دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
2026 کیلئے پانچ پیش گوئیاں
یاسر پیرزادہ
یاسر پیرزادہ
آہ، وہ بھی کیا زمانہ تھا جب اخبارات میں فلمی اشتہارات شائع ہوتے تھے، بندے کا دل فقط اشتہارات دیکھ کر ہی خوش ہو جاتا تھا۔ سُرخی ہوتی تھی ”دیکھیے آجشبکو، میٹروپول اور پورے سرکٹ میں، سال کی سب سے بڑی فلم، پچیسواں کامیاب ہفتہ۔“ انگریزی فلموں کے اشتہارات مع ترجمہ شائع ہوتے تھے جیسے Above the Law کا ’ترجمہ‘ ابو دی لا! لیکن کچھ انگریزی فلموں کے ساتھ خاص طور سے لکھا ہوتا تھا ”فقط بالغوں کے لیے“ حالانکہ اِن میں بالغوں والی کوئی بات نہیں ہوتی تھی فقط ایک آدھ نارمل سا رومانوی منظر ہوتا تھا جواُس زمانے میں ’پورن‘ کا کام کرتا تھا۔ خیر، یہ دور گزر گیا، اب کیا بالغ اور کیا نا بالغ، ہر کسی کے ہاتھ میں سمارٹ فون ہے، جو دل چاہے کھول کر دیکھ لو۔ اُس زمانے کی شادیاں بھی سادہ ہی تھیں، مہندی، بارات اور ولیمے پہ ختم۔ ڈھولک ہوتی تھی مگر گھر میں لڑکیاں رونق لگا لیتی تھیں۔ مہندی پہ تھوڑا بہت ناچ گانا اور وہ بھی زنانے میں، بس۔ اللّٰہ کی شان دیکھیں، اب ہر شادی پہ لڑکے لڑکیاں ناچ گانے کی کئی کئی دن مشق کرتے ہیں، فلمی انداز میں انہیں کیمرے میں محفوظ کیا جاتا ہے اور پھر نہایت اہتمام کے ساتھ یوٹیوب پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ بزرگ بھی اِس کام میں پیچھے نہیں اور یہ اچھی بات ہے کہ وہ بھی اِس جنریشن کے ساتھ اپنی حسرتیں پوری کر رہے ہیں۔ ایسی درجنوں تبدیلیاں ہیں جو گزشتہ چند دہائیوں میں رونما ہوئیں اور ہم چاہتے اور نا چاہتے ہوئے غیر محسوس انداز میں اُن کا حصہ بنتے چلے گئے۔ آنکھوں کو چندھیا دینے والی شادیاں ہوں، بالغوں کیلئے فلمیں یا کوئی بھی نیا رواج، شروع شروع میں سب عجیب لگتا ہے، مگر جوں جوں یہ چیزیں ’نارمل‘ ہوتی جاتی ہیں لوگوں میں انہیں اپنانے کا حوصلہ بڑھتا جاتا ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں میں جو تبدیلیاں آئیں کسی نے اُن کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا، بڑے بڑے دانشور، لکھاری اور ارب پتی سیانے اِن تبدیلیوں کی پیش گوئی نہیں کرسکے۔ جب نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر قدم رکھا تھا تو یار لوگوں نے پیش گوئیاں کی تھیں کہ اب محض چند سال کی بات ہے انسان مریخ پر ڈی ایچ اے آباد کر لے گا مگر ایسا کچھ نہ ہو سکا، کائنات کو تسخیر کرنے والی پیش گوئی یکسر غلط ثابت ہوئی۔ ابھی نیا سال شروع ہوا ہے، عقل مند لوگ طرح طرح کی پیش گوئیاں کر رہے ہیں کہ اِمسال کیا ہوگا، مصنوعی ذہانت مزید کیا گُل کھلائے گی، انسان ایک سال میں کیا سے کیا بن جائے گا۔ اصولاً مجھے بھی کچھ پیش گوئیاں کر دینی چاہئیں کیونکہ یہ سودا ایسا ہے کہ فوراً بِک جاتا ہے، اگرپیش گوئیاں ٹھیک ثابت نہ ہوں تو نہ کسی کو یاد رہتی ہیں اور نہ کوئی پوچھتا ہے، لیکن اگر خوش قسمتی سے کوئی تیر تُکّا لگ جائے تو وارے نیارے ہو جاتے ہیں، لوگ آپ کو سچ مچ کا دانشور سمجھنے لگتے ہیں۔ اسی لیے میں نے یہ جوا کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میری پہلی پیش گوئی تو یہ ہے کہ آئندہ چند برسوں میں پرائیویسی نامی چڑیا مکمل طور پر ناپید ہو جائے گی۔ ماشااللّٰہ سے ہم سب نے ہی اپنے فون میں موجود ایپس کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ ہمارے مائکروفون اور کیمرے میں جھانک کر دیکھ سکیں، یہ ایپس ہماری باتیں سُن کر جھٹ سے اُس کے مطابق اشتہارات دکھانا شروع کر دیتی ہیں۔ ایک صالح اور باریش بزرگوار نے ایک مرتبہ مجھ سے کہا کہ نہ جانے کیوں میرے فون پر بے تحاشہ فحش اشتہارات دکھائی دیتے ہیں، میں نے انہیں کہا کہ کہیں غلطی سے انہیں کلک نہ کر دیجیے گا وہ زیادہ تر فراڈ ہوتے ہیں۔ نہ جانے کیوں میری بات سُن کر انہیں چُپ سی لگ گئی۔ لیکن اس برس یہ عالم ہوگا کہ ابھی آپ کچھ سوچ ہی رہے ہوں گے کہ مصنوعی ذہانت آپ کو اس کا متبادل پیش کر دے گی۔ یقین نہیں آتا تو اپنے فون سے پوچھ کر دیکھیں کہ آپ کس وقت سوتے اور کب جاگتے ہیں، وہ آپ کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دے گا۔ دوسری پیش گوئی شادیوں کے حوالے سے ہے، شادیاں اب باقاعدہ نیٹ فلکس سیریز بن جائیں گی۔ بھارت میں شادیوں پر فلمی اداکار پیسے دے کر مدعو کیے جاتے ہیں، اب وہ دن دور نہیں جب ہدایتکاروں کو بھی بلایا جائے گا، وہ دلہا دلہن کو بتائیں گے کہ کیسے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ہال میں داخل ہونا ہے، کس انداز میں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھنا ہے اور کب لڑکی نے کیمرے میں دیکھتے ہوئے آنکھوں میں آنسو بھرنے ہیں۔ نکاح خوان کیلئے بھی علیحدہ سے سکرپٹ ہوگا اور کوئی بعید نہیں کہ وہ ہدایتکار کو کہے کہ جناب میں یہ نکاح نہیں پڑھواؤں گا میری تو لائینیں ہی بہت کم ہیں۔ ولیمے پر تبصرہ کرنےکیلئے فوڈ بلاگرز کی فوج ظفر موج بلائی جائے گی جو بوٹیوں کے سائز پر تبصرہ کر رہی ہو گی۔ سادگی ماضی کا قصہ بن جائے گی۔
تیسری پیش گوئی سرکاری افسران کے بارے میں ہے۔ اِن کی سالانہ کارکردگی کی رپورٹ اب ٹِک ٹاک کی بنیاد پر لکھی جائے گی، خاص طور سے پولیس افسران کی۔ جو افسر فلم ’اب تک چھپن‘ کے نانا پاٹیکر کی طرح پرفارم کرے گا وہی جوان قبیلے کی آنکھ کا تارا کہلائے گا۔ جس افسر کی انسٹاگرام ریل کو کم از کم ایک لاکھ لوگ دیکھیں گے اُسی کو فیلڈ میں تعینات کیا جائے گا۔ سرکاری بجٹ میں سوشل میڈیا کیلئے پیسے علیحدہ سے مختص کیے جائیں گے جنہیں اعلیٰ افسران کی پروجیکشن کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ اِس بجٹ سے سوشل میڈیا انفلوئنسر بھرتی کیے جائیں گے جو افسران کو بتائیں گے کہ سائرن بجاتی ہوئی گاڑی سے کیسے اترنا ہے، پس منظر میں کس قسم کی موسیقی لگانی ہے، ماتحتوں نے کس طرح ہٹو بچو کی صدائیں لگانی ہیں اور کیسے موقع پر انصاف فراہم کرنے والی ویڈیوز وائرل کرنی ہیں۔ چوتھی پیش گوئی یہ کہ چاہے دنیا مریخ پر پہنچ جائے یا اے آئی انسانوں پر حکومت کرنے لگے، انسانوں کی کچھ خصلتیں کبھی نہیں بدلیں گی، مردوں کی ہوس، عورتوں کی حسین لگنے کی خواہش اور نوجوانوں میں شارٹ کٹ کے ذریعے دولت مند ہونے کا جنون۔ اور پانچویں اور آخری پیش گوئی یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اتنی ترقی کر جائے گی کہ شاید کالم نگاروں کی بھی ضرورت نہ رہے، آپ بس اے آئی کو حکم دیں گے اور وہ اِس فقیر کے انداز میں لکھا ہوا کالم آپ کے سامنے پیش کر دے گی۔ اور کالم پر ہی کیا موقوف، اے آئی تو اب معشوق کا کردار بھی ادا کر رہی ہے اور سال کے آخر تک اندازہ ہے کہ مصنوعی محبوبہ کی مانگ میں اضافہ ہو جائے گا کیونکہ اے آئی سے تخلیق کی ہوئی محبوبہ نخرے نہیں کرتی جبکہ اصلی تے وڈی ہیر کے نخرے ہی ختم نہیں ہوتے۔ لیکن یہی بات چین بھی نہیں لینے دیتی، وہ محبوب ہی کیا جو نازو انداز اور نخرے نہ دکھائے، سو میری پیش گوئی ہے کہ انسان اے آئی سے چاہے جو بھی کام لے، محبوب حقیقی ہی رکھے گا، مصنوعی صرف ذہانت رہ جائے گی۔
واپس کریں