سہیل وڑائچ
محمود خان اچکزئی جیسے جہاندیدہ اور کٹر جمہوری سیاست دان کو لیڈر آف دی اپوزیشن مقرر کرنا 2024 کے الیکشن کے بعد پہلا جمہوری، مثبت اور پاپولر فیصلہ ہے مجھے یقین ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور نون لیگی حکومت نے یہ فیصلہ لازماً مقتدرہ کے مشورے سے کیا ہو گا وگرنہ اکیلی نون لیگ یا اسپیکر نے فیصلہ کیا ہوتا تو ہائبرڈ نظام میں زلزلہ آجاتا۔ اب اگر یہ فیصلہ ہائبرڈ نظام کی منظوری سے ہوا ہے تو کیا نظام کی سوچ میں بہت بڑی جوہری تبدیلی آگئی ہے یا کشیدگی میں کمی کی کوشش کا ایک نیا تجرباتی آغاز ہے؟
ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ نظام کی سوچ میں کوئی جوہری تبدیلی ہوئی ہے قرین قیاس یہی ہے محمود خان اچکزئی جیسے صلح جو، امنِ عالم کے خواہاں اور مفاہمت کے پرچارک کو لیڈر آف دی اپوزیشن بنانا ملک میں سیاسی کشیدگی میں کمی کا تجرباتی آغاز ہے لیکن اس فیصلے سے یہ توقع کرنا کہ کل کو عمران خان جیل سے باہر آجائیں گے اور سب کچھ نارمل ہو جائے گا، بڑی خوش فہمی ہو گی۔
محمود خان اچکزئی گزشتہ ہفتے لاہور کے دورے پر تشریف لائے تو ان سے دو تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں۔ شاہی قلعہ کاٹنے والے چودھری غلام عباس اور شائستہ اطوار سرگودھوی صحافی حبیب اکرم کے گھران سے تفصیلی گپ شپ اور سوال جواب کا موقع ملا۔ اس فقیر صحافی کی اچکزئی صاحب سے برسوں سے شناسائی اور محبت کا تعلق ہے، میرے گھر بھی آنے کی مہربانی کر چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کی ملاقاتوں میں بے تکلفی اور صحافیانہ بے اعتنائی سے سخت و نرم سوال پوچھے۔ اچکزئی اپنی چادر کے بل کھولنے پر تیار نہیں تھے مگر ان کے چہرےکی طمانیت اور لہجے کا یقین بتا رہا تھا کہ انہیں دو ہفتے پہلے سے لیڈر آف دی اپوزیشن بننے کا علم تھا۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی پر ان کی تنقید سیاسی تھی۔ ذاتی ہرگز نہ تھی۔ ان کا نواز شریف سے تعلق دو دہائیوں سے زائد پر محیط ہے وہ اپنی چارد کے پیچھے کیا چھپا ہے، ظاہر ہونے دیں یا نہ دیں نواز شریف سے ان کے بالواسطہ رابطے کا تو ہم سب صحافیوں کو علم ہو گیا تھا مگر وہ اس کی تفصیل اپنے گرد اوڑھی چادر کے پیچھے چھپا گئے۔
محمود خان اچکزئی 70کی دہائی میں نو عمری میں ہی سیاست میں آگئے پچاس پچپن سال کےذاتی سیاسی کیریئر کے علاوہ اگر ان کے والد عبدالصمد اچکزئی کے تجربات کوبھی شامل کر لیا جائے تو 75سالہ محمود خان 125سال کے تو ہوں گے۔ نوابزادہ نصر اللّٰہ خان کی طرح وہ بھی جمہوریت، آئین اور پارلیمانی بالا دستی پرمذہب کی حد تک ایمان رکھتے ہیں، قوم پرست سیاست کرتے ہیں مگر نہ کبھی ہتھیار اٹھائے اور نہ کبھی تشدد کی حوصلہ افزائی کی۔ گفتگو دلیل سے کرتے ہیں بین الاقوامی حالات، ماضی کے تجربات، تاریخی واقعات اور پشتون ضرب الامثال سے مزین مکالمہ انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ اچکزئی پشتونوں کا ایک بڑا قبیلہ ہے، اس قبیلے کے بہت سے لوگ تجارت سے وابستہ ہیں۔ محمود خان اچکزئی کا اپنے صوبہ بلوچستان میں ایک صلح کل انسان کا تاثر ہے، وزیر اعلیٰ سرفراز بگتی اور گورنر مندوخیل دونوں ان کے سیاسی مخالف ہیں لیکن اس کے باوجود وہاں کی روایت کے مطابق سماجی اور ذاتی تعلقات بہت ہی دوستانہ ہیں۔ ابھی چند ماہ پہلے کوئٹہ میں محمود خان نے اپنے والد کی سالانہ برسی پر جلسہ کیا تو ملک کی مجموعی کشیدہ فضاء کے پیش نظر حکومت اور مقتدرہ کی طرف سے اس کی اجازت دینے کا امکان تک نہ تھا مگر حکومت نے اپنے رسک پر یہ ا جازت دے دی اور پھر یہ جلسہ امن و امان سے ختم ہو گیا۔ مقتدرہ بھی مطمئن، حکومت شاداں اور اچکزئی سب خوش ہو گئے۔
اچکزئی کو لیڈر آف دی اپوزیشن بنانے سے حکومت کو کیا فائدہ اور کیا نقصان ہو گا؟ پہلا فائدہ تو شاید یہ ہو گا کہ اب سڑکیں گرم ہونے کی بجائے پارلیمنٹ سرگرم ہو گی۔ اپوزیشن کی طاقت ختم ہونے سے نون کو بھی سیاسی نا معتبری کا سامنا تھا اگر اپوزیشن ہی نہ رہے تو حکومت بھی بے وزن ہو جاتی ہے۔ پارلیمان جو مقتدرہ اور سول کے درمیان توازن رکھنے کا آئینی ادارہ ہے اگر اس میں جان نہ ہو تو طاقت کو ’’نو‘‘ کہنے کا امکان بہت ہی کم ہو جاتا ہے۔ سب سے بڑا فائدہ نون لیگی حکومت کے قانونی جواز یعنی Legitimacy کا ہے اپوزیشن لیڈر اور اپوزیشن پارٹیوں کی ایوان میں موجودگی اور اپنی اختلافی آراء کے اظہارسے دِلی نہ سہی مگر عملی طور پر حکومت اور پارلیمان کی Legitimacy قائم ہو جائیگی۔ عمر ایوب لیڈر آف دی اپوزیشن تھے تو وہ مجبور تھے کہ انتہا پسندی کی طرف مائل رہیں کیونکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کے حامیوں کی یہی ڈیمانڈ اور خواہش تھی ۔ محمود خان اچکزئی راستہ نکالنے والے ہیں راستہ بند کرنے والے نہیں اس لیے نون اور مقتدرہ انہیں عمر ایوب سے بہتر سمجھتے ہونگے ۔نون کو واحد نقصان، ایک نئے رسک سے ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر اچکزئی سے محبت، آشنائی اور رابطے بڑھے اور جمہوریت سے پیار نے شدت اختیار کی تو طاقت کے مراکز میں بیٹھے کچھ لوگوں کے ماتھے پر بل پڑنے لگیں گے اور ہائبرڈ بلڈنگ میں دراڑیںپڑنا شروع ہو جائیں گی۔
مقتدرہ نے روش سے ہٹ کر محمود اچکزئی کو لیڈر آف دی اپوزیشن بنانے کا راستہ کیوں دیا؟ یہ وہ سوال ہے جو بڑا ہی معنی خیز اور جواب طلب ہے مقتدرہ کی محمود اچکزئی کیلئے ناپسندیدگی کوئی چھپا ہوا راز نہیں ہے پھر بھی یہ تجربہ کرنا لازماً سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش ہے کہ معاشی ترقی کیلئے سیاسی کشیدگی میں کمی لانا از حد ضروری ہے۔ اب جبکہ مقتدرہ ایک انتہائی طاقت ورپوزیشن میں ہے اس کی طرف سے یہ تجربہ ایک مثبت عمل ہے تاہم اگر اس کے باوجود سڑکیں گرم کرنے کی کوششیں جاری رہیں ،کشیدگی میں کمی نہ آئی ،گالی گلوچ جاری رہی تو پھر اس تجربے کے مخالف غالب آجائیں گے اور شاید امید کی اس کھڑکی کو پھر سے تادیر بند کر دیا جائے۔
تحریک انصاف اور اپوزیشن کیلئےاس فیصلے میں خطرات بھی ہیں اور ثمرات بھی۔ تحریک انصاف اپنی اسٹریٹ پاور دکھا چکی اور اب اس میں سکت نہیں کہ دوبارہ ریاست سے لڑائی مول لے۔ تحریک انصاف خود تو کسی سیاسی جماعت سے مذاکرات کیلئے تیار نہیں لیکن بالواسطہ طور پر یعنی محمود اچکزئی کے راستے سے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کبھی ممکن ہونگے؟ خطرہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان اپنے کسی ساتھی کو نہ اختیار دیتے ہیں اور نہ اس پر مکمل اعتبار کرتے ہیں اگر یہی ریت روایت اچکزئی کے ساتھ بھی روا رکھی گئی تو یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکے گی۔
سیاست کے عبدالخیلی بادشاہ مولانا فضل الرحمٰن سے کیا حکومت اپوزیشن نےمشورہ کیا ہو گا یا بالا ہی بالا یہ فیصلہ ہو گیا؟ اپوزیشن کی بڑی جماعتوں میں تحریک انصاف کے بعد تو مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت کا نمبر ہے۔ تحریک انصاف نے 26 ویںترمیم کے دوران ان سے آنکھ مچولی کی پختون انصافیوں نے ان کی مٹھی چانپی بھی کی مگروہ ان کے جال میں نہ آئے اور اپنی آزادانہ بارگینگ پوزیشن بحال رکھی۔ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ہر دفعہ سیکولر جماعتیں ہاتھ کر جاتی ہیں۔ صدر بننا مولانا نے تھا بن آصف زرداری گئے، لیڈر آف دی اپوزیشن بننا مولانا فضل الرحمٰن کا حق تھا مگر بن محمود خان اچکزئی گئے ہیں۔ اب مولانا اپنی منطق و دلیل سے نیا راستہ نکال کر حکومت اور اپوزیشن دونوں کو چیلنج دینگے یا پھر خاموشی سے محمود خان اچکزئی کے پچھلےبینچوں پر بیٹھ جائیں گے؟
کیا حکومت نے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے بھی محمود خان اچکزئی کے بطور اپوزیشن لیڈر تقرر پر مشورہ کیا ہو گا؟ ماضی کی سیاسی تاریخ دیکھیں تو محمود خان اچکزئی اور آصف علی زرداری کی کبھی گاڑھی نہیں چھنی جبکہ اچکزئی کانواز شریف سے قریبی واسطہ اور رابطہ ضرور رہا ہے یہ تو ہو سکتا ہے کہ رسمی طور پر صدر زرداری یا بلاول بھٹو سے مشورہ کیا گیا ہو یا انہیں اعتماد میں لیا گیاہو وگرنہ پیپلز پارٹی کااس اہم فیصلے میں مرکزی کردار نہیں۔ ثانوی کردار البتہ ہو سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ بڑا سیاسی اور جمہوری فیصلہ آنے والے دنوں کیلئے نیک شگون ثابت ہو۔ سیاسی کشیدگی اور نفرتیں ختم کر کے ہمیں بھی معمول کا آئینی، جمہوری اور خوشحال ملک بننا چاہیے، آپس کی لڑائیوں کو بڑھانے سے کسی کا ذاتی فائدہ توہو سکتا ہے لیکن قوم کا اجتماعی فائدہ امن، مصالحت اورمذاکرات میں ہے۔ اگر بھارت سے جنگ کے بعد سیز فائر ہو سکتاہے توکیا سیاست کی بندوقیں ٹھنڈی نہیں ہو سکتیں؟؟
واپس کریں