دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
دریائے سندھ کا سونا، اربوں کا غیر قانونی کاروبار اور نظام پور کے تین مغوی پولیس اہلکار
No image رپورٹ خالد خان
دریائے سندھ صدیوں سے اپنے سینے میں قدرتی وسائل سمیٹے بہتا آ رہا ہے۔ اس کے کناروں پر آباد لوگوں نے نسل در نسل ریت اور بجری میں سونے کے ذرات تلاش کیے۔ یہ ایک روایتی محنت تھی، جس سے بعض خاندان محدود پیمانے پر روزی کماتے تھے۔ لیکن جب یہی سرگرمی بھاری مشینری، بڑے مالیاتی مفادات، منظم کاروباری نیٹ ورک اور مبینہ مسلح سرپرستی کے سائے میں ایک وسیع صنعت کی شکل اختیار کر لے تو معاملہ محض روزگار یا معدنیات نکالنے کا نہیں رہتا۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس دولت پر عملی اختیار کس کا ہے، اس سے فائدہ کون اٹھا رہا ہے اور ریاست کے قوانین اس کے سامنے بے اثر کیوں دکھائی دیتے ہیں؟
نوشہرہ کے علاقے نظام پور اور دریائے سندھ کے کنارے سونے کی غیر قانونی کان کنی کا معاملہ انہی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ستمبر 2024 میں روزنامہ ڈان نے رپورٹ کیا تھا کہ پنجاب حکومت نے ضلع اٹک میں دریائے سندھ کے حصے سے غیر مجاز سونا نکالنے پر پابندی عائد کی اور معدنیات کے محکمے نے قانونی طریقے سے ذخائر کی نیلامی کی تیاری شروع کی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ روایتی طور پر ہاتھوں سے سونا تلاش کرنے کا کام کیا جاتا تھا، لیکن بعد میں بھاری کھدائی کرنے والی مشینیں بھی اس سرگرمی میں استعمال ہونے لگیں۔ یوں دریا کے دونوں کناروں پر پھیلے مسئلے کی نوعیت واضح ہو گئی کہ قدرتی ذخیرے موجود تھے، مگر انہیں نکالنے کے طریقے اور پیمانے تبدیل ہو رہے تھے۔
یہاں ایک اہم جغرافیائی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دریائے سندھ کے اس حصے کا ایک کنارہ خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ جبکہ دوسرا پنجاب کے ضلع اٹک سے متعلق ہے۔ دریا اپنی جگہ وہی ہے، قدرتی ذخائر بھی اسی نظام کا حصہ ہیں، مگر دونوں جانب انتظامی اختیار اور قانون کے نفاذ کی صورت حال ایک جیسی نہیں رہی۔ پنجاب کے محکمہ معدنیات نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے غیر قانونی کان کنی روکنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے اور اٹک میں سونے کی چوری مکمل طور پر بند کر دی۔ اسی محکمے نے ذخائر کی باقاعدہ نیلامی کے ذریعے سرکاری آمدن حاصل کرنے کی صلاحیت کا بھی ذکر کیا ہے۔
اگر پنجاب میں غیر قانونی سرگرمی روک کر معدنی ذخائر کو باقاعدہ قانونی طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے تو خیبرپختونخوا کی جانب اسی مسئلے کے حل میں مسلسل دشواری کیوں پیش آتی رہی؟ یہ محض سیاسی تقابل نہیں، بلکہ انتظامی کارکردگی، معدنی وسائل کی حفاظت اور ریاستی آمدن کا سوال ہے۔ البتہ دونوں اطراف کی صورت حال کا منصفانہ تقابل کرنے کے لیے پابندیوں کے عملی نتائج، جاری سرگرمیوں اور نفاذِ قانون کے ریکارڈ کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔
خیبرپختونخوا میں مسئلے کی سنگینی کا اندازہ ستمبر 2026 میں ایک ایف آئی آر سے متعلق رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا کہ دریائے سندھ اور دریائے کابل کے مختلف حصوں میں غیر مجاز کان کنی کے لیے 1,500 سے زیادہ بھاری کھدائی کرنے والی مشینوں کے استعمال کا الزام درج کیا گیا۔ اسی ایف آئی آر میں فی مشین ہفتہ وار پانچ سے سات لاکھ روپے کی آمدن کا تخمینہ پیش کیا گیا، جس کی بنیاد پر مجموعی کاروبار کی ہفتہ وار مالیت تقریباً 75 کروڑ روپے بتائی گئی۔ یہ اعدادوشمار ایف آئی آر میں بیان کردہ الزامات اور تخمینوں پر مبنی ہیں، کسی آزادانہ مالیاتی آڈٹ کے تصدیق شدہ نتائج نہیں۔ تاہم اگر ان کا ایک حصہ بھی درست ہے تو معاملے کا حجم روایتی سطح کی کان کنی سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔
اتنی بڑی سرگرمی کے لیے صرف مشینیں کافی نہیں ہوتیں۔ ایندھن، آپریٹرز، مزدور، مرمت، نقل و حمل، سونے کی خریداری، مالی لین دین اور منڈی تک رسائی کا پورا نظام درکار ہوتا ہے۔ اگر سینکڑوں مشینیں روزانہ کام کر رہی ہوں تو یہ سوال ناگزیر ہے کہ ان کی ملکیت کس کے پاس ہے، انہیں ایندھن کون فراہم کرتا ہے، نکالا گیا سونا کس کے ہاتھ فروخت ہوتا ہے اور اس کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم کن راستوں سے گردش کرتی ہے۔ ان سوالات کے جواب محض غیر قانونی کان کنی کی مقدار نہیں بتائیں گے بلکہ اس کے پیچھے موجود معاشی ڈھانچے کو بھی واضح کریں گے۔
یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ حکومت یا انتظامیہ نے اس مسئلے پر کبھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ فروری 2026 میں ڈان کی رپورٹ کے مطابق نوشہرہ میں غیر قانونی کان کنی کے خلاف ایک بڑے آپریشن میں 53 غیر قانونی کان کنی کے پلانٹ تباہ کیے گئے، چار کھدائی کرنے والی مشینیں ناکارہ بنائی گئیں، 210 مشینیں کارروائی سے پہلے ہٹا دی گئیں اور 17 افراد گرفتار ہوئے۔ رپورٹ میں 9,500 لیٹر تیل ضبط کرنے اور مزید 1,500 لیٹر تلف کرنے کا ذکر بھی تھا۔ ضلعی انتظامیہ نے بعض مشینوں کو قریبی دیہات میں گھروں اور حجروں میں چھپائے جانے کی اطلاع دی اور مستقل نگرانی کے انتظامات کا اعلان کیا۔
اس کارروائی کے بعد اصل سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ کیا یہ اقدامات غیر قانونی کان کنی کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئے؟ اگر مشینری ایک جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ منتقل کر دی جائے، اگر کاروبار نئے مقامات پر دوبارہ شروع ہو سکے اور اگر پابندیوں کے باوجود اس کی مالی کشش برقرار رہے تو محض وقتی آپریشن مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ اس کے لیے مشینری کی ملکیت، ایندھن کی فراہمی، معدنیات کی خریدوفروخت اور کاروبار کو تحفظ دینے والے ممکنہ نیٹ ورک کی تحقیقات ضروری ہیں۔
یہیں دہشت گرد گروہوں کے ممکنہ کردار کا سوال سامنے آتا ہے۔ مقامی معلومات کی بنیاد پر یہ الزام سامنے آیا ہے کہ ٹی ٹی پی اور دوسرے مسلح گروہوں نے سونے کے کاروبار کو منظم شکل دینے، اس کی سرپرستی کرنے یا اس سے مالی فائدہ اٹھانے میں کردار ادا کیا۔ اگر اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے تو غیر قانونی کان کنی صرف معدنی وسائل کی چوری نہیں رہے گی بلکہ دہشت گردی کی مالی معاونت اور مسلح گروہوں کے مقامی معاشی اثر و رسوخ کا معاملہ بھی بن جائے گی۔ اس پہلو کی تحقیقات میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا کسی گروہ کو تحفظ کے عوض رقم ملتی ہے، کاروبار پر اس کا براہِ راست اختیار ہے، یا مختلف گروہ اس آمدن پر قبضے کے لیے ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔
اسی طرح ضلعی انتظامیہ، پولیس، معدنیات کے محکمے، متعلقہ وزارت اور صوبائی حکومت کے بعض اہلکاروں کی ممکنہ شمولیت یا چشم پوشی کے الزامات بھی غیر معمولی سنجیدگی کے متقاضی ہیں۔ اتنے بڑے کاروبار کا طویل عرصے تک جاری رہنا نگرانی اور قانون کے نفاذ پر سوال ضرور اٹھاتا ہے، لیکن تمام متعلقہ حکام کو ایک ہی الزام میں شامل کرنے سے پہلے انفرادی کردار، موصول ہونے والی شکایات، سرکاری کارروائیوں اور مالی روابط کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ کہیں دانستہ سرپرستی ہو سکتی ہے، کہیں بدعنوانی، کہیں انتظامی ناکامی اور کہیں مسلح دباؤ کے باعث کارروائی میں رکاوٹ۔ ان سب کو ایک ہی حقیقت سمجھ لینا تحقیق کو کمزور کر دے گا۔
اب اس وسیع پس منظر میں نظام پور تھانے کے تین پولیس اہلکاروں کا معاملہ سامنے آتا ہے۔ 9 اکتوبر 2026 کو ڈان نے رپورٹ کیا کہ محرر نعیم اللہ، اسسٹنٹ محرر عامر اور کانسٹیبل نور اسلام جمعرات کی شام لاپتا ہوئے اور ان کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکار ناکوں کا معائنہ کر رہے تھے۔ دوسری جانب ہم نیوز کی رپورٹ میں ایس ایچ او کی جانب سے درج ابتدائی اطلاع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ محرر کو کوہاٹ کی سرحد کے قریب پہاڑی علاقے میں مسلح مشتبہ افراد کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد وہ دونوں اہلکاروں کے ہمراہ پیران بالا کی جانب روانہ ہوا۔ اسی رپورٹ میں ٹی ٹی پی کے ملوث ہونے کے شبہے اور بازیابی کے لیے مقامی عمائدین کے ذریعے رابطوں کا ذکر بھی کیا گیا۔
یہاں چند بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ محرر کا تھانے سے نکلنے کا اصل مقصد کیا تھا؟ کیا یہ معمول کی پولیس ڈیوٹی تھی، کسی اطلاع پر کارروائی تھی یا کسی مقامی تنازعے کے سلسلے میں رابطہ؟ کیا تینوں اہلکاروں کے لاپتا ہونے کا غیر قانونی سونے کی کان کنی کے کاروبار سے کوئی تعلق تھا؟ کیا اس کاروبار پر اختیار، مالی مفادات یا کسی ممکنہ تنازعے نے اس واقعے میں کردار ادا کیا؟ دستیاب عوامی رپورٹیں ان سوالات کا حتمی جواب نہیں دیتیں۔ اس لیے کاروباری تنازعے کو اغوا کی ثابت شدہ وجہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا، لیکن اس امکان کو سنجیدہ تحقیق سے خارج کرنا بھی درست نہیں۔
اگر کسی بڑے غیر قانونی کاروبار میں مسلح گروہ، مقامی بااثر افراد، مالی مفادات اور انتظامی حلقوں کے روابط موجود ہوں تو ایسے ماحول میں پولیس کا کردار نہایت حساس ہو جاتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکار اگر کسی غیر قانونی نیٹ ورک کے سامنے کھڑے ہوں تو انہیں تحفظ، واضح احکامات، مؤثر انٹیلی جنس اور مضبوط ادارہ جاتی تعاون درکار ہوتا ہے۔ اور اگر کسی اہلکار کی روانگی کا مقصد ایسے نیٹ ورک سے رابطہ کرنا تھا تو اس کے احکامات، اختیار اور حفاظتی انتظامات کی جانچ بھی ضروری ہوگی۔ یہ سوالات کسی فرد کو پہلے سے مجرم قرار دینے کے لیے نہیں، بلکہ واقعے کی اصل نوعیت معلوم کرنے کے لیے ہیں۔
خیبرپختونخوا حکومت فروری 2026 میں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے متعلقہ حصوں میں سونا نکالنے پر پابندی میں مزید توسیع کر چکی تھی، اور ضلعی انتظامیہ کو خلاف ورزی کرنے والوں کی مشینری اور آلات ضبط کرنے کے اختیارات بھی دیے گئے تھے۔ اس کے باوجود ستمبر 2026 میں بڑے پیمانے پر غیر مجاز کان کنی سے متعلق الزامات سامنے آنا ظاہر کرتا ہے کہ پابندی کا اعلان اور اس کا مستقل نفاذ دو مختلف چیزیں ہیں۔
ریاستی عمل داری کا مطلب صرف قانون بنانا یا پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کرنا نہیں۔ اس کا اصل امتحان یہ ہے کہ قانون طاقتور اور کمزور، دونوں پر یکساں نافذ ہوتا ہے یا نہیں؛ سرکاری وسائل کی چوری روکی جاتی ہے یا نہیں؛ اور کسی مسلح گروہ کو مقامی معیشت پر ایسا اختیار حاصل ہونے دیا جاتا ہے یا نہیں جس سے وہ اپنی قوت بڑھا سکے۔ اگر کسی علاقے میں بھاری مشینری کے ذریعے غیر قانونی کان کنی جاری رہے، اس سے بڑی رقم پیدا ہو اور اس کاروبار کے گرد مسلح تنازعات کے شواہد بھی سامنے آئیں تو محض چند گرفتاریاں یا وقتی کارروائیاں کافی نہیں ہوں گی۔
اس معاملے کی جامع تحقیقات میں کم از کم چار چیزوں کو ایک ساتھ دیکھنا ہوگا۔ کان کنی کی قانونی حیثیت اور حقیقی حجم؛ مشینری اور ایندھن کی فراہمی کا مالیاتی ریکارڈ؛ کاروبار سے وابستہ افراد اور مسلح گروہوں کے ممکنہ روابط؛ اور نظام پور کے تین پولیس اہلکاروں کی روانگی، لاپتا ہونے اور بازیابی کی کوششوں کی مکمل زمانی ترتیب۔ اسی کے ساتھ پنجاب کے اٹک والے کنارے پر پابندیوں کے نفاذ اور خیبرپختونخوا میں ہونے والی کارروائیوں کا تقابلی جائزہ بھی ضروری ہے۔
دریائے سندھ کا سونا قدرتی دولت ہے، کسی مسلح گروہ، بااثر فرد یا سرکاری اہلکار کی ذاتی ملکیت نہیں۔ اگر یہ دولت قانونی طریقے سے نکالی جائے تو ریاست کو آمدن، مقامی آبادی کو روزگار اور معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی ذخیرہ غیر قانونی کاروبار، مبینہ مسلح سرپرستی اور ممکنہ بدعنوانی کا ذریعہ بن جائے تو اس کا نقصان صرف قومی خزانے تک محدود نہیں رہتا؛ ماحول، مقامی آبادی، امن و امان اور ریاستی اختیار بھی متاثر ہوتے ہیں۔
نظام پور کے تین پولیس اہلکاروں کا معاملہ اسی لیے ایک الگ تھلگ واقعہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی بازیابی، ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مکمل وضاحت اور ذمہ داروں کی نشاندہی اپنی جگہ فوری تقاضے ہیں۔ ساتھ ہی اس بڑے معاشی نظام کی حقیقت جاننا بھی ضروری ہے جس کے گرد اتنے سنگین سوالات پیدا ہو چکے ہیں۔ اگر دونوں معاملات میں کوئی تعلق ہے تو شواہد اسے واضح کریں؛ اگر تعلق نہیں تو تحقیق اسے بھی سامنے لائے۔
اصل امتحان یہ نہیں کہ کسی الزام کو عدالت میں ثابت ہونے سے پہلے خاموشی اختیار کر لی جائے، اور نہ یہ کہ ہر شبہے کو حتمی فیصلہ بنا دیا جائے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ سوالات پوچھے جائیں، ریکارڈ کی جانچ ہو، مالیاتی روابط کا سراغ لگایا جائے اور ریاستی ادارے اپنے فرائض کے بارے میں جواب دہ ہوں۔ دریائے سندھ کے سونے اور نظام پور کے پولیس اہلکاروں کے معاملے میں عوام کو قیاس آرائی نہیں، مکمل اور قابلِ اعتماد حقائق درکار ہیں۔ یہی قانون کی بالادستی اور ریاستی عمل داری کا حقیقی تقاضا ہے۔
واپس کریں