ساجد علی شمس
پہلی جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد جب بندوقیں خاموش ہوئیں تو دنیا نے یہ سمجھا کہ شاید انسان نے تباہی سے کوئی نہ کوئی سبق سیکھ لیا ہوگا۔ مگر حقیقت اس کے بلکل برعکس نکلی۔ بڑی بڑی سلطنتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں۔ سرحدیں بدل گئیں اور عالمی سیاست میں ایک نئی فکری کشمکش جنم لینے لگی۔ مؤرخ ایرک ہابس بام نے اپنی معروف کتاب The Age of Extremes میں لکھا ہے کہ بیسویں صدی دراصل نظریاتی انتہاؤں کی صدی تھی جہاں مختلف نظریات ایک دوسرے سے ٹکراتے رہے اور اسی ٹکراؤ نے دنیا کی سیاست کو نئی شکل دی۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد جرمنی کو سخت شرائط کے تحت معاہدہ ورسائے پر دستخط کرنا پڑے۔ اس معاہدے نے جرمن معاشرے میں شدید احساسِ محرومی پیدا کیا۔ یہی وہ ماحول تھا جس میں ایڈولف ہٹلر جیسا نام نہاد لیڈر ابھرا۔ اس نے جرمن قوم پرستی اور نسلی برتری کے نظریے کو بنیاد بنا کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جس نے چند ہی برسوں میں یورپ کو دوبارہ جنگ کی طرف دھکیل دیا۔ برطانوی مؤرخ اینتھنی بیور اپنی کتاب The Second World War میں لکھتے ہیں کہ دوسری جنگِ عظیم صرف سرحدوں یا علاقوں کی جنگ نہیں تھی بلکہ دراصل مختلف نظریات کی جنگ تھی۔ ایک طرف فاشزم تھا اور دوسری طرف جمہوری دنیا کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔ 1945 میں دوسری جنگِ عظیم ختم ہوئی تو دنیا ایک مرتبہ پھر تقسیم ہو گئی مگر اس بار تقسیم کا معیار جغرافیہ نہیں بلکہ نظریہ تھا۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی تھے جو سرمایہ دارانہ نظام معیشت اور جمہوریت کے حامی تھے جبکہ دوسری طرف سوویت یونین تھا جو اشتراکیت کا علمبردار بن کر سامنے آیا۔ یہی نظریاتی تصادم بعد میں سرد جنگ کی صورت اختیار کر گیا۔ تقریباً پینتالیس سال تک دنیا اسی کشمکش کے سائے میں رہی اور کئی خطے اس جنگ کے پراکسی میدان بن گئے۔ امریکی مؤرخ جان لیوس گیڈس نے اپنی کتاب The Cold War میں لکھا ہے کہ سرد جنگ دراصل دو عالمی نظریات کے درمیان عدم اعتماد کی جنگ تھی۔ ایک طرف آزاد منڈی اور جمہوریت کا تصور تھا جبکہ دوسری طرف ریاستی کنٹرول اور طبقاتی مساوات کا نظریہ پروان چڑھ رہا تھا۔ اسی نظریاتی تصادم نے کوریا، ویتنام اور افغانستان جیسے ممالک کو عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بنا دیا۔1991 میں جب سوویت یونین کا انہدام ہوا تو بہت سے لوگوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ اب نظریات کی جنگ ختم ہو چکی ہے۔ امریکی مفکر فرانسس فوکویاما نے اپنی کتاب The End of History and the Last Man میں یہ نظریہ پیش کیا کہ لبرل جمہوریت اب انسانی سیاسی ارتقا کی آخری منزل بن چکی ہے۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ تاریخ کبھی ختم نہیں ہوتی اور نظریات کی کشمکش بھی ختم نہیں ہوسکتی۔
اکیسویں صدی میں عالمی سیاست نے ایک نئی صورت اختیار کر لی ہے۔ اب جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ معیشت، سفارت کاری، میڈیا، بیانیے اور نظریات کی سطح پر بھی لڑی جاتی ہیں۔ امریکی ماہرِ سیاسیات سیموئیل ہنٹنگٹن نے اپنی معروف کتاب The Clash of Civilizations میں یہ خیال پیش کیا تھا کہ مستقبل کی جنگیں تہذیبوں اور نظریات کے درمیان ہوں گی۔ اگر ہم آج کی دنیا پر نظر ڈالیں تو یہ پیش گوئی کسی حد تک درست محسوس ہوتی ہے۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اس نظریاتی کشمکش کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی صرف جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ نظریاتی اختلاف بھی ہے۔ ایران خطے میں مزاحمت کی سیاست کا علمبردار بننے کی کوشش کرتا ہے جبکہ اسرائیل اپنی نام نہاد سلامتی اور علاقائی برتری کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ اس کشمکش میں اکثر امریکہ بھی ایک اہم کردار کے طور پر سامنے آتا ہے بلکہ اسرائیل کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔
حالیہ برسوں میں اس کشیدگی نے کئی بار خطرناک شکل اختیار کی ہے۔ ڈرون حملے، میزائل اٹیک، سائبر کارروائیاں اور خفیہ آپریشن اس کشمکش کا حصہ بن چکے ہیں۔ بعض مبصرین کے مطابق حال ہی میں اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ کارروائیوں اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں نے خطے میں ایک نئی جنگ کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ خلیج کے علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے خدشات نے عالمی سیاست کو ایک بار پھر اسی سوال کے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ کیا دنیا ایک نئے نظریاتی تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔
امریکی صحافی رابن رائٹ اپنی کتاب Rock the Casbah میں لکھتی ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو صرف فوجی طاقت یا جغرافیہ سے نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ اس کے پیچھے موجود نظریات اور شناخت کی سیاست کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے تنازعات اکثر طویل اور پیچیدہ شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اگر گزشتہ ایک صدی کی تاریخ کو غور سے دیکھا جائے تو ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ جنگوں کی شکلیں ضرور بدلتی رہی ہیں مگر ان کی جڑ میں نظریات ہی موجود رہے ہیں۔ کبھی قوم پرستی نے دنیا کو جنگ کی طرف دھکیلا، کبھی فاشزم اور جمہوریت آمنے سامنے آئے اور کبھی سرمایہ داری اور اشتراکیت نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ لیکن میرا ذاتی مشاہدہ یہ ہے کہ دنیا کی سیاست کو سمجھنے کے لیے صرف ہتھیاروں یا فوجی طاقت کو دیکھنا کافی نہیں۔ اصل کہانی ہمیشہ نظریات کی ہوتی ہے۔ قومیں پہلے اپنے ذہنوں میں جنگ ہارتی یا جیتتی ہیں، میدانِ جنگ تو اس کے بعد آتا ہے۔ آج اگر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف میزائلوں اور ڈرونز کی لڑائی نہیں بلکہ بیانیوں، نظریات اور طاقت کے تصورات کی جنگ بھی ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ جو قومیں صرف ہتھیاروں کی طاقت پر بھروسہ کرتی ہیں وہ شاید وقتی کامیابی حاصل کر لیں مگر تاریخ میں اصل اثر وہی قومیں چھوڑتی ہیں جو اپنے نظریے کو مضبوط بناتی ہیں اور اسے دنیا کے سامنے ایک واضح بیانیے کی صورت میں پیش کرتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نظریات کی جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ صرف اپنا میدان بدلتی رہتی ہے، اپنے حریف بدلتی ہے، مقصد سے پیچھے نہیں ہٹتی۔
تحریر: ساجد علی شمس (تحصیل چیچہ وطنی ضلع ساہیوال)
ایم اے پولیٹیکل سائنس (یونیورسٹی آف سرگودھا)۔
ایس ٹی آئی (گورنمنٹ ہائی سکول چیچہ وطنی)۔
واپس کریں
ساجد علی شمس کے دیگرکالم اور مضامین