتی خریداری، ذخیرہ اندوزی، ترسیل اور عوام کی قوتِ خرید کا بھی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مالی سال 2025-26 کی ایک رپورٹ کے مطابق، 2024-25 میں حکومت کی معمول کی گندم خریداری سے گریز اور کم از کم امدادی قیمت کے اعلان نہ ہونے کے دوران قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھا اور اسی سال گندم کی پیداوار 31.4 ملین ٹن سے کم ہو کر 28.9 ملین ٹن رہی۔
ایک زرعی ملک ہونے کا حقیقی فائدہ تب ہی ہے جب خوش حال ہو، پیداوار ضائع نہ ہو، بازار میں مصنوعی قلت نہ ہو اور کوئی خاندان صرف غربت کی وجہ سے اپنی بنیادی غذا سے محروم نہ رہے۔ محض سبسڈی وقتی ریلیف دے سکتی ہے لیکن مستقل حل کے لیے پیداوار، ذخائر، منڈی اور عوام کی قوتِ خرید، چاروں پر بیک وقت کام کرنا ضروری ہے۔
واپس کریں