دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایک نیا عالمی نظام ترتیب دیا جائے گا
صولت پاشا
صولت پاشا
ایران کا مسئلہ یہ ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں، اسے یہ گارنٹی ملنا چاہئے کہ اس پر دوبارہ حملہ نہیں کیا جائے گا۔۔۔کیوں جس طرح اس نے اس بار مقابلہ کیا ہے وہ چھ ماہ یا سال بعد دوبارہ حملے کی صورت میں ایسا مقابلہ نہیں کرسکے گا۔۔۔
جبکہ گلف ممالک کو یہ پتا ہے کہ اگر ایران کو اس وقت کوئی فیس سیونگ دے کے چھوڑ دیا جاتا ہے تو وہ اپنی رہی سہی طاقت سے اگر اسرائیل پر وار نہ بھی کر سکے لیکن گلف ممالک پر تو حملے کر ہی سکتا ہے۔اسکو ہرمز کو کنٹرول کرنے کی اپنی طاقت سے دنیا کو انرجی کے بحران میں مبتلا کرنے کی صلاحیت کا پورا علم ہو چکا ہے اور وہ ہر چھوٹے بڑے مسئلے میں بار بار اس صلاحیت کا استعمال ضرور کرے گا، جس سے گلف کی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا، اس لئے گلف ممالک امریکہ سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ایران کو ادھ مؤا یا کچل کر ہی جنگ سے نکلے گا اور اس کو ہرمز کا کنٹرول علاقے کے باقی ممالک سے شئر کرنے پر مجبور کر دے گا-
امریکہ ایران سے لانگ رینج میزائیل جو اسرائیل کے لئے خطرہ ہو سکتے ہیں، نیوکلئر صلاحیت کے ساتھ اس صلاحیت کو بھی محدود کرنا چاہے گا۔۔۔اور گلف کے تیل پر ایران کے کنٹرول ختم کرنے کے لئے ہرمز کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہے گا۔۔ایران ایسے کسی انتظام سے بہتر یہی سمجھے گا کہ پھر اسکے زندہ رہنے کا فائدہ ہی کیا ہے۔۔اگر ایسا مان لے تو پھر ہمیشہ اسے ایک ڈرپوک چوہے کی طرح رہنا ہوگا جو اس کی پاسبان قیادت کو بالکل قبول نہیں-
اس لئے صاحبو مجھے تو جنگ بندی عارضی لگتی ہے۔۔مکمل جنگ نہ صرف شروع ہو گی بلکہ عرب ریاستیں بھی شامل ہو جائیں گی، اور جنگ میں وہ ہتھیار بھی استعمال ہو جائیں جو عظیم تباہی لایا کرتے ہیں۔۔ اور عین ممکن ہے پاکستان کو بھی نہ چاہتے ہوئے اپنے عرب اتحادی کا ساتھ دینا ہو۔۔کیوں پاکستان کی معیشت پہلے ہی بہت کمزور ہے اور جنگ طویل ہونے کی صورت میں ایک نہایت ہی بڑے معاشی بحران کا سامنا ہو گا جس کی وجہ سے وہ عربوں اور امریکہ کو انکار کی پوزیشن میں نہیں رھ سکے گا۔۔
یہ جنگ ایران کی مکمل تباہی تک جاری رہے گی۔۔۔اسکے بعد ایک نیا عالمی نظام ترتیب دیا جائے گا۔۔پھر شاید کسی انتظام کے تحت پاکستان کو کچھ بہتر مقام مل جائے۔۔
واپس کریں