نوشہرہ میں امن و امان، پولیس کی کارکردگی اور جواب دہی کا امتحان

(پشاور) رپورٹ خالد خان
نوشہرہ خیبرپختونخوا کا ایک اہم ضلع ہے، جس کی جغرافیائی، تجارتی اور انتظامی حیثیت کے باعث یہاں امن و امان کی صورت حال محض مقامی مسئلہ نہیں رہتی۔ دریائے سندھ کے کناروں پر غیر قانونی سونے کی کان کنی، جرائم کی روک تھام، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف پولیس کی استعداد ایسے معاملات ہیں جن پر ضلعی پولیس کی کارکردگی کو پرکھا جانا چاہیے۔ اسی تناظر میں ڈی پی او نوشہرہ سونیا شمروز خان کی تعیناتی کے بعد ضلع میں پولیس کی کارکردگی اور جواب دہی کا جائزہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
خیبرپختونخوا پولیس کی تاریخ میں خواتین کو پہلی مرتبہ ضلعی پولیس افسران کی ذمہ داریاں سونپنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔ جون 2026 کے آخر میں سونیا شمروز خان کو نوشہرہ اور ریشم جہانگیر کو لوئر چترال کا ڈی پی او تعینات کیے جانے کی خبر سامنے آئی۔ یہ پیش رفت اس اصول کی عکاسی کرتی ہے کہ خواتین کو بھی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، تجربے اور اہلیت کی بنیاد پر اہم انتظامی ذمہ داریاں سنبھالنے کے مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ تاہم کسی بھی عہدے پر تقرری کے بعد کارکردگی کا معیار جنس نہیں بلکہ نتائج، پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور عوامی جواب دہی ہونا چاہیے۔ خاتون افسر کے لیے بھی وہی معیار ہونا چاہیے جو مرد افسر کے لیے مقرر ہے۔
نوشہرہ میں دریائے سندھ کے کناروں پر غیر قانونی سونے کی کان کنی کا مسئلہ اس انتظامی امتحان کی ایک اہم مثال ہے۔ اپریل 2026 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، جولائی 2025 سے اس غیر قانونی سرگرمی کے خلاف 505 مقدمات درج اور 516 افراد گرفتار کیے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔ فروری 2026 میں بھی ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی کان کنی کے متعدد آلات اور تنصیبات کے خلاف کارروائی کی۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ مسئلہ نیا نہیں اور اس کے خلاف کارروائی کا سلسلہ موجودہ ڈی پی او کی تعیناتی سے پہلے بھی جاری تھا۔ لہٰذا اصل سوال یہ ہے کہ ان اقدامات کے بعد غیر قانونی کان کنی کتنی کم ہوئی، اس سے وابستہ مبینہ مالی مفادات اور سمگلنگ کے راستوں کو روکنے میں کتنی کامیابی ملی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کس حد تک مؤثر ثابت ہوئی۔ محض چھاپوں، گرفتاریوں یا مقدمات کی تعداد کو کامیابی کا مکمل پیمانہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
اس سے بھی زیادہ سنگین معاملہ نظام پور کے تین پولیس اہلکاروں کا لاپتا ہونا ہے۔ 9 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق، نظام پور تھانے کے محرر نعیم اللہ، معاون محرر عامر اور کانسٹیبل نور اسلام 8 اکتوبر کی شام کوہاٹ کی سرحد سے متصل پہاڑی علاقے میں لاپتا ہوئے۔ پولیس کی ابتدائی اطلاعات میں شبہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں تحریک طالبان پاکستان کے مسلح افراد اغوا کرکے لے گئے۔ اطلاعات کے مطابق، اہلکاروں کی تلاش کے لیے پولیس کی نفری روانہ کی گئی اور مقامی عمائدین کے ذریعے رہائی کے لیے مذاکرات کی کوششیں بھی شروع ہوئیں۔ تاہم اس مرحلے پر اغوا کی مکمل تصدیق اور اہلکاروں کی بازیابی سے متعلق تمام تفصیلات کو مستند سرکاری بیان سے جانچنا ضروری ہے۔
یہ واقعہ اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ معاملہ عام شہریوں کے اغوا کا نہیں بلکہ ان پولیس اہلکاروں کا ہے جو ریاستی اختیار اور قانون کے نفاذ کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔ اگر مسلح عناصر واقعی سرکاری اہلکاروں کو اپنے زیرِ قبضہ لے جانے میں کامیاب ہوئے ہیں اور ان کی رہائی کے لیے مقامی جرگے کو مذاکرات کرنا پڑ رہے ہیں تو یہ صورت حال ریاستی عمل داری، پولیس اہلکاروں کے تحفظ اور سرحدی علاقوں میں سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔ جرگے کا کردار مقامی معاشرتی حقیقت اور ممکنہ طور پر مفید ذریعہ ضرور ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ سرکاری سطح پر اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی گئی، متعلقہ علاقوں میں خطرات کا جائزہ کیسے لیا گیا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
اس واقعے کی سنگینی اپنی جگہ، مگر کسی ایک واقعے کی بنیاد پر کسی افسر کو مکمل طور پر ناکام قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ اہلکار کس حکم کے تحت روانہ ہوئے، انہیں موصول ہونے والی اطلاع کی نوعیت کیا تھی، ان کے تحفظ کے لیے کیا انتظامات موجود تھے، متعلقہ افسران کو صورت حال سے کب آگاہ کیا گیا اور ردعمل میں کوئی قابلِ شناخت تاخیر یا انتظامی کوتاہی ہوئی یا نہیں۔ اگر کسی سطح پر غفلت سامنے آتی ہے تو اس کی شفاف انکوائری اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
اسی طرح نوشہرہ کینٹ تھانے میں شہریوں کی جانب سے ایک مبینہ چور کو پکڑ کر پہنچانے اور وہاں پولیس اہلکاروں کی عدم موجودگی کی اطلاع بھی تحقیق طلب ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے کہ شہریوں کو مشتبہ شخص تھانے لے جانے کے باوجود ڈیوٹی پر موجود اہلکار نہیں ملے تو یہ پولیس کی نگرانی، ڈیوٹی روسٹر اور شہریوں کو فوری مدد فراہم کرنے کے نظام سے متعلق ایک جائز سوال ہے۔ تاہم اس واقعے کی مکمل تصویر سامنے لانے کے لیے وقوعے کا وقت، تھانے کی صورت حال، متعلقہ اہلکاروں کی موجودگی یا غیر موجودگی کی وجہ اور پولیس حکام کا مؤقف حاصل کرنا ضروری ہے۔ ایک واقعے کی تصدیق کے بغیر پورے ضلع کی پولیس کو غیر فعال قرار دینا صحافتی احتیاط کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو پولیس اور صحافیوں کے درمیان رابطے کا نظام بھی ہے۔ صحافیوں کا کام صرف واقعات کی خبر دینا نہیں بلکہ عوامی مفاد سے متعلق ایسی اطلاعات بھی متعلقہ اداروں تک پہنچانا ہے جو کسی ممکنہ خطرے کو سمجھنے یا اس کا بروقت تدارک کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ کوئی بھی افسر ہر فون خود سننے کا پابند نہیں ہو سکتا، لیکن حساس اطلاع کو ذمہ دار افسر تک پہنچانے کے لیے مؤثر نظام ضرور ہونا چاہیے۔ اگر کسی صحافی کے پاس کسی سنگین واقعے سے متعلق قابلِ اعتبار اطلاع ہو تو اسے مناسب سطح پر سنا جانا اور اس کی اہمیت کے مطابق کارروائی ہونا ضروری ہے۔ اس اصول کا تعلق کسی فرد کی ذاتی عزت یا صحافتی حیثیت سے زیادہ عوامی تحفظ اور ادارہ جاتی ذمہ داری سے ہے۔
نوشہرہ میں جرائم کی صورت حال پر حتمی رائے قائم کرنے کے لیے بھی صرف انفرادی واقعات کافی نہیں۔ ڈی پی او کی تعیناتی کے بعد قتل، اقدامِ قتل، اغوا، ڈکیتی، راہزنی، چوری، سٹریٹ کرائم اور پولیس پر حملوں کے اعداد و شمار سامنے لائے جانے چاہییں۔ ان کا گزشتہ سال کے اسی عرصے سے تقابل کیا جائے، مقدمات کے اندراج اور تفتیش کے نتائج دیکھے جائیں اور پولیس کی کارروائیوں کو ان کے حقیقی اثرات کے ساتھ پرکھا جائے۔ اسی طرح غیر قانونی سونے کی کان کنی کے خلاف مقدمات اور گرفتاریوں کے بجائے اس سرگرمی میں عملی کمی، ضبط شدہ مشینری، عدالتی کارروائیوں اور مبینہ سمگلنگ کے نیٹ ورک کے خلاف نتائج کو بھی جانچنا چاہیے۔
یہ جائزہ کسی خاتون افسر کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں، بلکہ اس اصول کے تحت ہونا چاہیے کہ عوامی عہدہ اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی لاتا ہے۔ اگر کارکردگی تسلی بخش ہے تو اس کا اعتراف ہونا چاہیے، اور اگر شواہد کسی کوتاہی کی نشان دہی کرتے ہیں تو اسے سامنے لانا بھی ضروری ہے۔ یہی اصول تمام افسران، تمام اداروں اور تمام حکومتوں پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔
نوشہرہ کے شہریوں کو تحفظ، پولیس اہلکاروں کو محفوظ ماحول اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مؤثر انتظامی معاونت درکار ہے۔ نظام پور کے اہلکاروں کا معاملہ ہو، دریائے سندھ میں غیر قانونی کان کنی ہو یا تھانوں میں شہریوں کو درپیش مسائل، ہر معاملے میں حقائق کی بنیاد پر جواب دہی ضروری ہے۔ اصل کامیابی کسی افسر کی تشہیر یا تنقید میں نہیں بلکہ جرائم میں کمی، شہریوں کے اعتماد میں اضافے، پولیس اہلکاروں کے تحفظ اور قانون کی یکساں عمل داری میں ہے۔ نوشہرہ کی پولیس قیادت کی کارکردگی کو بھی اسی پیمانے پر جانچا جانا چاہیے۔
واپس کریں