سہیل وڑائچ
ہونی ہونے سے نہیں رکتی کوّا لاکھ کائیں کائیں کر کے خطرے کی اطلاع دے کوئی سنتا تھوڑا ہے۔ تمام قرائن بتا رہے ہیں کہ نئے صوبے بننے کو ہیں جس طرح مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب پر درجنوں اسباق لکھے گئے، صوبوں کے ٹوٹنے اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر صرف مرثیے نہیں بلکہ ٹوٹنے کے اسباب پر بھی بہت کچھ لکھا جائیگا۔ سیاستدانوں کا مدح خواں ہونے کے باوجود یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ سب سے بڑی وجہ تو یہی ہے کہ ’’اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘‘، صوبہ دار ہی صوبے ٹوٹنے اور نئے صوبے بننے کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جس بھی صوبہ دار نے خود بادشاہ بننے کی کوشش کی اس نے خود اپنی تباہی کو دعوت دی۔ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ وقت کیساتھ اپنے رجواڑوں کے بادشاہ بن گئے ہیں، نیشنل فنانس کمیشن کے ذریعے صوبوں کو جو خطیر رقم ملتی ہے بجائے اسکی منصفانہ تقسیم کے صوابدیدی اختیارات کے تحت اپنی مرضی سے خرچ کیا جاتا ہے، اللّے تللّے اسکے سوا ہیں۔
نئے صوبے بنانے کے حوالے سے کئی طاقتوروں، اہلِ دانش اور ٹیکنوکریٹس سے مباحث و مناقشے ہوئے قلم گھسیٹیے کے دلائل تو سب کو معلوم ہیں کہ وُہ کالموں میں تحریر ہوتے رہے۔ نئے صوبے بنانے کے حامی جو دلائل دیتے ہیں ان میںوہ نظام کے تباہ ہونیکی سب سے بڑی دلیل صوبوں کی مالی و انتظامی کارگزاری کی دیتے ہیں کہ صوبے کے کسی شہر کی سٹرکیں ایسی آئینہ نما ہیں کہ ان میں شکل دیکھی جا سکتی ہے جبکہ پسماندہ علاقوں میں سڑکیں ہی نہیں ہیں، کہیں تو بچے خوشحال اور تندرست ہیں جبکہ غریب بستیوں کے بچے لاغر اور اسکولوں سے باہر ہیں۔ نظام کی تباہی کے حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ ایک حساس صوبے میں وفاقی سروس کے کسی افسر کو پوسٹنگ دینے کی بجائے سب افسر صوبائی سروس کیلئے لگا دیئے گئے ہیں تاکہ وہ صوبیدار کی مرضی اور منشا کے مطابق کام کریں، وفاقی سروس کے قابل افسر وفاق یا دوسرے صوبے میں جانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں اس صوبے نے پولیس کے انسپکٹر جنرل سے اختیارات لیکر خود آرڈرز دینے شروع کر دیئے ہیں اور یہ اسوقت ہو رہا ہے جب یہ صوبہ اور اسکے صوبیدار وفاق کی طرف چڑھائی کی کال دے چکے ہیں، صوبے اور وفاق کے اس طرح کے مسلسل تصادم اس نظام کی تباہی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ وفاق کے ایک ذریعے نے بتایا کہ دہشت گردی کے حوالے سے بھی اس صوبیدار اور انکی ٹیم کا رویہ لاتعلقی کا ہے حالانکہ دہشت گردی ملک کی بقا کیلئے شدید ترین خطرہ ہے۔
وفاقی حکومت ایک اور صوبے کے بارے میں پریشان ہے کہ جہاں کراچی اور حیدرآباد شہر کی تعمیر و ترقی کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔ کراچی اور اندرون سندھ کے تضادات کو حل نہ کرنے میں دو بڑی سیاسی جماعتوں کا کردار سب سے زیادہ ہے ،صوبیدار کی سیاسی مجبوریاں اور سیاسی مفاد اس شہر کو ترجیح دینے نہیں دیتا، اس صوبے میں بھی وفاقی سروس کے افسروں کو اچھی پوسٹنگ دینے سے احتراز کیا جاتا ہے۔ ایک تیسرے صوبے کے صوبیدار بار بار مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں وفاقی سروس کے اچھے افسر چاہئیں مگر وہاں کی امن وامان کی صورتحال اس قدر خراب ہے کہ وہاں ہر کسی کو جان کے لالے پڑے رہتے ہیں۔
سب سے بڑے صوبے کے انتظامی امور باقیوں کے معاملے میں بہتر ضرور ہیں مگر آئیڈیل نہیں۔ جنوبی پنجاب اور بہاولپور کی محرومیاں اور وہاں صوبائی فنڈز کی عدم دستیابی نمایاں مسئلے تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف پیدا تو سرمایہ دار گھرانے میںہوئے ہیں لیکن انکے نظریات میں کہیں کہیں سوشلزم کا تڑکا بھی لگا ہوا ہے، اسی لئے وہ لہک لہک کر جالب کا یہ مصرع دہرایا کرتے تھے ’’ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ شہبازشریف جب غیرسیاسی تھے تب بھی سیکورٹی اور پروٹوکول کے بغیر چھوٹی گاڑی میں سفر کرتے تھے انہیں اپنی امارت اور عہدے شو آف کرنے کا شوق نہیں ہے مگر باقی ہر صوبیدار چاہے بزدار ہو یا کوئی طرحدار، ہر ایک کو پروٹوکول، جہاز اور سیکورٹی کے لاؤ لشکر کیساتھ عوام کے سامنے آنا ہے۔ بڑے بوڑھے کہتے ہیں کسی غریب بستی میں کوئی امیر رہتا ہو تو اسے یاتو ہر وقت خیرات کر کے غریبوں کو خوش رکھنا چاہئے یا پھر اسے غریبوں کے اپنے گھر پر حملے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ امارت اور طاقت کا شو آف ناپسندیدگی اور نفرت پیدا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے صوبیداروں نے اس بات کا کبھی خیال نہیں رکھا کہ انہیں اپنی امارت اور طاقت چھپا کر رکھنی چاہئےکہ اسکی نمائش سے انہیں نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے۔
تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ملک صوبائی خودمختاری کے مسئلے پر ٹوٹا تھا۔ پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان کو مختلف مواقع پر صوبائی خودمختاری کے مسئلےدرپیش رہے تھے، اسی وجہ سے اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے صوبوں اور صوبیداروں کو خودمختار اور طاقتور بنایا گیاجس کے نتیجے میں وفاق غریب، کمزور اور بے بس ہو گیا ۔ موجودہ سیٹ اپ کے تھنک ٹینک پہلے دن سے ہی نئے صوبوں کی بات کر رہے تھے نظام کی تباہی بھی ری سیٹ کا استعارہ تھی۔ ری سیٹ کے حامی ٹیکنوکریٹ کہتے ہیں کہ لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنانے سے یہ نظام ٹھیک نہیں ہوگا اسکا واحد حل نئے صوبوں کا قیام ہے وہ بار بار کہتے ہیں ،یہ نظام کام ہی نہیں کر پا رہا۔ کرپشن، نااہلی تساہل اور سیاسی زور زبردستیاں سماج کا حصہ بن گئی ہیں جس چیز کو بھی ہا تھ لگایا جاتا ہے وہ ٹوٹی ہوئی ہوتی ہے یا ٹوٹنے والی ہوتی ہے اسی صورتحال کیلئے جون ایلیاؔ نے کہا تھا کہ
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اِک چیز ٹوٹ جاتی ہے
نئے صوبے بنانے کے ایک بڑے حامی سے مباحثہ ہوا، حالات کی نزاکت اور حساسیّت کی دلیل دیکر مولانا فضل الرحمن کا یہ بیان زیر بحث آگیا کہ’’ حالات نازک ہیں یہ وقت نئے صوبے بنانے کیلئے مناسب نہیں ہے‘‘ اس مباحثے میں بڑے فیصلے کو فی الحال ملتوی کرنے کے امکان پر بھی بات ہوئی تو نئے صوبوں کا بڑا حامی پھٹ پڑا اور کہا کہ جب بھی نظام کی اصلاح کی کوئی بات ہوتی ہے ایسے حیلے بہانوں سے ٹال دیا جاتا ہے اور پھر وہ اصلاح کبھی ہو نہیں پاتی، اسکا کہنا تھا کہ زوال کی سب سے بڑی وجہ یہی مصلحتیں ہیں پھر اس نے کہا کہ اگر اس معاملے کو اب ملتوی کیا گیا تو پھر یہ کبھی بھی نہیں ہو سکے گا بقول اسکے ابھی سے صوبوں کے اندر اس فیصلے پر عملدرآمد کی اسقدر مزاحمت ہے کہ کشت و خون کا اندیشہ مسترد نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر 20 سال بعد یہ فیصلہ ہوا تب تو یہ ناممکن ہو جائیگا، ہر صوبہ اپنے مفادات کی خاطر ایک ملک کا رویہ اپنالے گا۔ اسی حوالے سے صدر زرداری کے پچھلے دور صدارت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ایک وفاقی وزیر نے انکشاف کیا تھا کہ ایک صوبے کا صوبیدار اسکا کلاس فیلو تھا اور اسی کی سفارش پر اسے صوبیدار بنایا گیا تھا ایک روز اسے یہ حساس اطلاع ملی کہ صوبہ دار ناراض بھی ہیں اور غصے میں پہاڑکی چوٹی پر بھی چڑھے بیٹھےہیں،مسئلہ قومی مفاد کا ہے اور وہ اسکے خلاف اَڑے ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ انکے اسوقت تو ہو ش ہی اڑ گئے جب انہیں اطلاع ملی کہ اس صوبہ دار سے کچھ بعید نہیں کہ وہ غصے میں آکر قوم پرستی کاخول چڑھا لے اور کچھ ایسا اعلان کر دے کہ ملکی سلامتی کو ہی نقصان پہنچ جائے۔ بقول اس وزیر کے اس واقعے کے بعد میں نے صوبہ دار کیلئے اپنی گارنٹی واپس لے لی اور کچھ عرصہ بعد وہ اپنے عہدے سے فارغ بھی ہو گئے۔
ظاہر ہے کہ اوپر دی گئی کہانی اور موقف یکطرفہ ہے اس کیخلاف دلائل بھی ہیں اور اس سے متضاد کہانیاں بھی موجود ہیں لیکن نئے صوبے بنانے کے حوالے سے جن دلائل سے نون اور پیپل کو قائل کیا جارہا ہے ان میں سے نمایاں یہ ہیں۔ اسوقت سب سے بڑا تنازع نئے صوبوں پر ہی ہے اگر یہ طے ہوتا ہے تو فی الحال معاملہ ایسا ہی چلنے کی امید دلائی جا رہی ہے لیکن نظام تبدیل ہو جائے تو چہروں کی تبدیلی کا راستہ تو بن جاتا ہے۔
واپس کریں