دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پارلیمنٹ سے بازاری زبان تک: اقبال آفریدی کا سیاسی طرزِ عمل اور قانون کی حکمرانی کا سوال
No image (پشاور) خالد خان
سیاست میں اختلاف کوئی عیب نہیں، مگر اختلاف کو دھمکی، تلخ کلامی اور ذاتی طاقت کے اظہار میں بدل دینا ایک ایسا رویہ ہے جس کا احتساب ضروری ہے۔ عوامی نمائندے کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ وہ ایوان میں کتنی بلند آواز سے بولتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اختلاف کے لمحے میں اپنی زبان، اپنے رویے اور اپنے اختیارات کو کس حد تک ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ جب کسی منتخب نمائندے کے بیانات اور طرزِ عمل بار بار تنازع کا موضوع بننے لگیں تو معاملہ محض اس کی شخصیت تک محدود نہیں رہتا، بلکہ سیاسی تربیت، جماعتی نظم و ضبط اور عوامی نمائندگی کے معیار سے بھی جڑ جاتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے حالیہ بیان نے اسی بحث کو دوبارہ زندہ کردیا ہے۔ 8 اکتوبر 2026 کو سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق، انہوں نے خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں درخت کے ساتھ باندھ دیں گے، پورا دن بندھا کھڑا رکھیں گے اور گاڑی کے پیچھے بھی باندھ دیں گے۔ انہوں نے اپنی قبائلی شناخت کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ وہ انہیں دیکھ لیں گے اور انہیں چھڑوانے کوئی نہیں آئے گا۔ اگر یہ الفاظ مکمل ویڈیو اور اصل سیاق و سباق میں بھی اسی طرح موجود ہیں تو یہ محض سیاسی طنز یا سخت تنقید نہیں، بلکہ ایک ایسے طرزِ اظہار کی مثال ہیں جس میں اختلاف کا جواب جسمانی جبر کی دھمکی سے دیا جا رہا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا قومی اسمبلی کا رکن کسی دوسرے شخص کو محض اس لیے جسمانی نقصان پہنچانے یا زبردستی پابند رکھنے کی دھمکی دے سکتا ہے کہ اس سے سیاسی اختلاف ہے؟ جواب واضح ہے۔ پارلیمانی منصب کسی شخص کو قانون سے بالاتر نہیں کرتا۔ قومی اسمبلی کی رکنیت عوامی اعتماد کی ذمہ داری ہے، کسی ذاتی لشکر کی کمان نہیں۔ سیاست میں مخالف کو جواب دینے کے لیے دلیل، سیاسی عمل اور قانونی راستے موجود ہیں۔ کسی کو درخت سے باندھنے یا گاڑی کے پیچھے گھسیٹنے کی دھمکی ان راستوں کا متبادل نہیں بن سکتی۔
اقبال آفریدی کے معاملے میں اس تازہ بیان کو ان کے سابقہ تنازعات سے الگ کرکے دیکھنا بھی مکمل تصویر پیش نہیں کرے گا۔ جنوری 2026 میں پارلیمنٹ کے باہر ان کی پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی خرم شہزاد کے ساتھ تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کی خبریں سامنے آئیں۔ مئی میں جنید اکبر کے ساتھ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران تنازع کی رپورٹ ہوئی۔ جون 2026 میں پی ٹی آئی کی جانب سے انہیں مبینہ نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں اور ساتھی ارکان کے ساتھ نامناسب رویے کے حوالے سے شوکاز نوٹس جاری کیے جانے کی خبر بھی شائع ہوئی۔ ان واقعات کی نوعیت اور تفصیلات کو متعلقہ رپورٹس کے مطابق ہی بیان کرنا چاہیے؛ کسی الزام، شوکاز یا میڈیا رپورٹ کو عدالتی طور پر ثابت شدہ جرم قرار دینا درست نہیں۔ تاہم ان واقعات کا تسلسل سیاسی جماعتوں کے اندر رویے، برداشت اور نظم و ضبط کے معیار پر سوال اٹھانے کے لیے کافی ہے۔
یہ معاملہ صرف اقبال آفریدی یا پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں۔ پاکستانی سیاست میں مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے مخالفین کے لیے دھمکی آمیز زبان استعمال کرنے، انہیں ذاتی دشمن سمجھنے اور سیاسی اختلاف کو انا کا مسئلہ بنانے کی مثالیں ملتی رہی ہیں۔ جب کسی جماعت کے کارکن کو اپنے رہنما کی ہر بات درست اور مخالف کی ہر بات قابلِ مذمت دکھائی دینے لگے تو سیاسی شعور کی جگہ اندھی وابستگی لے لیتی ہے۔ یہی طرزِ فکر سیاسی اختلاف کو دشمنی میں بدلتا اور جمہوری اداروں کو کمزور کرتا ہے۔ کسی ایک جماعت کے خلاف اصول لاگو کرکے دوسری کو استثنا دینا بھی انصاف نہیں؛ معیار سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔
اقبال آفریدی کے بیان میں قبائلی شناخت کا حوالہ خاص توجہ چاہتا ہے۔ قبائلی معاشروں کی اپنی تاریخ، روایات، جرگے اور تنازعات کے حل کے طریقے ہیں۔ ان روایات کو کسی فرد کی ذاتی دھمکی یا طاقت کے اظہار کے ساتھ خلط ملط کرنا درست نہیں۔ قبائلی ہونا کسی شخص کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ کسی دوسرے انسان کو اپنی مرضی کے مطابق باندھے، گھسیٹے یا سزا دے۔ نہ ہی قبائلی شناخت کسی غیر قانونی اقدام کے لیے جواز فراہم کرتی ہے۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا یہی ہے کہ کسی فرد کا تعلق، منصب، خاندانی پس منظر یا سماجی اثر و رسوخ اسے جواب دہی سے مستثنیٰ نہ بنائے۔
گورنر اور وزیراعلیٰ کے درمیان سیاسی اختلاف ہو، کسی جماعت کو وفاقی حکومت سے شکایت ہو یا کسی منتخب نمائندے کو کسی دوسرے عہدے دار کے طرزِ عمل پر اعتراض ہو، اس کا فیصلہ سیاسی اور آئینی طریقوں سے ہونا چاہیے۔ ایک رکن قومی اسمبلی اپنے مخالف کی پالیسیوں پر سخت ترین تنقید کرسکتا ہے، اس کے استعفے کا مطالبہ کرسکتا ہے اور اس کے خلاف سیاسی مہم بھی چلا سکتا ہے، مگر جسمانی جبر کی دھمکی کو سیاسی اظہار کا معمول نہیں بنایا جاسکتا۔ یہ اصول گورنر فیصل کریم کنڈی کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا اقبال آفریدی یا کسی دوسرے منتخب نمائندے کے لیے۔
اس معاملے میں پی ٹی آئی کی قیادت کی ذمہ داری بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی۔ اگر جماعت اپنے ارکان سے نظم و ضبط، مہذب سیاسی مکالمے اور جمہوری اقدار کی پابندی چاہتی ہے تو اسے ان اصولوں کا اطلاق اپنی صفوں میں بھی کرنا ہوگا۔ شوکاز نوٹس جاری کرنا ایک انتظامی قدم ہے، لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ جماعت اپنے ضابطۂ اخلاق کو کس حد تک یکساں اور شفاف انداز میں نافذ کرتی ہے۔ کسی رکن کے لیے الگ معیار اور کسی دوسرے کے لیے الگ معیار جماعتی اصولوں کو محض رسمی کارروائی بنا دیتا ہے۔
اسی طرح متعلقہ ریاستی اداروں کو بھی کسی بیان پر ردعمل دیتے ہوئے جذبات کے بجائے قانون اور شواہد کی بنیاد پر کام کرنا چاہیے۔ پہلے اصل ویڈیو اور مکمل سیاق و سباق کی تصدیق ہو، پھر یہ دیکھا جائے کہ بیان قانونی طور پر کس نوعیت کا ہے اور کیا اس پر کسی قانونی کارروائی کی بنیاد بنتی ہے۔ کسی شخص کو محض سیاسی دباؤ کے تحت مجرم قرار دینا بھی درست نہیں اور منتخب نمائندے کو اس کے منصب کی وجہ سے ہر قسم کی جواب دہی سے بالاتر سمجھنا بھی غلط ہے۔
پاکستان کو اس وقت ایسے سیاسی کلچر کی ضرورت ہے جس میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے مسائل حل کرنے، مخالف کو خاموش کرانے کے بجائے اس کا جواب دینے اور ذاتی دھمکی کے بجائے قانون پر اعتماد کرنے کی روایت مضبوط ہو۔ قومی اسمبلی کے ارکان اگر اپنے اختلافات کو مہذب مکالمے کے ذریعے حل نہیں کرسکتے تو عام شہریوں سے قانون کی پاسداری کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟ عوامی نمائندے صرف قانون سازی نہیں کرتے، وہ اپنے طرزِ عمل سے معاشرے کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ اختلاف کے وقت کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
اقبال آفریدی کا حالیہ بیان اسی لیے محض ایک سیاسی خبر نہیں، بلکہ جمہوری رویوں اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے ایک اہم سوال ہے۔ سیاست میں کسی کی زبان کتنی سخت ہے، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ اپنے مخالف کے لیے کون سا راستہ تجویز کرتا ہے: دلیل یا دھمکی، قانون یا ذاتی طاقت، سیاسی مقابلہ یا جسمانی جبر؟
عوامی نمائندگی کا وقار بلند آواز، جارحانہ انداز یا مخالف کو خوف زدہ کرنے سے قائم نہیں ہوتا۔ یہ وقار برداشت، دلیل، ذمہ داری اور قانون کی پاسداری سے قائم ہوتا ہے۔ قومی اسمبلی کی نشست کسی فرد کو عوام کی طرف سے دیا گیا اعتماد ہے، ذاتی برتری کا سرٹیفکیٹ نہیں۔ اس اعتماد کا تقاضا ہے کہ نمائندے اپنے الفاظ اور اعمال دونوں کے لیے جواب دہ ہوں، اور یہ جواب دہی کسی جماعت، شناخت یا سیاسی وابستگی کی محتاج نہ ہو۔
واپس کریں