دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
دہشت گردی اور پی ٹی آئی: عطا تارڑ کے الزامات کا پوسٹ مارٹم
No image (پشاور) خصوصی رپورٹ خالد خان
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی واپسی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی، وفاقی پالیسی اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے ماضی کے فیصلوں کو ایک بار پھر مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا کے رہائشی علاقوں میں دہشت گردوں کو لا کر بسایا، یہ جماعت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی بی ٹیم ہے، صوبائی حکومت نے پولیس، انسدادِ دہشت گردی کے محکمے اور فرانزک لیبارٹری کو جدید وسائل فراہم نہیں کیے، طالبان کی خواتین سے متعلق سوچ صوبے پر مسلط کی گئی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ترقیاتی امور کے بجائے تخریب کاری سے متعلق طویل اجلاسوں پر توجہ دی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے تیرہ سالہ دورِ حکمرانی کو بھی صوبے کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا۔
عطا تارڑ کے ان الزامات کا جائزہ لینے کے لیے سب سے پہلے عمران خان کی حکومت کے دور میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات اور جنگجوؤں کی واپسی کے منصوبے کا ریکارڈ دیکھنا ہوگا۔ یکم اکتوبر 2021 کو عمران خان نے ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کو انٹرویو دیتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ ان کی حکومت ٹی ٹی پی کے بعض گروہوں سے مذاکرات کر رہی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ہتھیار ڈالنے والے جنگجوؤں کو معاف کرکے معاشرے میں دوبارہ شامل ہونے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔ مذاکرات افغانستان میں ہو رہے تھے اور افغان طالبان ان میں سہولت کاری کر رہے تھے۔
جنوری 2023 میں عمران خان نے بتایا کہ ان کی حکومت نے کم از کم پانچ ہزار ٹی ٹی پی جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں، مجموعی طور پر تقریباً 35 ہزار افراد، کو سابق قبائلی اضلاع میں واپس آباد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ان کے بقول منصوبہ صوبوں کی جانب سے مطلوبہ مالی تعاون نہ ملنے اور بعد میں وفاقی تعاون ختم ہونے کے باعث آگے نہیں بڑھ سکا۔
یہ دونوں بیانات پی ٹی آئی کی حکومت کی مذاکراتی پالیسی اور جنگجوؤں کی واپسی کے منصوبے کے بارے میں براہِ راست شہادت ہیں۔ اس پالیسی کے بنیادی سوالات واضح ہیں: مسلح گروہوں سے مذاکرات کا فیصلہ کن بنیادوں پر کیا گیا؟ جنگجوؤں کی واپسی کے لیے کون سی حفاظتی ضمانتیں مقرر تھیں؟ مقامی آبادی کو کس حد تک اعتماد میں لیا گیا؟ اور ان فیصلوں کے بعد دہشت گردی کی صورتِ حال میں کیا تبدیلی آئی؟
نومبر 2021 میں اس وقت کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان جنگ بندی کا اعلان بھی کیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات اس وقت کی ریاستی پالیسی کا حصہ تھے۔ تاہم عمران خان کی حکومت اس پالیسی کی سیاسی ذمہ داری سے الگ نہیں ہو سکتی، کیونکہ مذاکرات اور آبادکاری کے منصوبے اسی دور میں اختیار کیے گئے تھے۔
پشاور میں ٹی ٹی پی کو دفتر دینے کی پیشکش کا معاملہ بھی پی ٹی آئی کی قیادت کے سابقہ مؤقف کا حصہ رہا ہے۔ ستمبر 2013 میں عمران خان نے مذاکرات کے لیے ٹی ٹی پی کو پاکستان میں دفتر کھولنے کی اجازت دینے کی حمایت کی تھی، جبکہ مارچ 2014 میں خیبرپختونخوا کے وزیر صحت شوکت یوسفزئی نے بھی پشاور میں دفتر کی سہولت دینے کی پیشکش کی تھی۔ یہ بیانات مذاکرات کے بارے میں پی ٹی آئی کے اس وقت کے سیاسی مؤقف کو سمجھنے کے لیے اہم ہیں۔
عطا تارڑ کا پی ٹی آئی کو ٹی ٹی پی کی ’’بی ٹیم‘‘ قرار دینا اسی پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ مذاکرات، جنگجوؤں کی واپسی کے منصوبے اور دفتر کی پیشکش ایسے قابلِ شناخت واقعات ہیں جنہیں ایک مربوط زمانی ترتیب میں رکھ کر پالیسی کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ان واقعات سے پی ٹی آئی کی مذاکراتی حکمت عملی واضح ہوتی ہے؛ جماعت اور دہشت گرد تنظیم کے درمیان عملی یا تنظیمی تعاون کا تعین کرنے کے لیے متعلقہ رابطوں اور سرگرمیوں کے مزید شواہد درکار ہوں گے۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات صوبائی حکومت کی کارکردگی کا ایک بنیادی پیمانہ ہیں۔ ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے اعدادوشمار کے مطابق صوبے میں دہشت گردی سے متعلق ہلاکتیں 2019 میں 130 تھیں، جو 2021 میں 301، 2022 میں 527، 2023 میں 941 اور 2024 میں 1,363 تک پہنچ گئیں۔ اسی ذریعے کے مطابق دہشت گردی سے متعلق واقعات کی تعداد 2023 کے 472 سے بڑھ کر 2024 میں 702 ہو گئی۔
یہ اعدادوشمار صوبے میں سلامتی کی صورتِ حال میں نمایاں بگاڑ ظاہر کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی 2013 سے صوبے میں مسلسل حکومت کرتی رہی ہے، اس لیے پولیس کی استعداد، انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی، انتظامی اقدامات اور عوام کے تحفظ کے بارے میں اس کی کارکردگی کا جائزہ ناگزیر ہے۔ دہشت گردی میں اضافے کے اسباب متعین کرنے کے لیے ان اعدادوشمار کو افغانستان کی صورتِ حال، سرحد پار نقل و حرکت، وفاقی فیصلوں اور سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کے ساتھ بھی دیکھنا ہوگا۔
پولیس اور سی ٹی ڈی کو جدید وسائل فراہم نہ کرنے کے الزام کی جانچ بجٹ، خریداری اور عملی کارکردگی کے ریکارڈ سے کی جا سکتی ہے۔ خیبرپختونخوا پولیس کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2025 میں 3,277 انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں کی گئیں، 1,300 سے زیادہ دہشت گرد گرفتار ہوئے اور 459 دہشت گرد پولیس کارروائیوں میں مارے گئے۔ اسی رپورٹ میں پولیس پر 536 حملوں اور 159 اہلکاروں کی شہادت کا ذکر ہے۔
یہ اعدادوشمار پولیس کی کارروائیوں اور اسے درپیش خطرات کی شدت واضح کرتے ہیں۔ لیکن عطا تارڑ کے اس مخصوص الزام کا فیصلہ کرنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ پولیس اور سی ٹی ڈی کے لیے کتنے فنڈز مختص ہوئے، کتنی رقم جاری اور خرچ کی گئی، کون سا جدید اسلحہ خریدا گیا، فرانزک لیبارٹری کو کون سی سہولتیں فراہم ہوئیں اور کن منصوبوں پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ ان تفصیلات کے بغیر وسائل کی فراہمی سے متعلق الزام کی مکمل تصدیق ممکن نہیں۔
سہیل آفریدی کے بارے میں عطا تارڑ کا دعویٰ ہے کہ وزیراعلیٰ نے ترقیاتی امور پر توجہ نہیں دی اور تخریب کاری سے متعلق چھ چھ گھنٹے کے اجلاس کیے۔ اس دعوے کی جانچ اجلاسوں کے ریکارڈ، ان کے موضوعات اور فیصلوں سے ہو سکتی ہے۔ صوبائی حکومت کی ترقیاتی کارکردگی جانچنے کے لیے بجٹ کے استعمال، منصوبوں کی تکمیل، صحت و تعلیم کی سہولتوں، روزگار اور متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کے اعدادوشمار درکار ہیں۔ ان ریکارڈز سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں پر کتنا کام ہوا اور کن شعبوں میں حکومتی کارکردگی کمزور رہی۔
طالبان کی خواتین سے متعلق سوچ صوبے پر مسلط کیے جانے کے الزام کا جائزہ بھی مخصوص واقعات اور حکومتی فیصلوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ خواتین کی تعلیم، ملازمت اور شہری حقوق سے متعلق پالیسیوں، کسی پابندی کے نفاذ، مسلح گروہوں کی دھمکیوں اور انتظامیہ کے ردعمل کا ریکارڈ اس معاملے کی حقیقت واضح کر سکتا ہے۔
افغانستان سے متعلق پی ٹی آئی کی قیادت کے بیانات بھی اسی تحقیق کا حصہ ہیں۔ جب پاکستان کی حکومت افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں اور سرحد پار حملوں کا معاملہ اٹھاتی ہے تو سیاسی جماعتوں کے مؤقف اور ان کے عملی نتائج اہم ہو جاتے ہیں۔ افغانستان کے متعدد پڑوسی ہونے کا جغرافیائی حقیقت پر مبنی بیان اپنی جگہ، لیکن اس سے پاکستان میں ہونے والے حملوں یا افغان سرزمین سے سرگرم مسلح گروہوں کے بارے میں سوالات ختم نہیں ہوتے۔ متعلقہ سیاسی بیانات، افغان طالبان حکومت سے مطالبات اور دہشت گردی کے واقعات پر ردعمل کا تقابل کرکے یہ جانچا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کی پالیسی ریاستی سلامتی کے تقاضوں سے کس حد تک مطابقت رکھتی تھی۔
عطا تارڑ کے الزامات میں کچھ معاملات براہِ راست تاریخی بیانات اور اعدادوشمار سے جانچے جا سکتے ہیں، جبکہ بعض کے لیے مزید سرکاری دستاویزات اور واقعاتی شواہد ضروری ہیں۔ مذاکرات اور واپسی کے منصوبے کے بارے میں عمران خان کے اپنے بیانات موجود ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات اور پولیس کی قربانیوں کے اعدادوشمار بھی دستیاب ہیں۔ اب ضرورت ان شواہد کو ایک زمانی ترتیب میں رکھ کر پالیسیوں، فیصلوں اور نتائج کے درمیان تعلق سمجھنے کی ہے۔
خیبرپختونخوا کے عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ دہشت گردی کی واپسی کے دوران کون سے سیاسی فیصلے کیے گئے، ان فیصلوں کے کیا نتائج نکلے، پولیس اور سی ٹی ڈی کو درکار وسائل کیوں اور کس حد تک فراہم ہوئے، اور صوبائی و وفاقی حکومتوں نے شہریوں کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے۔ اس احتساب میں پی ٹی آئی کی سابقہ مذاکراتی پالیسی، اس کی طویل صوبائی حکمرانی اور موجودہ حکومت کی کارکردگی، سب کا ریکارڈ سامنے آنا چاہیے۔
اصل سوال سیاسی جماعتوں کے ایک دوسرے پر الزامات لگانے کا نہیں، بلکہ ان فیصلوں اور اقدامات کا ہے جن کے اثرات خیبرپختونخوا کے عوام نے بھگتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بیانات نہیں، فیصلوں کا ریکارڈ، ان کے نتائج اور ان سے وابستہ ذمہ داری اہم ہوتی ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر سیاسی دعووں کو پرکھا اور عوام کے سامنے حقیقت رکھی جا سکتی ہے۔
واپس کریں