دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
منصوبہ بندی کے بغیر ایک فیصلے کے نتائج
No image ہمارے لائق فائق افلاطونوں نے ملک میں دہشت گردی روکنے کے لیئے افغان بارڈر بند کیا، پہلے لگاٹھیک کیا لیکن چونکہ ٹھوس منصوبہ بندی، سیاسی تدبر اور دور اندیشی کے بجائے پلاننگ صرف ڈنڈا چلانے کی تھی، جس کے نتائج اب سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
افغان کرنسی پاکستان سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہے، افغانی جب یہاں سے اپنا سرمایہ لے گئے تو لا محالہ افغانی معیشت نے بہتر ہونا تھا۔9 اکتوبر 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق1 افغان افغانی 4.27 سے 4.28 پاکستانی روپے۔ اس کا مطلب کہ 1 پاکستانی روپیہ 0.23 سے 0.234 افغان افغانی۔ ڈالر کے مقابلے میں موازنہ1 امریکی ڈالر 64.5 سے 65 افغان افغانی یعنی 1 امریکی ڈالر 277 پاکستانی روپے۔ اس حساب سے ایک افغانی کی قدر پاکستانی ایک روپے سے تقریباً 4.3 گنا زیادہ ہے۔
ہمارے سائنس دانوں کا خیال تھا کہ چمن اور طورخم بارڈر بند ہوجائیگا تو افغانستان میں اجناس اور ضروریات زندگی کی کمی ہو جائیگی اور وہ بھوکے مریں گے،لیکن افغانستان نے ایران چہار بہار، چائنہ، بھارت، اور وسطی ایشائی ریاستوں کی مدد سے اپنے معاشی مسائل حل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
ادھر اپنے وہ کارخانے اور فیکٹریاں بند ہو گئی جو چلتی ہی افغانی گاہکوں کی وجہ سے تھیں،پولٹری انڈسٹری بھی متاثر ہوئی ہے، اور کچھ عرصہ بعد یہی صورتحال الیکٹریکل انڈسٹری کا بھی ہوگا۔ ایک مرتبہ جب مارکیٹ ہاتھ سے نکل جائے تو وہ دوبارہ نہیں ملتی۔ اب افغانستان نے دوسرے سستے زرائع پر انحصار شروع کیا ہے، پاکستانی بارڈر بند ہونے سے ہی افغانستان نے دیگر تجارتی راستے دیکھے ہیں۔ اگر ہمارے بیچ بارڈرز کھلے ہوتے تو افغانیوں کو ابھی تک یہ محسوس بھی نہیں ہونا تھا کہ وہ لوگ وسطی ایشیا میں بھی تجارت کرسکتے ہیں۔
پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق 8-9 ماہ میں پاکستانی تاجروں کو تقریباً 278 سے 280 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ 10 ماہ میں برآمدات میں تقریباً 1 ارب ڈالر کا خسارہ بتایا گیا۔
جبکہ وزارت تجارت کے اعداد کے مطابق اکتوبر 2025 سے اپریل 2026 کے درمیان برآمدات میں تقریباً 705 ملین ڈالر اور ٹرانزٹ آمدنی میں 100 ملین ڈالر کا نقصان (کل تقریباً 800-850 ملین ڈالر)۔ افغانستان کو برآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں شدید کم ہو کر بہت کم سطح پر آ گئیں اور اگر ماہانہ تخمینہ کی بات کی جائے تو کاروباری تنظیموں کے مطابق ماہانہ تقریباً 50 ارب روپے (تقریباً 177 ملین ڈالر) کا نقصان۔ پنجاب کے لیے ماہانہ 80 ارب روپے سے زیادہ کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
متاثرہ شعبوں میں سیمنٹ، ادویات، سرجیکل سامان، آلو، کنّو، سبزیاں، چاول، ٹیکسٹائل وغیرہ۔ افغانستان پاکستان کی اہم علاقائی منڈی تھا (سالانہ 1 سے 1.5 ارب ڈالر کے قریب برآمدات) جبکہ وسطی ایشیا (ازبکستان، تاجکستان وغیرہ) کو جانے والا سامان رک گیا۔ پاکستان کی ٹرانزٹ آمدنی (سالانہ تقریباً 160 ملین ڈالر) متاثر ہوئی۔
ہزاروں ٹرانسپورٹرز، مزدور، کلیئرنگ ایجنٹس اور سرحدی علاقوں کے لوگ بے روزگار ہوئے (کچھ رپورٹس میں 10 ہزار سے زائد)
ہمارے لائق فائق فیصلہ سازوں نے جلد بازی میں اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی ماری ہے، افغانیوں کے لیئے اب مزید نئے تجارتی روٹ کھل رہے ہیں۔کابل میں اس وقت گاہک جب سینٹری کی پاکستانی میڈ کا دوکاندارسے پوچھتے ہیں تو وہ فورً ا چین کا بنا ہوا یا ایرانی مال گاہک کے سامنے پیش کر دیتا ہے جس کا یقینا پاکستان کو معاشی نقصان پہنچ رہا ہے۔
غربت میں نمبرون پوزیشن حاصل کرنے کے ساتھ اب یہ رپورٹ بھی سامنے آئی ہے کہ افغانستان کے ساتھ بارڈر بند ہونے سے پاکستان کو ایک سال میں تقریباً 19 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ دنیا کے ممالک عام طور پر دشمن ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ یا انہیں نہ خرید کر ان پر پابندیاں عائد کرتے ہیں، لیکن ہمارے ذہین فتین افلاطونوں نے افغان بارڈر بند کر کے اس پر اپنی ہی مصنوعات نہ بیچنے پابندی لگا دی اور یہ کارنامہ تب انجام دیا گیا جب افغانستان،پاکستانی مصنوعات کے لیے سب سے بڑی منڈی تھا۔
عالمی بینک اور دیگر اداروں کی رپورٹس کے مطابق بھی افغان معیشت میں معمولی نمو جاری ہے، گھریلو محصولات میں بہتری آئی ہے، اور تجارت کے متبادل راستے (چین،ایران اور وسطی ایشیا) استعمال ہو رہے ہیں۔
دنیا میں ایک دوسرے کے سب سے بڑے دشمن امریکہ اور چین اس و قت بھی ایک دوسرے کے خلاف سرد جنگ میں کودے ہوئے ہیں لیکن دونوں دشمنوں کے درمیان اربوں نہیں بلکہ ٹریلین ڈالرز کی تجارت ہو رہی ہے۔
ایک کمینہ ٹھیک کہتا تھا کہ ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں اوپر سے کوشش بھی نہیں کرتے۔
واپس کریں