کرنل(ر)انعام الرحیم خواجہ
صدر نکولس مادورو کےاغوا کی خبرسامنے آنےکےچند ہی گھنٹوں بعد،شی جن پنگ نےپولیٹ بیوروکی قائمہ کمیٹی کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا،جو ٹھیک120 منٹ تک جاری رہا،نہ کوئی بیان دیا۔ نہ کوئی سفارتی دھمکی۔۔۔۔بس وہ خاموشی، جو طوفان سے پہلے چھا جاتی ہے۔۔
اسی اجلاس کےنتیجے میں وہ حکمتِ عملی فعال کی گئی جسے چینی ماہرین "جامع غیر متوازن ردِعمل" (Comprehensive Asymmetric Response) کہتے ہیں۔ اس کا مقصد مغربی نصف کرے میں چین کے اتحادیوں کے خلاف جارحیت کا جواب دینا تھا، اور وینزویلا کو لاطینی امریکا میں چین کیلیےامریکا کے “پچھواڑے” میں ایک اسٹریٹجک مورچہ قرار دیا گیا۔۔
پہلا مرحلہ: مالی وار
چین کےردِعمل کا پہلامرحلہ 4 جنوری کو صبح 9 بج کر 15 منٹ پر شروع ہوا،جب پیپلز بینک آف چائنا نے خاموشی سے اعلان کیا کہ امریکی دفاعی شعبے سے منسلک تمام کمپنیوں کے ساتھ امریکی ڈالر میں لین دین عارضی طور پر معطل کردیا گیا ہے۔۔
بوئنگ، لاک ہیڈ مارٹن، ریتھیون اور جنرل ڈائنامکس کو اسی صبح یہ خبر ملی کہ چین کے ساتھ انکے تمام مالیاتی لین دین بغیر کسی پیشگی اطلاع کے منجمد کر دیے گئے ہیں۔۔
اسی دن 11بج کر43منٹ پر اسٹیٹ گرڈ کارپوریشن آف چائنا،جو دنیا کے سب سے بڑے بجلی کے نظام کو کنٹرول کرتی ہے۔۔۔۔۔۔نے امریکی الیکٹریکل آلات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ اپنے تمام معاہدوں کے تکنیکی جائزے کا اعلان کیا، جو اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ چین امریکی ٹیکنالوجی سے علیحدگی اختیار کر رہا ہے۔۔
توانائی کو بطور ہتھیار استعمال
اسی دن دوپہر2بج کر17منٹ پرچین نیشنل پیٹرولیم کارپوریشن۔۔۔۔۔۔جو دنیا کی سب سے بڑی سرکاری تیل کمپنی ہے، نے اپنی عالمی سپلائی لائنزکی اسٹریٹجک تنظیمِ نو کا اعلان کیا۔۔۔یوں چین نے مؤثر طور پر اپنا توانائی ہتھیار دوبارہ فعال کردیا۔۔
اس کے تحت امریکی ریفائنریوں کےساتھ47ارب ڈالر سالانہ کے تیل کے معاہدے منسوخ کردیے گئے۔ وہ تیل جو پہلے امریکہ کے مشرقی ساحل تک پہنچتا تھا، اب بھارت،برازیل،جنوبی افریقہ اورگلوبل ساؤتھ کےدیگر شراکت دار ممالک کو منتقل کر دیا گیا۔۔
نتیجتاً ایک ہی تجارتی دن میں تیل کی قیمتوں میں 23 فیصد اضافہ ہو گیا۔۔۔۔۔۔اس اقدام کا سب سے اہم اسٹریٹجک پیغام یہ تھا کہ چین بغیرایک گولی چلائے امریکہ کی توانائی سپلائی کو مفلوج کرسکتا ہے۔۔
عالمی تجارت پر کاری ضرب
ایک اور اقدام کے تحت چائنا اوشن شپنگ کمپنی، جو عالمی شپنگ کی تقریباً40فیصدصلاحیت کو کنٹرول کرتی ہے، نے جسے وہ "آپریشنل روٹ آپٹیمائزیشن" کہتی ہے، نافذ کر دی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ چینی مال بردار جہازوں نے امریکی بندرگاہوں سےگریز کرنا شروع کر دیا۔۔
لانگ بیچ، لاس اینجلس، نیویارک اور میامی جیسی بندرگاہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔،جو اپنی سپلائی چین کیلیے چینی لاجسٹکس پر انحصار کرتی ہیں اچانک اپنی معمول کی 35 فیصد کنٹینر ٹریفک سے محروم ہو گئیں۔ یہ صورتحال والمارٹ، ایمازون اور ٹارگٹ جیسے امریکی اداروں کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی، جو چین میں تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد کے لیے انہی چینی جہازوں پر انحصار کرتے ہیں۔چند ہی گھنٹوں میں ان کی سپلائی چین جزوی طور پر بیٹھ گئی۔۔
ان تمام اقدامات کا سب سے چونکا دینے والا پہلو یہ تھا کہ انہیں بیک وقت نافذ کیا گیاجس سے ایک ایسا سلسلہ واراثر پیدا ہوا جس نے معاشی نقصان کو کئی گنا بڑھا دیا۔۔۔۔۔۔یہ بتدریج دباؤ نہیں بلکہ ایک نظامی جھٹکا تھا،جس کا مقصد امریکا کی جوابی صلاحیت کو مفلوج کرنا تھا۔۔
گلوبل ساؤتھ کی متحرک صف بندی
امریکی حکومت ابھی اس صدمےسے سنبھلی بھی نہ تھی کہ چین نے ایک نیا مرحلہ شروع کر دیا: گلوبل ساؤتھ کو متحرک کرنا۔۔
اسی دن 4جنوری کو شام 4 بج کر 22 منٹ پر چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نےبرازیل،بھارت،جنوبی افریقہ، ایران، ترکی، انڈونیشیا اور مزید 23 ممالک کو فوری ترجیحی تجارتی شرائط کی پیشکش کی—بشرطیکہ وہ اس وینزویلاحکومت کوتسلیم نہ کریں جو امریکہ کی مجرمانہ حمایت سے اقتدار میں آئے۔۔
چوبیس گھنٹوں سے بھی کم وقت میں 19 ممالک نے یہ پیشکش قبول کر لی۔ سب سے پہلے برازیل، پھر بھارت، جنوبی افریقہ اور میکسیکو نے حامی بھری۔ یہی کثیر قطبی دنیا کی عملی تصویر ہے۔۔۔۔۔۔چین نے معاشی مراعات کو ہتھیار بنا کر فوری طور پر ایک امریکا مخالف اتحاد تشکیل دے دیا۔۔
مالیاتی نظام پر فیصلہ کن ضرب
اصل دھچکا 5 جنوری کو لگا، جب بیجنگ نے مالیاتی ہتھیار فعال کیا۔چین کے کراس بارڈر انٹر بینک پیمنٹ سسٹم (CIPS) نے اعلان کیا کہ۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنی آپریشنل صلاحیت میں توسیع کر رہا ہے تاکہ وہ واشنگٹن کے زیرِکنٹرول سوئفٹ نظام کوبائی پاس کرنےوالی کسی بھی عالمی لین دین کو سنبھال سکے۔۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ چین نے دنیا کو مغربی مالیاتی نظام کا ایک مکمل متبادل فراہم کر دیا ہے۔ اب کوئی بھی ملک، کمپنی یا بینک جو امریکی مالیاتی ڈھانچے پر انحصار کے بغیر تجارت کرنا چاہے، چینی نظام استعمال کر سکتا ہے—جو 97 فیصد سستا اور زیادہ تیز ہے۔۔
ردِعمل فوری اور وسیع تھا۔پہلے 48 گھنٹوں میں 89 ارب ڈالر کے لین دین اس نظام کے ذریعے انجام پائے۔ 34ممالک کےمرکزی بینکوں نےاس نظام میں آپریٹنگ اکاؤنٹس کھول لیےجو امریکی مالیاتی طاقت کے ایک بڑے ستون کی تیز رفتار ڈی ڈالرائزیشن کی علامت ہے۔۔
ٹیکنالوجی پر کاری وار
ٹیکنالوجی کے محاذ پر چین—جو دنیا کی 60 فیصد نایاب زمینی دھاتوں (Rare Earths) کی پیداوار کنٹرول کرتا ہے،جو سیمی کنڈکٹرز اور الیکٹرانک آلات کے لیے ناگزیر ہیں،نےاعلان کیاکہ صدر نکولس مادورو کے اغوا کی حمایت کرنے والے ممالک کو ان دھاتوں کی برآمدات عارضی طور پر محدود کر دی جائیں گی۔۔
ایپل، مائیکروسافٹ، گوگل۔۔۔۔۔۔اور انٹیل سمیت تمام امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں، جو اہم پرزہ جات کے لیے چینی سپلائی چین پرانحصارکرتی ہیں،شدیدتشویش میں مبتلا ہو گئیں، کیونکہ ان کے پیداواری نظام چند ہی ہفتوں میں مفلوج ہوسکتے ہیں۔۔
چین کا ہر اقدام امریکی سلطنت کے ”معاشی دل“ پر کاری ضرب تھا۔۔۔۔۔“چین نے وینزویلا کے لیے کیا کیا؟” یہ سوال حکومت کے دوست اور دشمن دونوں کرتے ہیں۔۔
مندرجہ بالا واقعات اس کا جواب ہیں: چین اعلانِ جنگ کے بغیر بھی جنگ لڑنا جانتا ہے۔۔
واپس کریں