دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پرل ہاربر سے خلیج فارس تک
ساجد علی شمس
ساجد علی شمس
تاریخ اکثر خاموشی سے انسانوں کو خبردار کرتی رہتی ہے مگر طاقت کے نشے میں دھت قومیں اکثر اس کی آواز سننے میں دیر کر دیتی ہیں۔ آج کل مشرق وسطیٰ ایک خوفناک جنگ کی لپیٹ میں ہے۔جنگوں کی تاریخ میں ایک واقعہ ایسا بھی ہے جس نے نہ صرف دوسری عالمی جنگ کا رخ بدل دیا تھا بلکہ عالمی سیاست کی سمت بھی ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دی تھی۔ یہ واقعہ 7 دسمبر 1941 کو پیش آنے والا پرل ہاربر کا حملہ تھا۔ آج جب خلیج فارس میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور امریکہ ایران کے جزیرہ خارگ پر فوج اتارنے کی تیاری کر رہا ہے اور اس جزیرے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے تو پولیٹیکل سائنس کا طالب علم ہونے کے ناطے ذہن میں فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا دوبارہ کسی پرل ہاربر جیسے اچانک اور تباہ کن موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے یا اس بار اس سے کچھ مختلف ہونے والا ہے جو نہیں ہونا چاہیے۔ اٹیک آن پرل ہاربر، دراصل دوسری عالمی جنگ کا وہ لمحہ تھا جس نے امریکہ کو براہِ راست جنگ میں دھکیل دیا۔ اس وقت سے پہلے امریکہ بظاہر جنگ سے دور رہنے کی پالیسی اختیار کیے ہوئے تھا۔ لیکن جاپان کو خدشہ تھا کہ اگر امریکہ نے بحرالکاہل میں اپنی بحری طاقت کو مضبوط کرلیا تو اس کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے راستے میں بڑی رکاوٹ پیدا ہو جائے گی۔ اسی خوف اور سٹریٹجک سوچ کے تحت جاپان نے ہوائی کے جزیرے میں واقع امریکی بحری اڈے پر اچانک فضائی حملہ کر دیا۔ اس حملے میں امریکی بحری بیڑے کو شدید نقصان پہنچا۔ کئی جنگی جہاز تباہ ہوئے، سینکڑوں طیارے ناکارہ ہو گئے اور تقریباً 2400 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ یہ حملہ امریکہ کے لیے ایک شدید صدمہ تھا۔ اگلے ہی دن فرینکلن ڈی روزویلٹ نے کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے اس دن کو "تاریخ میں بدنامی کا دن" قرار دیا اور اسی خطاب کے بعد امریکہ باضابطہ طور پر دوسری عالمی جنگ میں شامل ہو گیا۔ جاپان نے یہ حملہ اس امید کے ساتھ کیا تھا کہ امریکہ وقتی طور پر کمزور ہو جائے گا اور بحرالکاہل میں جاپان کی برتری قائم ہو جائے گی۔ مگر تاریخ نے اس کے برعکس نتیجہ دکھایا۔ امریکہ نے نہ صرف جنگ میں بھرپور حصہ لیا بلکہ چند ہی برسوں میں اپنی صنعتی اور عسکری طاقت کے بل پر جاپان کو شکست دے دی۔ بالآخر 1945 میں امریکہ نے جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرا کر جنگ کا خاتمہ کر دیا۔ اس طرح ایک اچانک حملہ جاپان کے لیے وقتی کامیابی ضرور تھا مگر طویل مدت میں وہ اس کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔ آج جب خلیج فارس کی طرف دیکھا جائے تو صورتِ حال مختلف ہونے کے باوجود کچھ پہلو حیرت انگیز حد تک مشابہ دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف سپر پاور امریکہ ہے اور دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کی ایک بااثر ریاست ایران ہے۔ ایران خلیج فارس میں کئی سٹریٹجک جزائر رکھتا ہے جو نہ صرف عسکری اہمیت رکھتے ہیں بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی نہایت حساس سمندری راستوں کے قریب واقع ہیں۔ خلیج فارس دراصل دنیا کی توانائی کی سپلائی کا ایک اہم مرکز ہے۔ اسی خطے میں آبنائے ہرمز بھی واقع ہے جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کا تیل گزرتا ہے۔ اگر اس خطے میں کوئی بڑی فوجی کارروائی ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایک یا دو ملکوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔کیونکہ ایران اس وقت تک مکمل ثابت قدم ہے اور کسی طرح سے بھی ہار ماننے کو تیار نہیں۔ایسی صورت میں امریکی قبضہ ورلڈ پالیٹکس کی سمت کو تبدیل بھی کرسکتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ ایرانی انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل کشیدہ رہے ہیں۔ پابندیاں، سفارتی تنازعات اور کبھی کبھار عسکری دھمکیاں اس تعلق کی نمایاں خصوصیات رہی ہیں۔ گزشتہ برسوں میں کئی ایسے واقعات بھی پیش آئے جنہوں نے اس کشیدگی کو مزید بڑھا دیا جیسے جنرل قاسم سلیمانی کی امریکہ کے ہاتھوں شہادت اور اب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت۔ اگر واقعی امریکہ ایرانی جزیرے پر فوج اتارنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ ایک نہایت حساس قدم ہوگا۔ عسکری ماہرین کے مطابق اس طرح کی کارروائی محض ایک فوجی مہم نہیں بلکہ ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔ ایران کی جغرافیائی پوزیشن، اس کی میزائل صلاحیت اور خطے میں اس کے اتحادی ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی تصادم کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ یہاں پر پرل ہاربر کا تاریخی سبق اہم ہو جاتا ہے۔ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اچانک حملے کبھی کبھار فوری فائدہ تو دے دیتے ہیں مگر وہ اکثر ایک بڑے ردعمل کو جنم دیتے ہیں جس کا نتیجہ غیر متوقع اور طویل المدتی ہوتا ہے۔ جاپان نے بھی یہی سوچا تھا کہ ایک تیز اور فیصلہ کن حملہ امریکہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دے گا مگر اس کے نتیجے میں امریکہ پوری قوت کے ساتھ جنگ میں داخل ہو گیا۔ اگر آج کسی بھی فریق کی طرف سے کوئی ایسا اقدام ہوتا ہے جو دوسرے ملک کے لیے اچانک اور جارحانہ ہو تو اس کا ردعمل بھی شدید ہو سکتا ہے۔ موجودہ دور میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی۔ اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں، سفارت کاری اور یہاں تک کہ عام شہریوں کی زندگیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اگر امریکہ واقعی خارگ جزیرہ پر قبضے کی کوشش کرتا ہے تو ایران کا ردعمل کیا ہوگا؟ یہ سوال آج پوری دنیا کے تجزیہ کاروں کے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ ایران اب تک مسلسل دباؤ، پابندیوں اور عسکری خطرات کے باوجود جھکا نہیں۔ ایک طرف امریکہ جیسی سپر پاور ہے اور دوسری طرف اس کا قریبی اتحادی اسرائیل بھی ایران کے خلاف سخت موقف رکھتا ہے مگر اس کے باوجود ایران اپنے موقف پر ڈٹا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے فتح کے اعلانات اور سخت بیانات بھی عالمی سیاست کا حصہ بنے ہوئے ہیں لیکن میدانِ حقیقت میں حالات ابھی تک مکمل طور پر کسی ایک طرف جھکتے نظر نہیں آتے۔ ایسے میں اگر خلیج فارس کے اس اہم جزیرے پر کوئی بڑا قدم اٹھایا جاتا ہے تو یہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک ایسا موڑ بھی بن سکتا ہے جو طاقت کے توازن کو بدل دے۔ سوال یہی ہے کہ کیا ایران کا ممکنہ ردعمل امریکہ کو کسی غیر متوقع ہزیمت سے دوچار کر سکتا ہے یا پھر عالمی طاقت کا پلڑا بھاری رہے گا؟ تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ طاقتور فریق نے جنگ کا آغاز تو کر دیا مگر انجام اس کے اندازوں سے مختلف نکلا۔ آج بھی یہی سوال فضاؤں میں معلق ہے کہ خارگ آخر کس کے حق میں فیصلہ دے گا۔ اس سوال کا جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں کیونکہ تاریخ کے اس باب کا آخری جملہ ابھی لکھا جانا باقی ہے اور یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
واپس کریں